ٹی ایس ایلیٹ کے بقول: "ہر عظیم فن پارہ اپنے ساتھ نئے تنقیدی پیمانے لے کر آتا ہے اور ہر نئی تخلیق پچھلی قائم کردہ درجہ بندیوں کو درہم برہم کر دیتی ہے۔”
یہ قول اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تنقید کا معیار وقت کے ساتھ بلند ہوتا گیا ہے۔ جدید تنقید نے نئی نسل میں یہ شعور پیدا کیا ہے کہ وہ ادب کے ساتھ ساتھ زندگی کے بارے میں بھی سوال اُٹھائے اور اُن اصولوں کو پرکھے جو محض روایت یا سماجی جبر کے تحت قائم کیے گئے ہوں۔
اُردو ادب میں بے شمار نقاد گزرے ہیں جنہوں نے سابقہ تنقیدی رویّوں پر اعتراض کر کے نئے زاویے متعارف کرائے۔ انہی نقادوں میں ایک نمایاں نام پروفیسر گوہر نوید کا ہے جن کے بارے میں اسحاق وردگ لکھتے ہیں کہ: "تنقید کی آزادی میں گوہر نوید کے قلم کی روشنی بھی شامل ہے۔ اس جہانِ امکان میں کئی معجزے پوشیدہ ہیں، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ تنقید کی خودی کو ایک خاص قرینے سے دریافت کیا جائے تاکہ پختون خوا کی اُردو تنقید کو سچ کہنے کا سلیقہ نصیب ہو۔ یہ ذمے داری گوہر نوید کو ہم نے نہیں بلکہ وقت اور تاریخ نے سونپی ہے۔”
پروفیسر گوہر نوید ادب کے ہر گوشے کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وصف انہیں دوسرے ناقدین سے ممتاز کرتا ہے۔ اُن کی تنقید میں ترقی پسندیت اور رومانویت کا سنگم دکھائی دیتا ہے اور مردان کے ادبی حلقے اس امر کو تسلیم کرتے ہیں۔
انہوں نے ن م راشد (نذر محمد راشد) کی شاعری پر تفصیلی اور جرات مندانہ تنقید کی ہے۔ اُن کے مضامین سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سچے اور امین نقاد کی خصوصیات کے حامل ہیں۔ راشد کی شاعری کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ: "راشد کے داخل سے جب بغاوت کا لاوا اُبلتا ہے، تو کہنگی کے تصورات راکھ کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اسی لاوے سے نکلنے والے شرارے شعلوں میں ڈھل کر آسمان تک پہنچتے ہیں۔ خاشاکِ غیراللہ کو پھونک ڈالنے کے بعد وہ بغاوت کی آخری حدوں کو بھی پھلانگ جاتے ہیں اور بعض اوقات خدا کے حضور میں گستاخی کے مرتکب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے اشعار بھی سامنے آتے ہیں جن میں مذہب، تصوف اور مروجہ تصورات پر طنز ملتا ہے۔”
پروفیسر گوہر نوید کے اس زاویۂ نظر سے اختلاف کرنا آسان نہیں، کیوں کہ جدید نظم کے شاعر راشد کے ہاں ایسے موضوعات واقعی موجود ہیں جن میں روایت شکن فکر اور مروجہ مذہبی و صوفیانہ تصورات پر سوال اُٹھایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر راشد کی نظم "پہلی کرن” میں یہ اشعار ملتے ہیں:
خدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتے
اسی ساحرِ بے نشاں کا
جو مغرب کا آقا تھا، مشرق کا نہیں تھا
راشد کے ہاں انسان ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے۔ وہ جنسی، معاشرتی، سیاسی اور اجتماعی مسائل سے دوچار نظر آتا ہے۔ خارج کے مناظر کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہ اپنے باطن کی طرف رجوع کرتا ہے، اور یہ واپسی ایک فکری تکمیل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ تاہم اس انسان کے ذہن میں خدا کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں پروفیسر گوہر نوید نے اپنی تنقید کا موضوع بنایا ہے۔
پروفیسر گوہر نوید کسی بھی فن پارے کو پرکھنے میں ادبی اور جمالیاتی قدروں کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس فن پارے سے ادب کو کیا فائدہ پہنچے گا اور عام قاری کس حد تک اس سے استفادہ کر سکے گا۔ اصولِ تنقید کے باب میں اگرچہ اُن کا رویہ سخت اور غیر لچک دار محسوس ہوتا ہے، مگر عملی تنقید میں وہ اعتدال اور افادیت کو پیش نظر رکھتے ہیں۔
وہ اُس ادب کے حامی ہیں جو عوام کی امنگوں کا ترجمان ہو، اُن کے مقاصد کی تکمیل کرے اور زندگی کو خوش گوار بنانے میں مددگار ثابت ہو۔ تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ادب میں حسن اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب فنی تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ ادب میں دو بنیادی عناصر ہوتے ہیں: ایک موضوع (جو کہا جا رہا ہے) اور دوسرا اسلوب و ہیئت (جس انداز میں کہا جا رہا ہے)۔
پروفیسر گوہر نوید نے تنقید پر گفتگو کرتے ہوئے مشکل اصطلاحات کے بجائے سادہ اور سلیس زبان اختیار کی ہے تاکہ قاری آسانی سے مفہوم تک رسائی حاصل کر سکے۔ اسی بنا پر انہوں نے احمد فراز کی مشکل پسندی پر بھی اعتراض کیا ہے۔ وہ شاعری میں رومانوی رجحان کے ساتھ حقیقت پسندی کے بھی قائل ہیں۔ اُن کے نزدیک شاعر اپنے عہد کی روح کا ترجمان ہوتا ہے، اس لیے شاعری جتنی حقیقت پسند ہوگی، اُس کا معیار بھی اتنا ہی بلند ہوگا۔
مندرجہ بالا بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پروفیسر گوہر نوید مردان کے ایک جینوئن اور امین نقاد ہیں جنہوں نے اُردو تنقید میں فکری دیانت، جمالیاتی شعور اور سماجی ذمے داری کے امتزاج کو فروغ دیا ہے۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: