بائیں بازوں کے مذہبی افراد اکثر اپنے سیاسی مقاصد کو طول دینے کےلیے کارل مارکس کو مذہب کے سانچے میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ایک غلط تصور قائم ہوتا ہے۔ کیوں کہ مارکس نے خود ہی متعدد مقامات پر مذہب کی نفی کی ہے اور لوگوں کو اس کے نقصانات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
مارکسی فلسفے کی رو سے مذہب کیسے بنتا ہے، اس بارے میں مارکس لکھتا ہے کہ مذہب ہمارے ذہن کے ذریعے ہماری حقیقی دنیا کا انعکاس ہے۔ یعنی یہ ہمارے اِرد گرد کے مادی ماحول اور اس میں مسلسل رونما ہونے والی تبدیلیاں ہی ہیں، جو ہمارے شعور (ذہن) کا تعین کرتے ہیں اور یہ ذہن ہی ہے جو ان سماجی حالات کی تبدیلیوں کے نتیجے میں مذاہب کو تشکیل دیتا ہے، جو پھر خود ہمارے ذہنوں پر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی طرح کارل مارکس کے ہاں ایک ترکیب سے گزر کر مذہب سیاسی میدان کچھ یوں جنم لیتا ہے کہ اب تک تمام موجودہ معاشرے کی تاریخ دراصل طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے اور تمام تر تاریخ کی تبدیلیاں اسی طبقاتی جدوجہد کے وجہ سے رونما ہوئی ہیں۔
قارئین، عام فہم الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک سماج میں دو طبقات ہوتے ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس پیداوار کے زرائع (Means of Production) ہونے کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی ہوتا ہے۔ یعنی یہ حاکم اور دولت مند طبقہ ہوتا ہے جسے عام طور پر (Have) کہا جاتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جو عموماً غریب ہوتا ہے اور اپنے بقا کےلیے اس ایلیٹ کلاس (Elite Class) کےلیے کام کرتا ہے۔ یعنی یہ طبقہ محکوم ہوتا ہے۔ جس کو (Have nots) بھی کہا جاتا ہے۔
کارل مارکس کے مطابق سماج دو ستون کے بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ جن میں ایک انفراسٹرکچر اور دوسرا سُپر سٹرکچر ہوتا ہے۔ انفراسٹرکچر سے مراد سماج کا وہ سیاسی اور معاشی نظام ہے جس کے تحت ایک طبقہ حاکم اور دوسرا محکوم ہوتا ہے، ان کے مابین معاشی تعلق میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور محکوم طبقے (Have nots) کا حاکم طبقے (Have) کے ہاتھوں مسلسل استحصال ہوتا ہے۔
سُپر سٹرکچر کو انفراسٹرکچر کے نتیجے میں وجود ملتا ہے جس میں مذہب، کلچر، خاندان، سیاست اور قانون وغیرہ آتے ہیں، جو حاکم طبقے کے محکوم طبقے پر حاکمیت یا استحصال کو جواز فراہم کرتے ہیں اور انفراسٹرکچر میں تبدیلی سُپر سٹرکچر کی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔
قارئین، عام فہم اور سادہ الفاظ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مارکس ازم کے مطابق مذہب، کلچر اور قانون وغیرہ طبقاتی جدوجہد (Class struggle) کے پیداوار ہے نا کہ کسی خدا کے طرف سے نازل کیے گئے ہیں۔ یہاں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کارل مارکس کوئی خاص مذہب کا ذکر نہیں کرتا، بلکہ اس کا سوچ تمام مذاہب کا احاطہ کرتا دکھائے دیتا ہے۔ کیوں کہ مارکس کے نزدیک تمام سماجی خرابیوں کی جڑ مذہب ہی ہے۔
مارکس کے مطابق مذہب طبقاتی جدوجہد میں دوہرا کردار ادا کرتی ہے۔ کیوں کہ مذہب ایک قائم آرڈر کو مقدس قرار دیتے ہوئے اسے تقویت دیتی ہے جو عوام کے استحصال پر مبنی ہو، یا سیاسی قیادت یا نظام خدا کے طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ لہذا اس وجہ سے طبقاتی جدوجہد یا کشمکش میں محکوم طبقہ اپنی استحصال کو خدا کی طرف سے ایک امتحان سمجھنے لگتا ہے اور اس پر حاکم طبقے کے خلاف انقلابی قدم اُٹھانے سے گریز کرتا ہے۔ اسی طرح مذہب کا دوسرا کردار یہ ہے کہ یہ مظلوم طبقے کو تسلی دیتا ہے کہ ان کو اِس آزمائش کے بدلے جنت میں یا موت کے بعد وہ کچھ ملے گا، جن سے ان کو دنیا میں محروم رکھا گیا ہے۔
مارکس ازم کے مطابق معاشرے میں مذہب ایک ایسا آلہ ہے جس سے حاکم طبقہ اپنے حاکمیت اور لوگوں کے استحصال کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے نفسیات کو قابو میں رکھتا ہے، جو ان کے پسماندگی کےلیے طرح طرح کے جواز فراہم کرتے ہیں۔
کارل مارکس کے مطابق مذہبی پیشوا ہمیشہ غربت کو خدا پرستی اور دین داری ثابت کرتے چلے آرہے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہم پر زیادہ تقویٰ دار ہونے کے حیثیت سے ایک امتحان ہے۔ تبھی تو مارکس کہتا ہے کہ مذہب عوام کےلیے افیون (نشہ) کا کام کرتی ہے جو انہیں ایک خیالی دنیا پر یقین کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی لیے انسان اپنے حقیقی دنیا میں اپنی حالت پر توجہ نہیں دیتے، بلکہ ایک اور دنیا کہ انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہاں ہمیں انعامات ملے گی اور ہمارے حالات بہتر ہوں گے۔ لہذا مارکس ازم کے مطابق انسان کے حالات ایسے بنائے گئے ہیں کہ اس کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ ایک خیالی دنیا کو ماننے لگ جائے اور یہ اِس حقیقی دنیا کے حقیقی مسائل کو برداشت کر سکیں۔
ان تمام حقائق کو بالائے طاق رکھ کر کارل مارکس کی ایک بات ہی اسے غیر مذہبی ثابت کرنے کےلیے کافی ہے کہ انسان مذہب بناتا ہے، مذہب انسان کو نہیں بناتا۔
اس کے آگے وہ مذہب پر تنقید کے بارے میں لکھتا ہے کہ مذہب پر تنقید انسان کے کئی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے اسے اپنے لیے سوچنے اور عمل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے حالات بہتر کر سکتا ہے جو کہ وہ مذہب کے فریب یا غلط فہمی میں رہ کر نہیں کرسکتا۔
قارئین، ان تمام تر تحریر کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ کارل مارکس کے مطابق مذہب انسان خود بناتا ہے، اپنے استحصال یا ماحول میں رونما ہونے والے قدرتی یا مادی (معاشی) تبدیلیوں کو جواز فراہم کرتا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے انسان کی ترقی ممکن نہیں۔ کیوں کہ وہ پھر اس جہان میں اتنا دلچسپی نہیں لیتا جتنا کسی خیالی جہان کےلیے پُرامید ہوتا ہے اور اپنی غربت اور حاکم طبقے کے ہاتھوں استحصال پر خاموش رہتا ہے۔ کیونکہ وہ تمام حالات کو مذہب یا خدا کے طرف سے ایک مقدس امتحان سمجھتا ہے۔
قارئین، اس موضوع پر طویل بحث کی جاسکتی ہے، لیکن مارکس کے درجہ بالا تحاریر سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مارکس تمام مذاہب کو انسانوں کا بنایا ہوا مانتا تھا۔ لہٰذا مارکس کو کسی مذہب سے جوڑنا اور اسے اپنے سیاسی اور مذہبی مقاصد کےلیے توڑ مروڑ کر پیش کرنا کارل مارکس اور ان کے مارکسی فلسفے اور نظریے کی توہین ہے۔
حوالہ جات؛
☆ Karl Marx, Das capital.
☆ Friedrich Engels, dialectics of nature.
☆ Karl Marx & Friedrich Engles, The communist manifesto.
☆ Karl Marx, critique of Hegel’s philosophy of right.
__________________________________
محترم قارئین، ابدالى انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شائع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: