سرِ دست چند خبریں مُلاحظہ ہوں:
☆ پشاور میں فائرنگ سے ”گل پانڑہ“ نامی خواجہ سرا جاں بحق، جب کہ ساتھی چاہت شدید زخمی
☆ اسلام آباد میں فلیٹ سے خواجہ سرا کا تشدد زدہ لاش برآمد
☆ معاشرتی ناہمواریوں کی وجہ سے ایان عرف ڈولفن نے سکالر شپ چھوڑ کر ڈانس سیکھنا شروع کردیا
☆ پشاور سُپر مارکیٹ میں فائرنگ سے ”سپوگمئی“ نامی خواجہ سرا قتل
☆ خواجہ سرا علیشاہ قتل کیس کا مرکزی ملزم فضل تاحال مفرور
☆ خیبر پختون خوا میں خواجہ سرا کا گینگ ریپ، تشدد کی وجہ سے لُقمہ اجل بن گئے۔
قارئین، یہ کسی غیر اسلامی ملک کی نہیں اسی وطنِ عزیز کی خبریں ہیں جس کی 90 فی صد آبادی مسلمان ہے، جب کہ حج و عمرے کی سعادتیں حاصل کرنے میں پچاس اسلامی ممالک کی فہرست میں ہم دوسری نمبر پر ہیں۔ آئے دِن یہ دل خراش خبریں دیکھ یا سُن کر رُوح تڑپ اُٹھتی ہے۔
 مملکتِ خداداد میں تقریباً ہر شخص معاشرتی نا انصافیوں کا رونا روتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن جو صِنف سب سے زیادہ معاشرے اور سماج کے منفی رویوں کا شکار ہے، وہ تیسری جنس یعنی ”خواجہ سرا“ ہے۔ اَمسال رُونما ہونے والے چند واقعات نے عوام کی توجہ خواجہ سراؤں کے مسائل اور اُن کی زندگی کی جانب ضرور مبذول کرائی، جس کا کریڈیٹ سوشل میڈیا کو جاتا ہے۔
قارئین، خواجہ سرا جسے ”مخنث“ بھی کہا جاتا ہے، ایک تیسری صِنف ہیں۔ جن کا جسم مردانہ ہوتا ہے، لیکن اُس کی اَٹھک بیٹھک صنفِ نازک والی ہوتی ہے۔ خواجہ سرا صرف مملکتِ خداداد پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ اِن کے مسائل اُن دیگر ممالک میں ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو اُس کے حل کےلیے کیا کچھ کیا گیا ہے…؟
افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں سے انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔ اُنہیں نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ہر کوئی اُنہیں دھتکارتا ہے۔ ہر شعبۂ زندگی میں اُن سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ چاہے وہ شعبہ تعلیم ہو، صحت ہو یا پھر ملازمت، ہر جگہ اُن کو اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ مرد، عورت یا خواجہ سرا ہونے میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں، بلکہ یہ تو قدرت کا نظام ہے۔ پھر بھی ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کے ساتھ وہ غیر انسانی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے جو ایک مہذب معاشرے میں حیوانوں سے برتنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
قارئین، اُن کے ساتھ ظلم اور تکالیف کی ابتداء اُن کے گھر ہی سے ہوتی ہے، جہاں اُن کے والدین یا رشتہ دار اُن سے نفرت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ والدین شروع ہی سے ایسے ”سپیشل“ بچے سے ویسا پیار نہیں کرتے، یا ویسی تعلیم و تربیت نہیں دیتے جو اپنے دوسرے نارمل بچوں کو دیتے ہیں۔ سماج کے ڈر سے خواجہ سرا بچے کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے، یا پھر اُس سے ایسا منفی رویہ اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ خود گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے جیسے لوگوں کے پاس پناہ لینے پر مجبور ہوجاتا ہے اور اپنی ایک الگ دُنیا بسا لیتا ہے۔ یہاں سے وہ بے رحم لوگوں کی نذر ہو جاتا ہے، جس کا ذکر پاکپتن پنجاب سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا وینا خان نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کیا تھا۔ بقول اُن کے ”ہمیں پہلا دُکھ اپنے گھر سے ہی ملتا ہے۔ اگر ہمارے خاندان والے ہماری شناخت قبول کر لیں، تو شاید ہمیں ڈھیر سارے ایسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، جو عام طور پر ہمارے ساتھ پیش آتے ہیں۔“
اسی طرح ایک اور خواجہ سرا نے روتے ہوئے اپنی والدین سے گلہ کیا کہ ”معاشرے میں ہمارے لیے عدل و انصاف کی بات ہورہی ہے۔ سب سے زیادہ نا انصافی تو خود ہمارے والدین نے کی ہے، جنہوں نے خود ہمیں قبول نہیں کیا، تو سوسائٹی ہمارے لیے کیا کرے گی…؟“
ایک خواجہ سرا نے لاک ڈاؤن کے دوران میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ”کوئی بھی ہمیں قبول نہیں کرتا۔ ہمارے ساتھ اس قدر تعصب ہے کہ نہ ہمارا گھر ہے نہ بہن بھائی، نہ تعلیم ہے نہ نوکری، نہ لوگوں سے مضبوط و محفوظ تعلق ہی ہے۔اوپر سے ہمیں کوئی عذاب کہتا ہے تو کوئی گناہ کا نتیجہ، یا ہمارے لیے وہ غلیظ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں کہ توبہ، اگر اتنے مسائل کے ساتھ ہم رہ رہے ہیں تو غربت اور بے روزگاری کیا کم بات ہے…؟ جنسی ہراسانی کے مسائل الگ ہیں۔ ان تمام مسائل کے ہوتے ہوئے ایک کورونا ہمارے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔
جب کہ اس نے معاشرتی ناانصافیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”اس معاشرے میں انصاف ہے نہ عدل، نہ انسانیت ہے اور نہ ہی شعور۔ اتنی چیزوں کے اندر ہم کورونا کو کتنی اہمیت دیں گے…؟
 اگر ہمارے اندر اسلام اور انسانیت آجائے تو ہمارے مسائل خود حل ہوجائیں گے۔“
ایک خواجہ سرا تو دلبرداشتہ ہوکر یہاں تک بول اُٹھا کہ ”ہم تو پہلے ہی سے مرے ہوئے ہیں۔ اب کورونا سے مرنا تو اُنہیں ہے، جو روئے زمین پر خدا بنے پھرتے ہیں۔ جس کو چاہے بند کر دیں، مار دیں، جو چاہیں کریں، لوگوں کو ذلیل کریں اور رسوا بھی۔ جو دنیا میں حاکم و عادل بنے پھرتے ہیں اللہ نے اُن کو دکھانا ہے، اوقات یاد دلانی ہے کہ تم گندے پانی کا قطرہ ہی ہو، ذرا بڑے ہوتے ہوئے سمجھ دار ہوتے ہو، تو اکڑ جاتے ہو، اپنی اوقات بھول کر ظلم و زیادتی پر اتر آتے ہو۔“
قارئین، اصل بات یہ ہے کہ دل کے دُکھی اور سماج کے ستائے ہوئے لوگ ہی سچی اور کھری باتیں کرتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں دُکھ بھرا  ہوا ہوتا ہے۔ افسوس کہ لوگ نہیں سمجھتے کہ آخر ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے…؟
سڑک پر تشدد کا شکار ہونے والا یا کسی مضِر بیماری سے تڑپ کر مرنے والا خواجہ سرا معاشرے کی بے حِسی کی ایک بھیانک تصویر ہے۔ وہ معاشرہ جو بظاہر تو بہت مہذب اور اخلاقیات سے بھر پور نظر آتا ہے، پَر اندر سے اتنا ہی کھوکھلا ہے۔ ہمارے اس گونگے اور بہرے معاشرے میں اکثر خواجہ سراؤں کو فحاشی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ اس بات سے چنداں انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پیٹ پالنے کی خاطر خواجہ سرا اکثر بد اخلاقی کی اس حد تک جاتے ہیں جس کے تصور سے ہی گھن آنے لگتی ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ان کو اس کام کےلیے مجبور کرنے والے بھی یہی لوگ اور یہی معاشرہ ہے، جو نہ اُنہیں درس گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں اور نہ ہی کسی ادارے میں روزگار فراہم کرتے ہیں۔
کچھ دن پہلے بریلوی علماء کی ایک تنظیم نے فتویٰ دیا ہے کہ خواجہ سراؤں سے بھی شادی کی جا سکتی ہے۔ اس تنظیم نے اپنے فتوے میں کہا ہے کہ زنانہ جسمانی خصوصیات والے خواجہ سرا مردانہ جسمانی خصوصیات والے خواجہ سراؤں سے شادی کر سکتے ہیں۔ ”تنظیمِ اتحادِ اُمت پاکستان“ نامی بریلوی تنظیم کے مطابق ایسے خواجہ سرا عام مرد اور عورتوں سے بھی شادی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ تاہم وہ خواجہ سرا، جن میں مردانہ و زنانہ دونوں خصوصیات پائی جاتیں ہیں وہ ہرگز نکاح نہیں کر سکتے۔ فتوے میں مزید کہا گیا ہے کہ خواجہ سراؤں کا بھی نمازِ جنازہ اسی طرح ہی پڑھائی جانی جاہیے، جس طرح عام مسلمان مرد و خواتین کی پڑھائی جاتی ہے۔ فتوے کے مطابق خواجہ سراؤں کا جائیداد میں بھی حصہ ہوتا ہے اور جو والدین اُنہیں جائیداد سے محروم کرکے اُنہیں گھر سے نکال دیتے ہیں، اُن کے خلاف حکومت کو قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ علماء نے کہا ہے کہ خواجہ سراؤں کی تضحیک کرنا، آوازیں کسنا، مذاق اڑانا یا اُنہیں حقیر سمجھنا شرعی طور پر حرام ہے۔
فتوے نے پاکستان کے سماجی حلقوں میں ایک دل چسپ بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کا خوب چرچا رہا ہے۔ فیس بُک پر کئی افراد نے اس خبر کے ”لنک“ کو اپ لوڈ کیا تو ٹوئٹر پر بھی کئی افراد نے اس پر دل چسپ تبصرے کیے۔ ایک تبصرے میں کہا گیا  ہے کہ ”خواجہ سراؤں کے حوالے سے حال ہی میں افسوس ناک خبریں آتی رہی ہیں لیکن یہ اب کچھ بہتر خبر ہے۔“ اسی ایک اور ٹوئیٹر صارف نے لکھا کہ ”فتویٰ پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ دل چسپ بھی ہے۔“
فتوے پر خواجہ سراؤں کے حقوق کےلیے کام کرنے والی الماس بوبی نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ” اس فتوے سے اُن لوگوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، شادی تو دور کی بات ہے۔ پہلے حکومت ہمارے بنیادی حقوق، تعلیم، صحت، روزگار اور گھر تو دے تاکہ ہم لوگوں کو ذلت و خواری نہ اُٹھانا پڑے، سڑکوں پر بھیک نہ مانگنا پڑے۔“
خواجہ سراؤں کی حالت زار کو دیکھ کر ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں کچھ سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا روشن خیالی یا مذہب کی نظر میں خواجہ سرا کسی حقوق کا مستحق نہیں ہے…؟
اگر ہیں، تو پھر اُنہیں اس بے رحمی کے ساتھ نظر انداز کیوں کیا جاتا ہے، اور اُنہیں ایک اچھوت کی طرح کیوں دیکھا جاتا ہے…؟
خواجہ سراؤں پر ہونے والے ظلم و ستم کی گونج جب سینیٹ پہنچی تو سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ، ’’ہمارے ہاں خواجہ سراؤں کے ساتھ امتیازی سلوک بہت پُرانا ہے اور یہ کئی صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ سماجی رویوں کو تبدیل ہونا چاہیے۔ گو کہ لوگوں کو اب اس حوالے سے شعور بھی آرہا ہے۔ خواجہ سراؤں کے مسائل کے حل کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اُن کےلیے تعلیم کے دروازے کھول دی جائیں تاکہ وہ مختلف شعبوں میں شمولیت اختیار کر سکیں۔ جب وہ مختلف شعبوں میں شمولیت اختیار کریں گے، تو اُن کے سماجی مرتبے میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور آئے گا۔“
قارئین! خواجہ سراؤں کے مسائل یہ ہیں کہ اُنہیں اپنی شناخت، روزگار، تعلیم، ہسپتال، سکول، تھانہ، پُرامن ماحول، شیلٹر ہوم، کمیونٹی اور وؤٹ ڈالنے کا حق میسر نہیں۔
اگر حکومت چاہے تو خواجہ سراؤں کے حوالے سے سر دست ایک قانون بنا دے جس کے مندرجات یہ ہوسکتے ہیں۔
☆ خواجہ سرا کو کسی بھی جگہ پر ہراساں کرنا قانوناً جُرم تصور ہوگا۔
☆ تعلیمی اداروں میں داخلے کا کوٹہ مختص کرنا اور کم از کم انٹرمیڈیٹ تک فری تعلیم دینا تاکہ اُنہیں بھی نوکری اور روزگار کے مواقع میسر آئیں۔
☆ فری علاج، رہائش کا مناسب بندوبست، ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لیس سروسز کے ذریعے اُن کی اکثریتی آبادی والی جگہوں پر ٹرانس جنیڈر سینٹرز، شیلٹر ہوم یا کمیونٹی سینٹر ز کا قیام عمل میں لانا، شناختی کارڈز کا اجراء اور ووٹ دینے کا آئینی حق دینا وغیرہ۔
یہ صرف حکومت کا فرض نہیں بلکہ سب سے پہلے خواجہ سراؤں کے والدین، بہن اور بھائیوں کا بھی فرض بنتا ہے کے وہ اُن کی کفالت کریں۔ اُن کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آئیں تاکہ وہ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔ پھر ہم سب کایہ فرض بنتا ہے کہ اُن کے جذبات، احساسات اور حقوق کا خیال رکھیں، اور جتنا ممکن ہو سکے، اُن کی مدد کریں اور اُن کے متعلق مثبت رویہ اپنائیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے معاشرے میں شعور اُجاگر کرنے، آگاہی پھیلانے اور اپنی پسماندہ منفی رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ خواجہ سراؤں کے بنیادی حقوق کا تحفظ حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے کیوں کہ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں خواجہ سراؤں کے ساتھ تیسرے درجے کے انسانوں کا سلوک کہاں کا انصاف ہے…؟ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائیں۔
خدارا، خواجہ سراؤں کی قدر کریں۔ اُنہیں اس اندھیری راہوں کا مسافر بننے سے بچانا ہم سب کا فرض ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے فوری اقدامات کرے۔ ہمیں خواجہ سراؤں کے مسائل، دُکھ درد اور پریشانیوں کو اپنا سمجھ کر معاشرے کی مثبت تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
کہاں ہے ارض و سماں کا مالک
که  چاہتوں  کی  رگیں کریدے
ھوس  کی سرخی  رُخ  بشر کا
حسین   غازہ   بنی   ہوئی   ہے
 کوئی مسیحا اِدھر بھی دیکھے
کوئی  تو  چارہ   گری  کو اُترے
اُفق  کا  چہرہ  لہو  میں  تر  ہے
زمین   جنازہ   بنی    ہوئی   ہے
_______________________________________
محترم قارئین، راقم کے اس مضمون کو 06 اکتوبر 2020ء کو روزنامہ آزادی سوات نے پہلی بار شرفِ قبولیت بخش کرشائع کروایا تھا۔
شیئرکریں: