جمہوریت کا حسن عوامی خدمت، جواب دہی اور قانون کی بالادستی میں ہے، مگر جب اقتدار خدمت کے بجائے مفادات کا ذریعہ بن جائے، تو عوام کا ریاست پر اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاسی وعدے، انتخابی نعرے اور عوامی توقعات اکثر اقتدار کی دہلیز پر پہنچتے ہی دم توڑ دیتے ہیں اور یہی کیفیت ظلم کی شام کو مزید طویل کر دیتی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں آئے روز مظلوم عوام پر حکومت کی جانب سے مہنگائی کا ٹوٹنے والا طوفان لوگوں کی زندگیوں کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ حکومت کے کیے ہوئے وعدے صرف دعوؤں کی حد تک محدود رہ گئے ہیں۔ غریب عوام کی چیخ و پکار ان کے ایوانوں میں محض اس رقص کی مانند ہے جسے دیکھنے والے تو بہت ہیں، لیکن محسوس کرنے والا کوئی نہیں۔ حکم رانوں کے وعدے اب ان لطائف کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو ہمیں بچپن میں بزرگ سنایا کرتے تھے۔ عوام کی بے بسی کرب ناک ہو چکی ہے، جہاں بھوک اور محرومی ہر سو رقصاں ہیں۔ روز بہ روز بڑھتی ہوئی بدامنی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس انتشار میں خود انہی لوگوں کا ہاتھ ہے جن کے ہاتھوں میں ہم نے اپنی تقدیر سونپ کر اپنی زندگی کو جہنم بنا لیا ہے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت صرف ایک شخصیت کے گرد گھومتی ہوئی نظر آئے، تو ایسے لوگوں سے امن، خوش حالی اور ترقیاتی منصوبوں کی امید رکھنا ایسا ہی ہے جیسے خوابوں کو کھوکھلے نعروں کے سہارے زندہ رکھنا۔
ظلم کی یہ شام اس وقت مزید خوف ناک محسوس ہونے لگتی ہے جب حکومت عوام کے مسائل سے نظریں چرا لے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی کے اندھیرے میں سسکتی ہوئی عوام، جب اپنے حکم رانوں کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، تو اکثر انہیں صرف وعدوں اور دعوؤں کا سراب نصیب ہوتا ہے۔ ایوانِ اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنی آسائشوں میں مگن ہیں، جب کہ غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے اپنی عزتِ نفس تک قربان کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ظلم کی یہ شام دراصل اس استحصالی نظام کی عکاس ہے جہاں طاقتور مزید طاقتور اور کم زور مزید بے بس ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر حکومتیں عوام کے دکھ درد کو محسوس نہ کریں، تو معاشرے میں بے چینی، اضطراب اور مایوسی جنم لینے لگتی ہے اور یہی مایوسی کسی بھی قوم کے زوال کی ابتدا بن جاتی ہے۔
مَیں بہ ذاتِ خود یہ سمجھتا ہوں کہ یہ عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے کہ حکم ران ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بنیادی حقوق کو بہ زورِ بازو پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم اس موہوم سی امید کے ساتھ اب بھی ان کی طرف داری کر رہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں ان سے بھی کچھ ایسے اقدامات صادر ہوں گے جن میں ہمارے وسائل کو بروئے کار لا کر عوام کی فلاح کے لیے مناسب ترتیب سے استعمال کیا جائے گا۔ لیکن ہم کب تک یہ امید لگائے بیٹھیں گے کہ کوئی مسیحا آئے گا جو اس بے بسی، کرب، اذیت بھری شام، ظلم و ستم کی یلغار، بے جا قتل و غارت اور مہنگائی کے اس قیامت خیز طوفان کو ختم کر دے گا…؟
مجھے یہ گفتگو کرتے ہوئے ہمیشہ سرسید احمد خان کا وہ معرکہ آرا مضمون یاد آتا ہے جو نصاب میں "اپنی مدد آپ” کے نام سے شامل ہے کہ ہمیں خود اس ظلمت کدۂ اقتدار کی جڑوں کو اکھاڑنا ہوگا۔ ستم پرور نظام نے عوام کو اس قدر بے یار و مددگار کر دیا ہے کہ اب وہ اپنی مدد آپ کے تحت زندگی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔ تو پھر اس ظالمانہ نظام کے ان جھوٹے اداکاروں سے جو ہماری ناگفتہ بہ حالت پر خاموش بت بنے بیٹھے ہیں، قطعاً لا تعلقی اختیار کرنی چاہیے تاکہ یہ ظلم کی شام مزید کرب و الم کی شکل اختیار نہ کرے۔ ورنہ یہ حالات ہمارے ذہن کی رگوں میں زہر کی طرح گردش کر کے ہمیں ہمیشہ کے لیے ایک پس ماندہ اور مظلوم قوم بنا دیں گے، اور ظالم ستم ڈھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑے گا۔
آخرکار کسی بھی قوم کی تقدیر صرف حکم رانوں سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ باشعور، متحد اور ذمے دار عوام بھی اس کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ظلم، ناانصافی اور استحصالی نظام کے خلاف آئینی، جمہوری اور شعوری انداز میں آواز بلند نہ کی گئی، تو یہ شام مزید گہری ہوتی جائے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عوامی فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور عوام بھی اپنی ذمے داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایسے نظام کی بنیاد رکھیں جہاں انصاف، مساوات اور خوش حالی ہر شہری کا حق ہو، نہ کہ محض ایک خواب!
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: