پختون سیاست اور قومی جدوجہد کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ یہ قربانیاں صرف سیاسی کارکنوں یا راہ نماؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے گھرانے، ان کے خواب اور ان کی آنے والی نسلیں بھی اس آگ میں جلتی رہی ہیں۔ ایسے ہی ایک دردناک مگر باوقار باب کا نام میاں راشد حسین شہید ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو خود تو زندگی کی دہلیز پر ہی شہید کر دیا گیا، مگر پختون قومی تحریک کے لیے حوصلے، استقامت اور نظریاتی جرات کی ایک مستقل علامت بن گیا۔
میاں راشد حسین شہید، عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر راہ نما اور دہشت گردی کے خلاف بے خوف آواز میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کا تعلق ایک ایسے سیاسی گھرانے سے تھا جہاں سیاست اقتدار یا مفاد کا نام نہیں، بلکہ عوامی خدمت، جمہوریت، آئین، پختون شناخت اور امن کی جدوجہد سمجھی جاتی تھی۔ اگرچہ ان کی تاریخِ پیدائش مستند ذرائع میں محفوظ نہیں، تاہم یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ وہ ایک تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور ذمے دار نوجوان تھے، جو پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) میں گریڈ 17 کے ایڈمن آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
2008ء سے 2013ء تک خیبر پختون خوا دہشت گردی کی بدترین لہر کی لپیٹ میں رہا۔ اُس دور میں شدت پسندی، طالبانائزیشن اور مذہبی جبر کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز دہشت گردوں کے نشانے پر تھی۔ عوامی نیشنل پارٹی اپنے سیکولر، جمہوری اور پختون قوم پرستانہ مؤقف کے باعث خاص طور پر تشدد کا ہدف بنی۔ میاں افتخار حسین جو دھمکیوں، حملوں اور ذاتی خطرات کے باوجود اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹے رہے، دہشت گردوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتے رہے۔ چنانچہ دشمن نے سیاست دان کو نہیں، اس کے گھر کو نشانہ بنانے کا راستہ اختیار کیا۔
24 جولائی 2010ء کو نمازِ عصر ادا کرکے مسجد سے نکلتے ہوئے، پبی ضلع نوشہرہ میں، میاں راشد حسین اپنے ایک دوست کے ہم راہ معمولی سی چہل قدمی پر تھے کہ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ چار گولیاں سر اور چار سینے پر لگیں۔ میاں راشد حسین موقع پر ہی شہید ہو گئے جب کہ ان کے ساتھی شدید زخمی ہوئے۔ یہ واردات محض ایک قتل نہیں تھی، بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام تھا کہ "اگر تم خاموش نہیں ہو گے، تو تمہارے گھر اجاڑ دیے جائیں گے۔”
یہی دہشت گردی کی اصل حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ قیادت کو نہیں، تو اس کے بچوں کو مار کر پورے معاشرے کو خوف میں مبتلا کرنا۔ مگر اس بار دہشت گرد اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ کیوں کہ میاں راشد حسین کی شہادت کے بعد جو منظر سامنے آیا، وہ دہشت گردی کے تمام اندازوں کے برعکس تھا۔ ایک باپ، جس کا اکلوتا بیٹا اس کے سامنے چھین لیا گیا، نہ ٹوٹا، نہ جھکا، نہ انتقام کی بات کی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ "میرا بیٹا قربان ہوا ہے، میری سوچ نہیں۔” یہ الفاظ محض صبر کا اظہار نہیں تھے، بلکہ دہشت گردی کے بیانیے کی مکمل شکست تھی۔

میاں راشد حسین شہید کی بچپن کی ایک یادگار تصویر
فوٹو: میاں افتخار حسین

شہادت کے بعد پورا خیبر پختون خوا سوگ میں ڈوب گیا۔ نمازِ جنازہ میں سیاسی و سماجی حلقوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ لمحہ پختون سیاست کی تاریخ میں اس لیے یادگار ٹھہرا کہ یہاں ایک ذاتی سانحہ اجتماعی حوصلے میں ڈھلتا نظر آیا۔ میاں افتخار حسین نے دکھ کو کم زوری نہیں بلکہ نظریاتی طاقت میں بدل دیا۔
اسی سوچ کے تسلسل میں "میاں راشد حسین شہید فاؤنڈیشن” قائم کی گئی، جس کے تحت میاں راشد حسین شہید میموریل ہسپتال نوشہرہ اور گرد و نواح کے غریب و نادار افراد کو علاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے، جب کہ یتیم بچوں اور بچیوں کے لیے تعلیمی ادارے بھی قائم کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کی عملی دلیل ہیں کہ دہشت گردی جان تو لے سکتی ہے، مگر خدمتِ انسانیت، تعلیم اور زندگی کے تسلسل کو نہیں روک سکتی۔
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بیٹے کی شہادت کے باوجود میاں افتخار حسین آج بھی اسی جرات، اسی وضاحت اور اسی نظریاتی وابستگی کے ساتھ پختون قومی تحریک، جمہوریت، آئین اور امن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نہ دھمکیاں انہیں جھکا سکیں، نہ ذاتی سانحات انہیں راستے سے ہٹا سکے۔ ان کی سیاست ذاتی دُکھ سے بلند ہو کر اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہے۔
میاں راشد حسین شہید ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دہشت گردی صرف جسموں کو نہیں، نظریات کو قتل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جن نظریات کے پیچھے قربانی، سچائی اور عوامی وابستگی ہو، انہیں بندوق سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
راشد حسین شہید محض ایک فرد نہیں تھے۔ وہ ایک سوال تھے اور ایک جواب بھی۔ سوال یہ کہ ہم کب تک خوف کے آگے جھکتے رہیں گے…؟ اور جواب یہ کہ جب میاں افتخار حسین جیسے لوگ موجود ہوں، تو یہ جھکنا ممکن ہی نہیں۔
یہ زمین خاموش ہے، مگر اس کے سینے میں دفن لہو چیختا ہے، گواہی دیتا ہے۔ راشد حسین شہید کی صورت میں ایک بیٹے نے، ایک پختون فرزند نے اپنی جان دے کر ہمیں یاد دلایا کہ یہ جنگ صرف ایک باپ کی نہیں ہم سب کی جنگ ہے۔ جاتے جاتے پشتو زبان کے اس ٹپے پر اجازت طلب کرنا چاہوں گا کہ:
اغیار دے ٹیٹی سترگے گرزی
دہ میوند جنگ ترے ملالے گٹلے ونہ
___________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: