پاکستان کا آئینی و پارلیمانی نظام اس اصول پر استوار ہے کہ اقتدار عوام کی امانت ہے اور اس کا استعمال منتخب نمائندوں کی اعتماد سے مشروط ہوتا ہے۔ اسی تصور کے تحت آئینِ پاکستان میں وزیرِ اعظم سمیت اعلیٰ ریاستی عہدے داروں کے احتساب کا ایک واضح اور جمہوری طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے، جسے تحریکِ عدمِ اعتماد یعنی (Motion of no confidence) کہا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف پارلیمان کی بالادستی کی علامت ہے بلکہ جمہوری نظام کے تسلسل اور شفافیت کو بھی یقینی بناتا ہے۔
وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد پر رائے شماری کے لیے قومی اسمبلی کے کم از کم 20 فی صد، یعنی 68 اراکین کے دستخطوں کے ساتھ ایوان کا اجلاس بلانے کی تحریری درخواست جمع کرائی جاتی ہے۔ اس درخواست کی بنیاد پر تحریک پر رائے شماری کے لیے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 54 کے مطابق، سپیکر قومی اسمبلی ریکوزیشن موصول ہونے کے بعد کم از کم 07 دن اور زیادہ سے زیادہ 14 دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا پابند ہوتا ہے۔ اجلاس طلب کیے جانے کے بعد سیکرٹری قومی اسمبلی تحریکِ عدمِ اعتماد کا باضابطہ نوٹس تمام اراکینِ اسمبلی کو ارسال کرتا ہے، اور یہ قرارداد اگلے ہی دن، یعنی پہلے ورکنگ ڈے پر ایوان میں پیش کی جاتی ہے۔
قواعد کے مطابق جس دن تحریکِ عدمِ اعتماد پیش کی جاتی ہے، اس دن سے کم از کم 03 دن مکمل ہونے سے قبل اور 07 دن گزرنے کے بعد اس پر ووٹنگ نہیں ہو سکتی۔ اس وقفے کا مقصد اراکینِ اسمبلی کو غور و فکر، مشاورت اور سیاسی موقف واضح کرنے کا آئینی موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔
وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد پر رائے شماری اوپن ووٹ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ قانون کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی پہلے گھنٹی بجائی جاتی ہے تاکہ اگر کوئی رکن ایوان سے باہر ہو، تو وہ اسمبلی ہال میں داخل ہو سکے۔ اس کے بعد ایوان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ تحریک کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین ایک دروازے سے جب کہ اس کی مخالفت کرنے والے دوسرے دروازے سے باہر نکلتے ہیں۔ اراکین کے باہر نکلنے کے ساتھ ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہو جاتی ہے، اور جب اسمبلی ہال مکمل طور پر خالی ہو جاتا ہے، تو رائے شماری کا عمل مکمل تصور کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں تمام اراکین دوبارہ ایوان میں داخل ہوتے ہیں اور سپیکر قومی اسمبلی نتیجے کا باضابطہ اعلان کرتا ہے۔
اگر وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد کامیاب ہو جائے، تو سپیکر قومی اسمبلی تحریری طور پر اس کا نتیجہ صدرِ مملکت کو ارسال کرتا ہے، جس کے بعد سیکرٹری قومی اسمبلی کی جانب سے باقاعدہ گزٹڈ نوٹی فکیشن جاری کیا جاتا ہے۔
قارئین، اگر سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد پیش کی جائے، تو اس پر رائے شماری خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ اسمبلی کے قواعد کے مطابق اس نوعیت کی رائے شماری کے دوران سپیکر یا ڈپٹی سپیکر اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے۔ مزید یہ کہ تحریکِ عدمِ اعتماد کے لیے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس تحریک کے علاوہ کسی اور نوعیت کی کارروائی یا قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔ اگر سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک کامیاب ہو جائے، تو اس کا نتیجہ بھی گزٹڈ نوٹی فکیشن کے ذریعے سرکاری طور پر جاری کیا جاتا ہے۔
قارئین، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تحریکِ عدمِ اعتماد محض ایک سیاسی ہتھیار نہیں بلکہ ایک مکمل آئینی و جمہوری عمل ہے، جو منتخب حکومت کو پارلیمان کے سامنے جواب دہ بناتا ہے۔ یہ طریقۂ کار اس امر کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ اقتدار شخصی نہیں بلکہ اجتماعی اعتماد سے جڑا رہے، اور یہی کسی بھی جمہوری ریاست کی اصل روح اور طاقت ہوتی ہے۔
_______________________________
راقم کی یہ تحریر آج یعنی 13 جنوری 2023ء روزنامہ آزادی سوات میں پہلی بار شائع ہوئی ہے۔ ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: