تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو چیر کر شعور، خود اعتمادی اور خود کفالت کی روشنی پھیلاتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی کچھ ایسی متحد قوتیں موجود ہیں جو عورتوں کی تعلیم کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ بعض حلقوں میں یہ فرسودہ سوچ سننے کو ملتی ہے کہ عورت کا مقام صرف گھر تک محدود ہے۔ ایسی کہاوتیں اور روایتی تصورات عورت کے کردار کو محدود کر کے اس کی صلاحیتوں کو دبا دیتے ہیں، گویا اس کی پہچان صرف گھر کی چار دیواری تک ہی ہے۔ یہ مخالفت مختلف صورتوں میں سامنے آتی ہے۔ کبھی اسے سماجی روایت کا نام دیا جاتا ہے، کبھی مذہب کی غلط تعبیر کے پردے میں پیش کیا جاتا ہے، اور کبھی معاشی مجبوریوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کئی خاندانوں میں وسائل کی کمی کا جواز بنا کر بیٹوں کی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے اور بیٹیوں کی تعلیم کو ثانوی حیثیت دے دی جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنی زندگی کو باوقار بناتی ہے بلکہ پورے خاندان کی تربیت اور فکری نشوونما کا ذریعہ بنتی ہے۔ ایک ماں اگر تعلیم یافتہ ہو، تو وہ آنے والی نسلوں کو شعور اور اخلاق کی دولت سے مالا مال کر سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ شدت پسند عناصر نے عورتوں کی تعلیم کو روکنے کے لیے خوف اور تشدد کا راستہ بھی اختیار کیا۔ مگر ظلم کی تاریکی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ اسی معاشرے سے بہادر خواتین نے جنم لیا جنہوں نے علم کا پرچم بلند کیا۔ مثال کے طور پر ملالہ یوسف زئی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم کا مقدمہ پیش کیا اور یہ پیغام دیا کہ قلم کی طاقت گولی سے زیادہ مضبوط ہے۔ اسی طرح جلیلہ حیدر نے انسانی حقوق اور خواتین کی آواز کو جرأت کے ساتھ بلند کیا۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کم زور نہیں، بلکہ عزم و استقلال کی علامت ہے۔ اسلام بھی علم کو ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیتا ہے۔ دینِ اسلام میں کہیں بھی عورت کو تعلیم سے محروم رکھنے کی تعلیم نہیں دی گئی۔ لہٰذا عورتوں کی تعلیم کی مخالفت کو مذہب سے جوڑنا دراصل غلط فہمی یا ذاتی مفادات کا نتیجہ ہے۔ اصل مسئلہ سوچ کا ہے اور جب تک سوچ نہیں بدلے گی، حالات نہیں بدلیں گے۔
قارئین، اکیسویں صدی میں دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ادب اور تحقیق کے میدانوں میں خواتین نمایاں مقام حاصل کر رہی ہیں۔ جامعات میں طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ تبدیلی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ شعبۂ اُردو میں آنے والے نئے طلبہ نے تعارفی کلاس میں جب اپنے خیالات کا اظہار کیا، تو سماج کے تلخ حقائق سامنے آئے۔ گفتگو سے یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ عورتوں کو آج بھی جبر، ناانصافی اور محرومی کا سامنا ہے اور اس صورتِ حال سے نجات کا واحد راستہ تعلیم ہے۔ اسی تناظر میں جامعہ پشاور میں ایم فل اُردو کی ایک باہمت طالبہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ سماجی دباؤ، محدود وسائل اور روایتی رکاوٹوں کے باوجود علم کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی جدوجہد اس حقیقت کی علامت ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو، تو کوئی دیوار راستہ نہیں روک سکتی۔ اس کی کامیابی دراصل اُن تمام لڑکیوں کے لیے امید کی کرن ہے جو خواب تو رکھتی ہیں مگر سماج کے خوف سے قدم آگے نہیں بڑھا پاتیں۔ وہ ثابت کرتی ہے کہ عورت نہ صرف گھر کی زینت ہے بلکہ علم و تحقیق کے میدان میں بھی اپنی شناخت قائم کر سکتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عورتوں کی تعلیم کے خلاف متحد قوتیں وقتی طور پر رکاوٹ ضرور بن سکتی ہیں، لیکن علم کی روشنی کو ہمیشہ کے لیے نہیں بجھا سکتیں۔ ایک تعلیم یافتہ عورت پورے معاشرے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر ہم ایک باشعور، ترقی یافتہ اور باوقار قوم بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں عورتوں کی تعلیم کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح بنانا ہوگا۔ یہی ترقی کا راستہ ہے اور یہی روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ عورتوں کی تعلیم کے خلاف متحد قوتیں وقتی طور پر رکاوٹیں ضرور کھڑی کر سکتی ہیں، مگر وہ علم کے سورج کو ہمیشہ کے لیے غروب نہیں کر سکتیں۔ ہر وہ لڑکی جو مشکلات کے باوجود کتاب ہاتھ میں اٹھاتی ہے، وہ دراصل صدیوں پرانی زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خواب ہوتے ہیں۔
_______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: