خیبر پختون خوا کے ضلع سوات کی تحصیل مٹہ میں کسٹم ایکٹ اور مختلف ٹیکسز کے خلاف ضلع بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ ہڑتال کے باعث تمام تجارتی مراکز بند ہیں، جب کہ ضلع بھر کے تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی بند رکھے گئے ہیں۔
وکلاء برادری نے بھی تاجر برادری سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے عدالتوں سے مکمل بائیکاٹ کیا ہے۔ اس موقع پر صدر تاجر برادری مینگورہ عبدالرحیم نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کسی بھی صورت کسٹم ایکٹ اور ٹیکسز کو قبول نہیں کریں گے، کیوں کہ یہ خطہ طویل عرصے سے دہشت گردی اور حالیہ سیلابوں سے شدید متاثر رہا ہے۔
عبدالرحیم کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ خطے پر مزید معاشی بوجھ ڈالنا سراسر ناانصافی ہے اور تاجر برادری اپنے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
کسٹم ایکٹ اور ٹیکسز کے خلاف ہڑتال کا دائرہ پورے ملاکنڈ ڈویژن تک پھیل چکا ہے۔ درگئی، سخاکوٹ، بٹ خیلہ اور تھانہ سمیت مختلف علاقوں میں بھی کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں، جب کہ تمام نجی تعلیمی ادارے بھی بند رکھے گئے ہیں۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تاجر تنظیموں کی جانب سے آج مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ تاجروں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی صورت ٹیکس ادا نہیں کریں گے۔
سوات، مٹہ میں ٹیکسز اور کسٹم ایکٹ کے خلاف مکمل ہڑتال، تجارتی مراکز اور سکول بند
