پشتو زبان کی نامور فوک گلوکارہ “زرسانگہ” (Zar Saanga) کا اصل نام “زلوبے” (جلیبی) ہے۔ وہ خیبر پختون خوا کے ضلع بنوں “ظفر ماما خیل گاؤں” میں پرویز کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی جادوئی آواز سے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعے عوام کے دلوں پر حکومت کی۔ اندرون و بیرونِ ملک “میوزک کنسرٹس” میں شرکت کی اور خوب داد پائی۔ حتیٰ کہ پشتو زبان سے ناآشنا سامعین بھی آپ کی سریلی آواز سے محظوظ ہوتے ہیں۔
چی پہ سینہ دے زنگووم، جوٹی وھینہ
دہ د غاڑی لونگینہ، دہ غاڑی
ریڈیو پاکستان پشاور کے معروف شاعر اور مصنف لائق زادہ لائقؔ، زرسانگہ کے فن اور شخصیت کے حوالے سے کچھ یوں رقم طراز ہیں: “زرسانگہ نے سال 1938ء کو بنوں کے علاقے “سرائے نورنگ” میں جنم لیا۔ والد کا نام پرویز تھا (جو نسلاً “بیٹنی” تھے)۔ انہوں نے ملاجان سے پسند کی شادی کی ہے۔ ملاجان معروف موسیقار “خان تحصیل” کے چچا زاد ہیں۔ زرسانگہ بچپن میں پشتو زبان کی مشہور گلوکارہ “گلنار بیگم” سے بے حد متاثر تھیں۔ یہ اکثر اُن کے گائے ہوئے گیت اپنے ساتھ گنگناتی تھیں۔ مصطفیٰ خان جو ریڈیو سٹیشن پشاور میں “بینجو” بجایا کرتے تھے، ان کی زرسانگہ کے خاندان کے ساتھ راہ و رسم تھی۔ جب انہوں نے زرسانگہ کو گاتے ہوئے سنا، تو ان کو اپنے ساتھ ریڈیو سٹیشن لے گئے۔ وہاں پر ان کو اُس وقت کے پروڈیوسر رشید علی خان دہقان سے ملوایا۔ انہیں زرسانگہ کی آواز بھا گئی۔ گلنار بیگم نے بھی اُن کا حوصلہ بڑھایا اور یوں وہ اپنے شوہر “ملاجان” کے لکھے ہوئے گیت گانے لگی۔”
زرسانگہ کے اونچے سُروں میں گانے کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خاندان کے ساتھ پہاڑوں اور دشت میں خیموں میں زندگی بسر کی ہے۔ اس بنا پر قدرت نے انہیں “صحرائی آواز” سے نوازا ہے۔ آج بھی زرسانگہ خیبر پختون خوا کے ضلع نوشہرہ میں کچے گھر میں بسیرا کرتی ہیں۔
زرسانگہ “ڈیوہ ریڈیو” کے رپورٹر کو اپنے گھریلو معلومات کی تفصیل کچھ یوں دیتی ہیں: “میرا تعلق نورنگ سرائی میں ظفر ماما خیل سے ہے۔ بچپن ہی میں والدین گزر گئے اور ہم تین بہنوں کی ذمہ داری ایک بھائی کے کاندھوں پر آگئی۔ میرے والد نسلاً “بیٹنی” اور ماں گل امام” تھیں۔ بچپن میں، مَیں بھیڑ بکریاں چراتی تھی اور پہاڑوں میں یوں گنگناتی تھی:
راوڑہ بندئی، بندئی چی وَ پیرونہ
جانانہ بیرے لہ رازہ چی وَ زانگونہ
جب والد صاحب نے گاتے ہوئے سنا، تو انہوں نے مجھے ایک چماٹ رسید کی۔ مَیں نے بھی کہا کہ مَیں اپنے شوق سے مجبور ہوں۔ ہمارے خاندان میں مجھ سے پہلے کوئی اس میدان میں آیا تھا اور نہ اب کسی کا دھیان اس طرف جاتا ہے۔ میرا ایک شوہر “ملاجان”، چھے بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔‘‘
اپنے فن کی شہرت کے حوالے سے کہتی ہیں: “گاؤں میں شادی بیاہ کی تقریبات میں مجھے سہیلیاں بطورِ خاص مدعو کرتی تھیں۔ یہی عمل میری شہرت کا باعث بنا اور مجھے پشاور ریڈیو سٹیشن تک رسائی دے گیا۔ مَیں اَڑوس پڑوس میں شادی بیاہ کے موقعوں پر گایا کرتی تھی۔ استاد “مصطفی خان” نے جب میری آواز سنی، تو اپنے ساتھ پشاور ریڈیو سٹیشن جانے کے لیے کہا۔ اس حوالہ سے میرے والد نے صاف انکار کیا، مگر میں نے ہار نہیں مانی اور کہا کہ بابا مجھے جانے دو، میری خواہش پوری ہوجائے گی۔ یوں میرا ریڈیو اسٹیشن جانے کا سفر شروع ہوا۔ وہاں پر مجھے بہت پذیرائی ملی اور عوام نے میرے گیتوں کو پسند کیا۔ میری اس کامیابی میں میرے اساتذہ شیرافگن، گل خان بنوسی اور جلال سرحدی کے علاوہ ڈھیر سارے چاہنے والوں کا یکساں ہاتھ ہے۔”
زرسانگہ اپنے فن کے بیرونی ملک سراہے جانے کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ “مَیں نے لندن، فرانس، جرمنی، امریکہ، تاجکستان اور افغانستان میں پروگرام کیے ہیں، جن پر اچھی خاصی داد ملی ہے۔”

اپنی فن کی وجہ سے شہرت کے بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود زرسانگہ خیمے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی

پشتونوں پر ناز کرتے ہوئی کہتی ہیں کہ دنیا کے جس خطۂ زمین پر پشتون آباد ہیں، انہوں نے وہاں بلایا ہے اور میرے فن کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
زرسانگہ کا اک مشہور گیت ملاحظہ ہو:
خلک پہ کانڑو باندی ولی صحرانے دے کنہ
راشہ ماما زوئے دی لیونے دے
زرسانگہ اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے حکومت سے ماہانہ وظیفے کی درخواست کچھ یوں کرتی ہیں: “کچے گھر میں بسیرا ہے۔ مفلس زدہ زندگی ہے۔ بے بس و لاچار ہوں۔ حکومت کی طرف سے فن کے اعتراف میں ڈھیر سارے ایوارڈز ملے ہیں، مگر اب غربت نے آگھیرا ہے۔ اس وجہ سے مالی معاونت کی طلب گار ہوں، جس سے میرا گزر بسر باعزت طریقے سے ہو۔”
زرسانگہ نے خیبر پختون خوا کے نامور گلوکار “خان تحصیل” کے ساتھ مل کر علاقائی گیت گائے ہیں جو سننے والوں نے پسند کیے ہیں۔ جیسا کہ ایک گیت میں زرسانگہ کہتی ہیں:
“سہ نرے باران دے
پہ ما ناکام دے
دَ جانان دیدن لہ زمہ
باران دے”
جواباً خان تحصیل کہتے ہیں:
“مہ رازہ شیرینی
ستا بہ لمدے شی
دَ نریٔ زنے خالونہ
باران دے”
زرسانگہ کی گلوکاری کے حوالے سے پاکستان ٹیلی وژن پشاور کے سابقہ پروڈیوسر شوکت علی کہتے ہیں کہ زرسانگہ کی فنی خدمات کو نہیں بھلایا جاسکتا: “زرسانگہ جب اونچے سُروں میں “یاقربان!” گاتی ہیں، تو سننے والوں کو اپنی طرف متوجہ کردیتی ہیں۔ ان کی آواز سے پشتون مٹی کی مہک آتی ہے۔ اس حوالے سے میں ایک واقعہ بیان کرنا چاہوں گا، جس نے اس وقت ہم سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ مَیں، احمد خان، خیال محمد، زرسانگہ اور رفیق شنواری ساتھ بیٹھے تھے کہ رفیق شنواری نے اُستاد احمد خان سے کہا کہ وہ “یاقربان” کے ساتھ ٹپہ کا آغاز لیں۔ ان کے ٹپہ کے بعد شنواری صاحب نے زرسانگہ کو اشارہ کیا کہ وہ آغاز لیں۔ زرسانگہ نے احمد خان سے اونچے سروں میں اپنی صحرائی آواز کا جادو جگایا۔ استاد نے جب ایک بار پھر احمد خان کو اشارہ کیا، تو انہوں نے زرسانگہ سے بھی اونچا سُر کھینچا، مگر اس کے بعد زرسانگہ نے جن انتہائی اونچے سُروں میں ’’یا قربان‘‘ کہا، تو کمرہ ایک طرح سے گونج اٹھا۔ یہ انداز دیکھ کر احمد خان اُٹھ گئے، زرسانگہ کے قریب جاکر ان کے سامنے دو زانو ہوکر بیٹھ گئے اور کہا کہ میں آپ کے سُروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔”
پروڈیوسر شوکت علی زرسانگہ کی شخصیت کے حوالے سے مزید کہتے ہیں: “زرسانگہ انتہائی منکسر المزاج اور خاکسار خاتون ہیں۔ انہوں نے کبھی میرے ساتھ اعزازیہ کی بات نہیں کی۔ مَیں ہر تین ماہ بعد انہیں ضرور مدعو کیا کرتا اور ان سے گیت ریکارڈ کروایا کرتا۔ ایک دفعہ میں نے اُن سے جدید آلاتِ موسیقی کے ساتھ گیت ریکارڈ کرانے کو کہا جس پر اُن کی رضامندی دیکھ کر اُن سے “کی بورڈ” اور “سیکسو فون” کے ذریعے گیت ریکارڈ کروائے، جن میں سے ایک یہ تھا:
ٹوقی می کولی خو لہ ٹوقی نہ رختیا شولہ
شوکت علی خیبر پختون خوا میں فنِ موسیقی کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں اور بتاتے ہیں کہ “فنِ موسیقی پشتون قوم کی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے۔ اگر ہم نے اس ورثہ کو زندہ رکھنا ہے، تو اس کے لیے موسیقی کی درس گاہ قائم کرنا ہوگی، جس میں ہمیں زرسانگہ اور ان جیسے بڑے نامور گلوکاروں اور موسیقاروں کو بطورِ اساتذہ رکھنا ہوگا۔ یوں ان جیسی اور بھی مدھر آوازیں اور موسیقی سامنے آجائے گی۔ یوں ان کی طرف سے فن کی خدمت بھی جاری رہے گی اور ان کا بڑھاپا بھی باعزت طریقے گزرے گا۔”
(مشال ریڈیو کی شائع کردہ ہارون باچا کی پشتو تصنیف ’’نہ ھیریگی نہ بہ ھیر شی‘‘ سے ’’زرسانگہ‘‘ کا ترجمہ)
_________________________
قارئین، یہ تحریر دراصل سجاد احمد کی ہے جسے لفظونہ ڈاٹ کام نے شایع کروایا تھا۔ ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: