برِصغیر پاک و ہند کی آزادی کی جدوجہد میں بعض تحریکیں محض سیاسی نہیں تھیں بلکہ فکری، اخلاقی اور سماجی انقلاب کی علامت بن کر اُبھریں۔ انہی تحریکوں میں ایک عظیم اور منفرد تحریک خدائی خدمت گار تحریک تھی جس نے عدمِ تشدد، خدمتِ خلق اور انسانی وقار کو مزاحمت کی بنیاد بنایا۔ اس تحریک کے سپاہیوں میں خدائی خدمت گار محمد افضل خان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جو اپنی ذات میں ایک پورا عہد سموئے ہوئے تھے۔
1930ء میں جب برِصغیر میں آزادی کی تحریک ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی تھی، محمد افضل خان نے اپنی زندگی کا رُخ عوامی خدمت اور قومی جدوجہد کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے خدائی خدمت گار تحریک میں شمولیت اختیار کی اور فخرِ افغان باچا خان کے سرخ پوش قافلے کا حصہ بن گئے۔ اس تحریک کا بنیادی فلسفہ عدمِ تشدد تھا، جو اُس دور میں مسلح مزاحمت کے رجحان کے برعکس ایک جرات مندانہ اور انقلابی سوچ کی نمائندگی کرتا تھا۔
محمد افضل خان نے باچا خان کے نظریات کو نہ صرف قبول کیا بلکہ عملی طور پر انہیں اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ وہ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ عوام کو شعور دیتے، انہیں غلامی کے خلاف کھڑا ہونے اور اپنی اصلاح پر توجہ دینے کی تلقین کرتے۔ خدائی خدمت گار تحریک دراصل برِصغیر کے محکوم عوام کو خود داری، خود انحصاری اور سماجی خدمت کا درس دیتی تھی اور محمد افضل خان اس پیغام کے سچے ترجمان تھے۔
جب انگریز سامراج کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک زور پکڑ گئی، تو خدائی خدمت گاروں کو برِصغیر کے مختلف علاقوں میں منظم جدوجہد کی ذمے داریاں سونپی گئیں۔ محمد افضل خان کو بھی دیگر رفقا کے ہم راہ اُس وقت کے صوبہ اتر پردیش (موجودہ بھارت) بھیجا گیا۔ وہاں انہوں نے عوام کو انگریز مصنوعات کے بائیکاٹ، مقامی صنعتوں کے فروغ اور کھڈی کے ذریعے اپنا کپڑا تیار کرنے کی ترغیب دی۔ یہ محض معاشی سرگرمی نہ تھی بلکہ غلامی کے خلاف ایک خاموش مگر موثر مزاحمت تھی۔
وہ گھر گھر جا کر لوگوں میں سیاسی شعور بیدار کرتے، خود انحصاری کا پیغام دیتے اور خدائی خدمت گار تحریک کے مقاصد واضح کرتے رہے۔ اُس دوران وہ دیگر سرکردہ کارکنوں کے ساتھ ایک ہی خیمے میں قیام کرتے اور مل کر مختلف علاقوں میں تحریکی سرگرمیاں جاری رکھتے۔ یہ وہ دور تھا جب نظریے کے لیے ذاتی آرام، سہولت اور تحفظ سب قربان کیے جاتے تھے۔
سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں محمد افضل خان کو متعدد بار گرفتار کیا گیا۔ ان پر بغاوت جیسے سنگین الزامات عائد ہوئے، قید و بند کی سختیاں برداشت کرنا پڑیں اور تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 1946ء میں ان کی آخری گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ دیہات میں جا کر انگریز راج کے خلاف ایک عوامی جلسے کی تیاری کر رہے تھے۔ سرد رات، سناٹا اور رات کے آخری پہر گرفتاری، یہ سب اس جدوجہد کی قیمت تھی جو خدائی خدمت گار تحریک کے کارکن بہ خوشی ادا کرتے تھے۔
انہیں صوبے کی مختلف جیلوں میں منتقل کیا گیا، جہاں خدائی خدمت گاروں کو سیاسی قیدیوں کا درجہ دینے کے بہ جائے عام قیدیوں کے ساتھ رکھا جاتا تھا، تاکہ ان کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ مگر عدمِ تشدد کے اس فلسفے کے پیروکار نہ جھکے، نہ بکے۔ بعد ازاں اعلیٰ سطحی مداخلت پر انہیں بہتر درجہ دیا گیا، جو ان کی قربانیوں کا ایک رسمی اعتراف تھا۔
خدائی خدمت گار محمد افضل خان کی زندگی دراصل خدائی خدمت گار تحریک کی عملی تصویر ہے۔ یہ تحریک برِصغیر کی تاریخ میں اس لیے منفرد ہے کہ اس نے تشدد کے بغیر سامراج کو للکارا، عوام کی اخلاقی تربیت کی اور آزادی کو خدمتِ خلق سے جوڑا۔ محمد افضل خان جیسے کارکن اس بات کی گواہی ہیں کہ اصل انقلابات بندوق سے نہیں، کردار اور نظریے سے برپا ہوتے ہیں۔
آج جب ہم برِصغیر کی آزادی کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں، تو خدائی خدمت گار تحریک اور اس کے بے لوث کارکن ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قومیں تبھی زندہ رہتی ہیں جب ان کے پاس قربانی دینے والے، خدمت کرنے والے اور عدمِ تشدد پر یقین رکھنے والے کردار موجود ہوں۔ محمد افضل خان انہی کرداروں میں ایک درخشاں نام ہیں۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ خدا ان کی اور تمام خدائی خدمت گارو کی مغفرت فرمائے، آمین۔
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
