بانی خدائی خدمت گار تحریک خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان نہ صرف پختون قوم کے لیے ایک عظیم راہ نما تھے بلکہ علم و عمل میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ان کی شخصیت کی ایک نمایاں پہچان ان کے علما کے ساتھ گہرے تعلقات اور احترام تھا۔ خاص طور پر دیوبند کے علما کے ساتھ ان کے رشتہ کو ہمیشہ مثبت اور باہمی مشاورت پر مبنی سمجھا جاتا تھا۔
دیوبند مدرسہ جو 1866ء میں قائم ہوا، نے دینی علوم کے فروغ کے ساتھ ساتھ اس خطے میں عوامی بیداری اور آزادی کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ مغربی سامراج نے اپنے مقاصد کے لیے بعض علما کو استعمال کیا اور آزادی کے علمبرداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی، مگر ان سب رکاوٹوں کے باوجود دیوبند کے علما نے کاروانِ آزادی کو آگے بڑھنے سے نہیں روکا۔ یہی وجہ تھی کہ باچا خان ان علما کی قدر و منزلت کو بہت بلند سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ ہر اہم فیصلہ باہمی مشاورت سے کرتے تھے۔
1966ء میں جب دیوبند مدرسہ کی صد سالہ تقریب منائی گئی، تو دنیا بھر سے معزز علما اور پختون رہنما اس میں شریک ہوئے۔ اس تقریب میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک ہی شخصیت کو اس عظیم "رئیس الاحرار ایوارڈ” سے نوازا جائے گا۔ کئی ممالک کی اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا جن میں خان عبدالولی خان، مفتی محمود صاحب اور دیگر راہ نما بھی شامل تھے۔ ولی خان کے بہ قول، شرکاء نے غور و فکر کے بعد اتفاق کیا کہ یہ ایوارڈ سب سے زیادہ باچا خان کے شایانِ شان ہے، اس لیے انہیں ہی دیا جانا چاہیے۔
جب یہ عظیم ایوارڈ باچا خان کے نام ہوا، تو تمام شرکاء حیران رہ گئے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ باچا خان بابا کی قربانی، علم، قیادت اور عظیم اخلاقی کردار کو دنیا نے تسلیم کیا۔ یہ اعزاز محض ایک ایوارڈ نہیں بلکہ پختون قوم اور انسانی تاریخ میں ان کی خدمات کا بین الاقوامی اعتراف تھا۔
شیئرکریں: