پاکستان کی سیاست میں ایسے راہ نما کم پیدا ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے عہد و منصب کی ذمے داری نبھائیں بلکہ اصول، نظریہ اور عوامی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں۔ میاں مشتاق شہید انہی راہ نماؤں میں سے تھے، جنہوں نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) پشاور کے صدر اور سینئر راہ نما کے طور پر نہ صرف پارٹی کی خدمت کی بلکہ اپنے حلقے کے عوام کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ان کی سیاسی شناخت ایک مضبوط، اصول پسند اور عوام دوست راہ نما کی تھی، جس نے ہمیشہ دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف واضح موقف اختیار کیا۔
قارئین، میاں مشتاق کی زندگی کا ہر لمحہ عوام کی خدمت اور پارٹی کی مضبوطی کے لیے وقف رہا۔ وہ اپنے علاقے کے ہر محلے، ہر گلی میں پہنچ کر لوگوں کے مسائل سنتے، ان کے دُکھ درد کو سمجھتے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے۔ اے این پی میں ان کی قیادت نے پارٹی کو مضبوط کرنے، مقامی کارکنوں کو فعال کرنے اور نوجوانوں کو سیاست میں لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ ایک مخلص اور بے لوث راہ نما تھے، جنہیں نہ صرف پارٹی کے کارکن بلکہ عوام بھی دل و جان سے مانتے تھے۔
لیکن زندگی میں کچھ لوگ اپنے اصولوں کی وجہ سے دشمنوں کی نظر میں آ جاتے ہیں۔ میاں مشتاق کی بہادری اور بے خوفی نے بعض شدت پسند عناصر کو بُرا محسوس کروایا۔ اے این پی کی پالیسی ہمیشہ امن، ترقی اور سیکولر اصولوں کی حمایت پر مبنی رہی ہے اور میاں مشتاق نے ان اصولوں کے لیے ہر خطرے کو قبول کیا۔ یہی موقف دراصل ان کی شہادت کی وجہ بنا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان کا میاں مشتاق شہید سے پیار بھرا انداز
فوٹو: ابدالؔی

12 جنوری 2014ء کو پشاور کے مضافاتی علاقے ماشو خیل کے قریب، نامعلوم مسلح افراد نے میاں مشتاق کی گاڑی پر فائرنگ کی، اور چند لمحوں میں وہ، ان کے ڈرائیور اور ایک ساتھی جاں بحق ہو گئے۔ یہ ایک نشانہ وار حملہ تھا، جس نے نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری پارٹی اور عوام کو غم زدہ کر دیا۔ پارٹی نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ میاں مشتاق کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے تھے اور عوام کے حقوق کے لیے لڑتے تھے۔ یہ حملہ صرف ایک شخص کا قتل نہیں بلکہ ایک سیاسی اور نظریاتی کوشش تھی جس کا مقصد طاقت اور خوف کے ذریعے اصول پسند راہ نماؤں کو خاموش کرانا تھا۔
ان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ سیکورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود لوگ اپنے رہنما کو آخری وداعی دینے کے لیے جمع ہوئے۔ اس موقع پر اے این پی کے قائدین نے کہا کہ میاں مشتاق کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور دہشت گردی کے خلاف جماعت کا موقف کبھی کم زور نہیں ہوگا۔ ان کی زندگی اور موت نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان میں امن، ترقی اور عوامی خدمت کے لیے کھڑے رہنے والا ہر راہ نما خطرات سے دوچار ہوتا ہے، لیکن میاں مشتاق نے اپنے اصول، عوامی خدمت اور پارٹی کے نظریے کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔
میاں مشتاق کی شہادت نے اے این پی کے موقف کو اور بھی مضبوط کیا۔ ان کی بے خوفی، عوام کے ساتھ وفاداری اور اصول پسندی آج بھی پارٹی کے کارکنوں اور عوام کے لیے مشعل راہ ہے۔ وہ نہ صرف ایک سیاسی راہ نما تھے بلکہ ایک مخلص انسان بھی تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں دُکھ، مشکلات اور خطرات کے باوجود عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا۔ ان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ عوام کے حقوق، امن اور ترقی کے لیے جدوجہد کا نام ہے۔
آج بھی پشاور کے لوگ میاں مشتاق کو یاد کرتے ہیں، ان کی قربانی کو دل میں رکھتے ہیں اور ان کی زندگی سے سبق سیکھتے ہیں۔ میاں مشتاق شہید نے ثابت کیا کہ اصول، شجاعت اور عوامی خدمت ہی حقیقی راہ نمائی کی بنیاد ہے، اور ایسے راہ نما ہمیشہ تاریخ کے صفحات میں زندہ رہتے ہیں۔
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: