سابق مشیرِ خزانہ بلوچستان مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ نئے ریکوڈک (Rico Diq) منصوبے میں بلوچستان کو 25 فی صد حصہ ملنے کے ساتھ ساتھ وہاں روزگار کے 8000 نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں معاہدے پر دستخط کرنے کے موقع پر کنیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے سربراہ مارک برسٹو نے کہا کہ اگر سب کچھ منصوبے کے تحت جاری رہا، تو ریکوڈک سے پانچ سے چھ سال میں پیداوار شروع ہوگی۔
نئے معاہدے کے تحت منصوبے کا 50 فی صد حصہ کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کا ہوگا۔ جب کہ بقیہ 50 فی صد مساوی طور پر وفاقی حکومت اور بلوچستان کے درمیان تقسیم ہوں گے۔
وفاقی حکومت کا 25 فی صد حصہ تین سرکاری انٹر پرائزز کے درمیان برابر تقسیم ہوگا جو کہ اس میں سرمایہ کاری کریں گے۔ ان میں آئل اینڈ ڈویلپمنٹ کارپوریشن (او جی ڈی سی)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پاکستان لمیٹڈ شامل ہیں۔
حکام کے مطابق بقیہ 25 فی صد میں سے 10 فی صد کسی حصہ دار کے بغیر حکومتِ بلوچستان کے ہوں گے اور 15 فی صد حکومت بلوچستان کی کمپنی کے ہوں گے۔ ایک اعلامیے کے مطابق بلوچستان کی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ رائلٹی اور ٹیکسز کو ملا کر بلوچستان کو اس سے 33 فی صد سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہوگا۔
شیئرکریں: