پاکستان، مسجد اور ملٹری کے درمیان پھنسی ریاست

پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے، تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ ریاستی طاقت ہمیشہ عوامی اداروں کے بہ جائے دو غیر منتخب قوتوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایک بندوق کے زور پر اقتدار میں آنے والی فوج اور دوسری مذہب کے نام پر ذہنوں پر اثر رکھنے والا مذہبی طبقہ۔ حسین حقانی اپنی معروف کتاب Pakistan: Between Mosque and Military میں اسی گٹھ جوڑ کو پاکستان کے سیاسی بحران کی جڑ قرار دیتے ہیں۔
حقانی کے مطابق یہ اتحاد کسی فطری ہم آہنگی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ریاستی کم زوریوں اور جمہوری اداروں کی ناپختگی سے جنم لینے والا ایک وقتی بندوبست تھا، جو وقت کے ساتھ مستقل ڈھانچہ بن گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب پارلیمان، سیاسی جماعتیں اور آئینی ادارے مضبوط نہ ہو سکے، تو فوج نے خود کو ریاست کا محافظ اور واحد منظم ادارہ بنا کر پیش کیا۔ مگر طاقت کے اس کردار کو ایک نظریاتی جواز درکار تھا، جو مذہب نے فراہم کیا۔ یوں "اسلام کو خطرہ ہے” جیسے بیانیے فوجی بالادستی کے تحفظ کا مستقل ذریعہ بنتے چلے گئے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ پاکستان کے ہر فوجی آمر نے مذہب کو کسی نہ کسی صورت میں اپنی حکومت کے استحکام کے لیے استعمال کیا۔ ایوب خان سے لے کر جنرل ضیاء الحق تک، ہر دور میں مذہب کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنایا گیا، مگر ضیاء الحق کے زمانے میں یہ گٹھ جوڑ اپنی انتہا کو پہنچا، جب اسلامائزیشن کو قانون، تعلیم اور معاشرت میں زبردستی نافذ کیا گیا۔ حقانی کے نزدیک اس عمل نے نہ صرف سیاست کو مذہبی رنگ دیا بلکہ مذہب کو بھی طاقت کی سیاست کا آلہ کار بنا دیا۔
مذہبی طبقے پر تنقید کرتے ہوئے مصنف اس تلخ حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ علما کی ایک بڑی تعداد نے دین کو اخلاقی تربیت اور سماجی انصاف کے بجائے اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔ ریاستی سرپرستی ملنے کے بعد مذہبی گروہوں نے خود کو عوامی تائید کے بغیر اسلام کا واحد ترجمان قرار دینا شروع کیا۔ اختلافِ رائے کو کفر، غداری یا بیرونی سازش کہہ کر دبایا گیا، جس سے مکالمے اور جمہوری اقدار کا گلا گھٹتا چلا گیا۔ حقانی کے مطابق یہ رویہ نہ صرف جمہوریت بلکہ خود اسلام کی اصل روح کے منافی ہے۔
فوج پر تنقید کا دائرہ اور بھی گہرا اور ساختی نوعیت کا ہے۔ حقانی کے مطابق فوج نے صرف اقتدار ہی نہیں بلکہ خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور نظریاتی سرحدوں کا تعین بھی اپنے ہاتھ میں رکھا۔ سول ادارے محض رسمی ڈھانچے بن کر رہ گئے، جنہیں حقیقی فیصلوں سے دور رکھا گیا۔ بعض ادوار میں مذہبی گروہوں کو اسٹریٹ پاور اور پراکسی کے طور پر استعمال کیا گیا، خاص طور پر افغانستان اور کشمیر کے تناظر میں۔ مگر جب یہی عناصر ریاست کے لیے خطرہ بنے، تو اس کی قیمت عام شہریوں نے خون اور عدمِ استحکام کی صورت میں ادا کی۔
کتاب کا ایک نہایت اہم مگر تکلیف دہ نکتہ یہ ہے کہ ملا اور فوج کا یہ اتحاد عوام کو بااختیار بنانے کے بہ جائے انہیں خوف، جذبات اور نظریاتی نعروں میں الجھائے رکھتا ہے۔ مذہب کو سوال سے بالاتر اور فوج کو تنقید سے مقدس بنا دیا گیا۔ نتیجتاً ریاست جواب دہ ہونے کے بہ جائے طاقتور ہوتی گئی اور شہری کم زور۔ حقانی کے مطابق اسی سوچ نے پاکستان کو ایک "سکیورٹی اسٹیٹ” میں تبدیل کر دیا، جہاں تعلیم، معیشت، شہری آزادی اور سماجی ترقی ہمیشہ ثانوی حیثیت اختیار کرتی رہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ حسین حقانی کی تنقید افراد پر نہیں بلکہ ایک پورے نظام پر ہے۔ وہ فوج اور مذہب کے کردار کو تاریخ، پالیسی اور ریاستی فیصلوں کے تسلسل میں پرکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب تک ریاست مذہب کو سیاست سے اور فوج کو حکم رانی سے الگ نہیں کرے گی، پاکستان ایک حقیقی جمہوری، فلاحی اور پرامن ریاست نہیں بن سکے گا۔
یہ کتاب محض ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کو عقیدے کے لباس میں چھپانا اور عقیدے کو طاقت کے سہارے نافذ کرنا، دونوں ہی بالآخر معاشروں کو کم زور کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے، تو اسے بندوق اور منبر دونوں کو آئین اور عوام کے تابع کرنا ہوگا، ورنہ یہ دائرہ اسی طرح گھومتا رہے گا اور قیمت ہمیشہ عام آدمی ہی ادا کرتا رہے گا۔
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔