انیسویں صدی کے اختتام پر شمال مغربی سرحدی خطہ برطانوی سامراج اور مقامی قوتوں کے مابین شدید سیاسی و عسکری کشمکش کا مرکز بن چکا تھا۔ عمرا خان جندولی جو جندول اور ملحقہ علاقوں میں ایک مضبوط مقامی حکمران کی حیثیت رکھتے تھے، نے چترال پر حملے کے ذریعے اپنی سیاسی وسعت بڑھانے کی کوشش کی۔ تاہم اپریل 1895ء میں برطانوی فوجی مداخلت جسے تاریخ میں چترال ریلیف فورس کے نام سے جانا جاتا ہے، نے نہ صرف چترال کا محاصرہ ختم کیا بلکہ عمرا خان کی خان اِزم کے مکمل خاتمے پر بھی منتج ہوئی۔
عمرا خان کی شکست کے بعد برطانوی حکام نے جندول اور ترکلانی علاقوں میں طاقت کے نئے توازن کے قیام کے لیے انتظامی اصلاحات نافذ کیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد مقامی مزاحمت کو کمزور کرنا اور ایسے سرداروں کو مضبوط کرنا تھا جو برطانوی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت عبدالمجید خان جو عمرا خان کے چچازاد بھائی اور چترال پر حملے کے دوران میں باجوڑی دستوں کے کمانڈر تھے، کو منڈہ علاقے کا خان مقرر کیا گیا۔ انہیں گیارہ رائفلیں اور دو توپیں عطا کی گئیں جو ایک طرف ان کی سیاسی حیثیت کو مستحکم کرنے اور دوسری جانب برطانوی اقتدار کے لیے وفاداری کی علامت تھیں۔
باڑوا جو جندول کی خانیت بلکہ پورے ترکلانی خطے کا دارالحکومت تصور کیا جاتا تھا، بدستور سید احمد خان کے قبضے میں رہا۔ سید احمد خان کا تعلق دیر کے حکمران خاندان سے تھا اور وہ محمد شریف خان کا بہنوئی تھا۔ اس تقرری نے مقامی سیاست میں خاندانی وابستگیوں اور برطانوی سرپرستی کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کر دیا۔
عمرا خان کے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ بھی مفاہمتی نوعیت کا رویہ اختیار کیا گیا۔ میر افضل خان کو ان کا سابقہ گاؤں تور واپس دیا گیا، جب کہ میر حسن خان کو چودہ نامی گاؤں عطا کیا گیا، اگرچہ وہ مایار میں رہائش پذیر رہے۔ اسی طرح دام تل کا گاؤں عمرا خان کے سوتیلے بھائی زین اللہ خان کے حوالے کیا گیا۔ یہ اقدامات بہ ظاہر مصالحتی تھے، مگر درحقیقت ان کا مقصد خاندان کو منتشر رکھنا اور کسی ممکنہ متحدہ مزاحمت کے امکانات کو ختم کرنا تھا۔
تاہم یہ نیا بندوبست مقامی سطح پر مکمل طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ عبدالمجید خان، عمرا خان کے دیگر رشتہ داروں اور علاقے کے متعدد سرداروں نے سید احمد خان اور شیر افضل خان (محمد شریف خان دیر کے بہنوئی) کی باڑوا اور موضع صدبر کے خان کے طور پر توثیق پر شدید ناراضگی ظاہر کی۔ خصوصاً باڑوا کی حیثیت ایک علامتی اور سیاسی مرکز کے طور پر تھی، جس پر کنٹرول پورے علاقے میں اقتدار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ عبدالمجید خان کی خواہش تھی کہ یہ دارالحکومت ان کے قبضے میں آئے تاکہ وہ جندول میں دوبارہ مرکزی حیثیت حاصل کر سکیں۔
دلچسپ طور پر عمرا خان کے خاندان کی جندول واپسی کے بعد علاقے میں کسی بڑی شورش یا برطانوی کیمپوں پر حملے کی اطلاع نہیں ملتی۔ شمو زئی، سالار زئی، ماموند اور دیگر علاقوں سے گزرنے والی برطانوی فوجی نقل و حرکت بھی نسبتاً پُرامن رہی۔ یہ صورتِ حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ برطانوی حکمتِ عملی وقتی طور پر مقامی مزاحمت کو دبانے میں کامیاب رہی۔
دوسری جانب عمرا خان خود افغانستان میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ محمد شاہ خان کی رپورٹ کے مطابق کابل کے علاقے وصل آباد میں عمرا خان کے ساٹھ گھوڑے اور دو سو بریز لوڈنگ رائفلیں امیرِ افغانستان کے سپہ سالار نے ضبط کر لیں۔ عمرا خان نے دو مرتبہ امیر سے اپنی اسلحہ واپسی کی درخواست کی، مگر امیر نے صاف انکار کر دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ افغان حکمران بھی عمرا خان کو ایک ممکنہ سیاسی بوجھ اور برطانوی دباؤ کا سبب سمجھتے تھے۔
مزید برآں امیرِ افغانستان کی جانب سے عمرا خان کو سالانہ پچیس ہزار روپے وظیفے اور خادم کی حیثیت دینے کی پیش کش بھی کی گئی، جسے عمرا خان نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے حج پر جانے کی اجازت طلب کی اور اس خدمت کو قبول کرنے سے معذرت کی، یہ کہتے ہوئے کہ باجوڑ کے لوگ اسے باعثِ تضحیک سمجھیں گے کہ وہ ایک ناکافی وظیفے پر گزارا کریں۔ یہ ردِعمل عمرا خان کی خود داری، سیاسی شعور اور مقامی سماجی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو اپریل 1895ء کے بعد جندول اور ترکلانی علاقوں میں ہونے والے یہ انتظامی اقدامات برطانوی سامراجی پالیسی کا حصہ تھے، جن کا مقصد براہِ راست قبضے کے بجائے بالواسطہ حکمرانی (Indirect Rule) کے ذریعے علاقے کو کنٹرول میں رکھنا تھا۔ عمرا خان جندولی کی خان اِزم کا خاتمہ صرف ایک مقامی حکمران کی شکست نہیں تھا بلکہ یہ اس وسیع تر نوآبادیاتی منصوبے کی کامیابی تھی جس کے تحت سرحدی علاقوں میں طاقت کے روایتی ڈھانچوں کو توڑ کر برطانوی مفادات کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دیا گیا۔
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: