پشاور کی یخ بستہ ہوائیں جو آج کل کافی گرم ہوچکی ہیں اور اس بازارِ گرمی میں لوگوں کا ہجوم بھی جوں کا توں ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص پرسکون نظر آئے، تو اُن سے سوال بنتا ہے کہ آپ اتنے پرسکون کیوں ہیں…؟ جب کہ اردگرد ہر کوئی فکرمند اور پریشان حال ہے۔ اگر اس سوال کا جواب ایسا ملے کہ پوچھنے والا خود بھی سکون اور طمانیت محسوس کرنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ آپ کسی عام شخصیت سے نہیں بلکہ ڈاکٹر فرحانہ قاضی جیسی علمی و ادبی ہستی سے مخاطب ہیں۔اُنھوں نے اُردو ادبیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے اور اِس وقت شعبۂ اُردو جامعہ پشاور میں اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
​ڈاکٹر فرحانہ قاضی کی شخصیت میں ایک ایسا ٹھہراؤ ہے جو صرف علم کے گہرے مطالعے اور فکر کی پختگی سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ بات کرنے کے لیے محفل کا اور لکھنے کے لیے لفظ کا انتخاب بڑی نزاکت اور احتیاط سے کرتی ہیں۔​محبت اور رعب کے سنگم پر کھڑی ڈاکٹر فرحانہ قاضی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ ظاہری بناوٹ اور دنیاوی نمود و نمائش سے بہت دور ہیں۔ اُن کی شخصیت میں ایک ایسی سادگی ہے جو اُن کے علمی وقار کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ اُن کی نظر میں کتاب سے بڑی کوئی دولت نہیں وہ ہر چیز پر کتاب کو فوقیت دیتی ہیں۔ اُن کا کتب خانہ ہی اُن کی اصل دنیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر قسم کے ادبی موضوع پر بولنے اور لکھنے کی گہری دسترس رکھتی ہیں۔
​اُن کے تدریسی اُصولوں میں سب سے نمایاں پہلو نو کمپرومائز ہے۔ وہ تحقیق کے حوالے سے کسی بھی غیر مستند بات پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتیں کیوں کہ اُن کا ماننا ہے کہ عصرِ حاضر میں ہونے والی تحقیق آنے والی نسلوں کے لیے ایک امانت ہے اور وہ اس امانت میں خیانت کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ یہ اصول اُن کی کسی  جانبداری کی وجہ نہیں بلکہ اُردو ادب سے اُن کی والہانہ عقیدت اور پاس داری کا ثبوت ہے۔
​اُن کی شخصیت میں شفقت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ وہ طالب علموں کی غلطیوں پر خفگی کے بجائے اُن کی اصلاح کو اپنا فریضہ سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شعبۂ اردو کے تمام طلبہ و طالبات اُن کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ کلاس روم میں غالب کو پڑھاتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم ابھی مرزا غالب کے عہد میں جی رہے ہیں اور بلی مار محلے میں غالب اور استاد ذوق کا مکالمہ براہ راست سنتے ہیں:
ہر اک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے؟
​ڈاکٹر فرحانہ قاضی ایک ایسی درویش صفت محقق اور استانی ہیں جن کی زندگی کا مقصد ہی علم کی اشاعت اور اُردو ادب کی خدمت ہے۔ وہ پشاور کی ادبی فضا میں ایک ایسی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہیں جو اپنی موجودگی سے ہر طرف علم و دانش کی خوشبو پھیلا دیتی ہیں۔ آنے والی نسلیں اُن کی علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گی کیوں کہ وہ صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد اور ایک تحریک کا نام ہیں جو آنے والے وقتوں میں تحقیق کے متلاشی افراد کے لیے ہمیشہ ایک مینارِ روشنی بنی رہے گی۔
_______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: