پشتو شاعری کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو ہجوم میں نعرے نہیں لگاتے، مگر ان کی خاموشی زمان و مکان کی حدوں کو توڑ کر گونجتی ہے۔ تسکین مانیروال انہی ناموں میں شامل ہیں۔ صوابی کی مٹی میں جنم لینے والا یہ شاعر بہ ظاہر ایک عام اُستاد تھا، مگر باطن میں لفظوں کا ایسا مسافر جس نے محبت، انسان دوستی، امن، اجتماعی دُکھ اور قومی شعور کو پشتو شاعری کا وقار بنایا۔
تسکین مانیروال 15 ستمبر 1949ء کو مانیرئی پائیں، ضلع صوابی میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن اور جوانی کا عرصہ پختون معاشرے کے گہرے سماجی اور سیاسی مسائل کے ماحول میں گزرا۔ وہ کم عمری سے ہی شاعری کی طرف مائل ہوئے اور یہ شوق ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن گیا۔ ان کی ادبی تربیت میں پشتو کے کلاسیکی شعراء جیسے رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کا اثر نمایاں رہا، مگر وہ صرف کلاسیکی اسلوب کے پیروکار نہیں تھے بلکہ اپنی ذاتی فکر، تجربات اور مشاہدات کو بھی کلام کا حصہ بنایا۔
تسکین مانیروال نہ صرف شاعر تھے بلکہ ایک معلم اور سماجی راہ نما بھی تھے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں بہ طورِ ہیڈ ماسٹر خدمات انجام دیں اور نسلوں کو ادب، اخلاقیات اور علم سے روشناس کرایا۔ ان کی تدریسی زندگی نے انہیں انسان کی فطرت، معاشرتی حساسیت اور قومی شعور کو بہتر سمجھنے کا موقع دیا، اور یہی شعور ان کے کلام میں جھلکتا رہا۔
ان کی واحد باقاعدہ کتاب "چی خہ خوشی صحرا وے” 2011ء میں منطرِعام پر آئی جو پشتو شاعری میں ان کے مقام کو نمایاں کرتی ہے۔ اس کتاب میں وہ روایتی رومانوی شاعری سے ہٹ کر انسانی تجربات، فطرت کی خوب صورتی، سماجی انصاف اور قومی شعور کے موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ انہوں نے شاعری کو صرف ذاتی اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے معاشرتی اور قومی شعور بیدار کرنے کا ایک آلہ بنایا۔
تسکین مانیروال کی شاعری کی خاص بات یہ تھی کہ وہ سادہ زبان میں گہرے معنی بیان کرتے تھے۔ ان کا فلسفۂ شاعری یہ تھا کہ شاعری صرف لفظوں کی خوب صورتی نہیں بلکہ انسانی دلوں کو جاگانے، شعور پیدا کرنے اور اخلاقی و معاشرتی تعلیم دینے کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ بلند آواز میں احتجاج کرنے کے بہ جائے خاموشی اور وزن کے ساتھ حقیقت کو اجاگر کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں انسانی جذبات، محبت، وفاداری، وطن دوستی اور قومی شعور کا امتزاج نمایاں ہے۔
ان کے اثرات صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہے۔ تسکین مانیروال کی شخصیت اور کلام نے صوابی اور مردان کے ادبی حلقوں میں نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔ ان کے تجربات اور فلسفۂ حیات نے قاری کو نہ صرف ادبی ذوق عطا کیا بلکہ انسانی جذبات، اخلاقیات اور معاشرتی شعور کو بھی اجاگر کیا۔ وہ ہمیشہ معاشرتی ناانصافی، قومی محرومی اور انسانی حقوق کے علمبردار رہے۔
تسکین مانیروال نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر علم، تعلیم اور شعور کے لیے وقف کیا۔ وہ ایک ایسا شاعر تھے جنہوں نے اپنی تخلیقات میں محبت اور انسانی احساس کو مرکزی حیثیت دی، مگر اس کے ساتھ قومی شعور اور سماجی ذمے داری کا بھی بھرپور اظہار کیا۔ ان کی زندگی اور ادبی خدمات نے پختون معاشرے میں اخلاقی اور فکری بیداری پیدا کی اور انہیں پشتو ادب کی روشن مثال بنا دیا۔
قارئین، پشتو شعر و ادب کا یہ درخشاں ستارہ 10 جنوری 2022ء کو صوابی میں وفات پا گئے۔ ان کے انتقال کے بعد ادبی اور سماجی حلقوں نے انہیں پشتو ادب کا اعلیٰ ستون اور پختون قومی شعور کا علمبردار قرار دیا۔ ان کی شخصیت، فکر اور ادبی خدمات آج بھی پختون معاشرے اور ادب کے لیے ایک مستند اور قابلِ تقلید ماخذ ہیں۔
تسکین مانیروال کی شاعری ایک خاموش انقلاب تھی جو آج بھی پختون معاشرے کے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کی زندگی اور کلام ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ حقیقی اثر، لفظوں کی گہرائی میں ہے، نعرے اور بلند آواز میں نہیں۔ وہ ہمیشہ خاموشی میں احتجاج، محبت میں وقار اور زندگی کے ہر پہلو میں اخلاقی شعور کی یاد دلاتے رہیں گے۔
جاتے جاتے موصوف کے اس کلام کو قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا جو ان کی زندگی کی خود اعتمادی اور ذاتی فلسفۂ حیات ہے، اور اس کا خوب صورت اظہار ان کے اس مشہور شعر میں ملتا ہے کہ:
زما د ژوند قیسہ
بلھا د خوند قیسہ
پہ مانیرئی کے اوسم
د خکلو زائے کے اوسم
نامہ تسکین لرمہ
پہ عشق یقین لرمہ
سہ نوکری اوشوہ
سہ شاعری اوشوہ
ٹولی نشی می اوکڑی
خی تماشی می اوکڑی
پہ زان کانی می اوکڑی
خی یارانی می اوکڑی
عمر می شپگ پنزوس
خو موڑ لا نہ یم تر اوس
خیال می سو نور کالہ
بلکی سلور کالہ
شپیتو کے زوڑ بہ شم
سہ قدری موڑ بہ شم
سہ لگ شان سوڑ بہ شم
خداے کہ می نور ساتی
نور بہ څہ نہ کوم زیاتی
خلک پہ عقل تللی
ما دی د زڑہ منلی
وادہ می نہ دے کڑی
لاڑ بہ شم زہ نیمگڑے
پہ زڑہ چاودلی ستڑی
شعر اولاد لرم
زان بہ پری یاد لرم
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: