شہید فضل حیات چٹان، خوف کے اندھیروں میں جلتا چراغ

سوات کی وادی فطرتی حسن کے ساتھ ساتھ جرات، شعور اور قربانی کی تاریخ بھی رکھتی ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ ایسے کردار پیدا کرتا رہا ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی حق، جمہوریت اور عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہی بے خوف شخصیات میں شہید فضل حیات چٹان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جنہوں نے شدت پسندی اور خوف کے ماحول میں بھی عوامی سیاست کا چراغ روشن رکھا اور خدمت کو سیاست کا حقیقی مقصد بنایا۔
قارئین، فضل حیات چٹان کا تعلق سوات کے ایک باوقار اور عوام دوست خاندان سے تھا جو سیاست کو ذاتی مفاد کے بہ جائے سماجی ذمے داری سمجھتا ہے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن بنے۔ بطورِ ناظم یونین کونسل قمبر انہوں نے مقامی حکومت کے نظام میں رہتے ہوئے عوامی مسائل کو اولین ترجیح دی۔ سڑکوں کی تعمیر ہو، تعلیمی سہولیات کی بہتری ہو یا صحت کے مراکز کی بحالی، ہر جگہ ان کی توجہ عام آدمی کی آسانی پر مرکوز رہی۔ یہی وجہ تھی کہ موصوف دفتروں میں کم اور عوام کے درمیان زیادہ نظر آتے تھے۔
جب سوات دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لپیٹ میں تھا، اُس وقت بہت سے لوگ خاموشی کو عافیت سمجھ رہے تھے۔ مگر موصوف نے خاموش رہنے کے بہ جائے امن، ریاستی رِٹ اور جمہوریت کے حق میں کھل کر آواز بلند کی۔ پیپلز پارٹی کے نظریے سے ان کی وابستگی محض سیاسی شناخت نہیں بلکہ ایک فکری عہد تھی جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے اور جبر کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی بے خوف رویہ آخرکار ان کی شہادت کا سبب بنا۔
قارئین، ان کی شخصیت کا سب سے خوب صورت پہلو ان کی سادگی اور خلوص تھا۔ کیوں کہ موصوف پروٹوکول کے خواہاں تھے اور نہ ہی عوام سے فاصلے رکھنے والے سیاست دان تھے۔ یہی وجہ تھی ان کا دروازہ ہر وقت سب کے لیے کھلا رہتا۔ اختلافِ رائے کو وہ دشمنی کے بہ جائے مکالمے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے حلقے میں سیاسی اختلاف کے باوجود ان کے لیے احترام پایا جاتا تھا۔
قارئین، سینئر صحافی فیاض ظفر کے مطابق فضل حیات چٹان جنہیں وہ محبت سے "خان دادا” کہتے تھے، کالج کے زمانے سے پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ تھے اور زندگی کے آخری لمحے تک پیپلز پارٹی کے وفادار رہے۔ 2012ء میں جب تحریکِ انصاف کا زور تھا اور ہر طرف شمولیت کا رجحان تھا، اُس وقت بھی ان کا ضمیر انہیں نظریات چھوڑنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ کیوں کہ ایک موقع پر تحریکِ انصاف کے ایک اہم راہ نما نے خیبر پختون خوا کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ PK-81 کے ٹکٹ کےلیے ان کا نام تقریباً فائنل کر دیا تھا۔ مگر کچھ دن بعد وہ خود فیاض ظفر کے پاس آئے اور کہا کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر رات وہ اپنے ضمیر سے سوال کرتے ہیں اور ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے کو محض ایک نشست کے لیے کیسے چھوڑ سکتے ہیں…؟ ان کے الفاظ تھے کہ وہ ایم پی اے یا وزیر بننے کے لیے اپنی نظریاتی سیاست کا سودا نہیں کریں گے۔
یوں 2013ء کے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر PK-81 سے الیکشن میں حصہ لیا۔ سوات کے خراب حالات اور خوف کے ماحول کے باوجود انہوں نے بھر پور انتخابی مہم چلائی اور 4427 ووٹ حاصل کیے۔ اگرچہ وہ کامیاب نہ ہو سکے، مگر انہیں اس بات کا فخر تھا کہ انہوں نے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ مرتے دم تک پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ رہیں گے اور وہ وعدہ انہوں نے نبھا کر دکھایا۔
قارئین، فضل حیات چٹان نہ صرف ایک سیاسی کارکن تھے بلکہ ایک باکردار انسان بھی تھے۔ وہ پابندِ نماز تھے، غریبوں کی حتی المقدور مدد کرتے، کبھی جھوٹ نہیں بولتے اور نہ ہی غیبت کرتے۔ انتہائی نڈر اور حق گو تھے۔ یہی اوصاف تھے جن کی بنیاد پر یونین کونسل قمبر کے عوام نے انہیں دوبار اپنا ناظم منتخب کیا۔ لیکن بدقسمتی قسمتی سے 12 نومبر 2014ء کی رات نمازِ عشا کے بعد جب وہ مسجد سے گھر لوٹ رہے تھے، تو بزدل عناصر نے انہیں فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔ ان کی شہادت نے پورے سوات کو غم میں ڈبو دیا۔ بلوگرام فٹ بال گراؤنڈ میں ان کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ عوام کے دلوں میں کس قدر محبوب تھے۔ فوج کی جانب سے سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین نے ان کی حب الوطنی اور بے گناہی کی تصدیق کی۔
قارئین، موصوف کی یاد آج بھی زندہ ہے۔ ان کے گاؤں کی فٹ بال ٹیم کو "شہید فضل حیات چٹان فٹ بال کلب” کا نام دینا اس محبت اور عقیدت کی ایک مثال ہے۔ مزید یہ کہ ان کا خاندان آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہو کر سیاسی و سماجی میدان میں سرگرم ہے، جو ان کے نظریاتی مشن کے تسلسل کی علامت ہے۔
فضل حیات چٹان کو تو جسمانی طور پر خاموش کرا دیا گیا مگر ان کی سوچ، جرات اور خدمت آج بھی زندہ ہے۔ وہ کسی ایک دور یا جماعت کا نام نہیں بلکہ سوات کی سیاسی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے کا ضمیر ہوتے ہیں جو اندھیروں میں بھی روشنی کا راستہ دکھاتے ہیں۔ بلاشبہ شہید فضل حیات چٹان سوات کی سیاست کی وہ آخری چٹان تھے جو طوفانوں کے سامنے بھی ڈٹے رہے اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا اُن کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین۔
_______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔