سوات کے ثقافتی اور تفریحی منظرنامے کا ایک روشن باب اُس وقت ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا جب 1966ء میں تعمیر ہونے والے سوات سنیما کو مسمار کر دیا گیا۔ یہ محض ایک عمارت نہیں تھی بلکہ نصف صدی سے زائد عرصے تک سوات اور پورے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی اجتماعی یادوں، مسکراہٹوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہی۔
سوات سنیما وہ مقام تھا جہاں پشتو، اُردو اور انگریزی زبانوں کی مقبول فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جاتی تھیں۔ روزانہ تین شوز، ہر شو تین گھنٹوں پر مشتمل، علاقے کے لوگوں کے لیے تفریح کا باقاعدہ تہوار ہوا کرتے تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ یہاں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ بزرگ شہری بھی شوق سے آتے، یوں یہ سنیما نسلوں کو آپس میں جوڑنے والی ایک سماجی جگہ بن چکا تھا۔
وقت کے ساتھ حالات بدلے۔ ملک بھر میں سنیما انڈسٹری کی زبوں حالی، جدید ڈیجیٹل تفریحی ذرائع، اور سماجی رجحانات میں تبدیلی نے سوات سنیما کو بھی متاثر کیا۔ طویل عرصے تک غیر فعال رہنے کے بعد آخرکار اسے مسمار کر دیا گیا، اور یوں سوات کی فلمی و تفریحی تاریخ کا ایک سنہرا دور ماضی کا قصہ بن گیا۔
سوات کے عوام اور فن و ثقافت سے وابستہ حلقوں نے اس اقدام پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوات سنیما صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں تھا بلکہ یہ سوات کی تہذیبی شناخت، اجتماعی یادداشت اور ماضی کی علامت تھا، جسے محفوظ کر کے نئی نسل کو اپنے ثقافتی ورثے سے جوڑا جا سکتا تھا۔
سوال یہ نہیں کہ ایک پرانا سنیما کیوں بند ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے تاریخی اور ثقافتی نشانات کو کتنی آسانی سے مٹا دیتے ہیں اور پھر خالی جگہ پر صرف خاموشی باقی رہ جاتی ہے۔
شیئرکریں: