پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک جملہ بار بار دہرایا جاتا ہے کہ فیصلے عوام کرتے ہیں، مگر معیشت غیر ملکی ایما پر چلتی ہے۔ اس بیانیے کو اُس وقت مزید تقویت ملتی ہے جب ہم پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی کرسی پر بیٹھنے والے چہروں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ ایک طویل فہرست ہے ایسے افراد کی جو ہوائی جہاز سے اُترے، حلف اُٹھایا، قوم کو آئی ایم ایف کے کڑوے نسخے پلائے اور اپنا کام مکمل کر کے دوبارہ انہی عالمی اداروں کی پناہ میں چلے گئے جہاں سے وہ آئے تھے۔
اس پوری فہرست میں ڈاکٹر مبشر حسن کا نام ایک روشن استثنا کے طور پر اُبھرتا ہے۔ وہ محض وزیرِ خزانہ نہیں تھے بلکہ اس مٹی کے دانشور اور عوامی امنگوں کے ترجمان تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی تعلیم اور تجربہ مغرب سے ضرور حاصل کیا، مگر انہوں نے کبھی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کی ملازمت کو اپنا تمغہ نہیں بنایا۔ ان کا نظریہ عوامی معیشت تھا، جہاں ریاست کا کام عالمی ساہوکاروں کے قرضے اتارنا نہیں بلکہ اپنے لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان فراہم کرنا تھا۔
وہ پاکستان کے شاید آخری وزیرِ خزانہ تھے جنہوں نے معاشی پالیسی واشنگٹن کے اشاروں پر نہیں بلکہ غریب کی جھونپڑی کو سامنے رکھ کر بنائی۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے بعد پاکستان کی معیشت جیسے آؤٹ سورس کر دی گئی۔ ایک کے بعد ایک ایسے نام سامنے آئے جن کی جڑیں پاکستان کے گلی کوچوں کے بہ جائے نیویارک اور واشنگٹن کے بینکوں میں تھیں۔
معین قریشی، جو بہ راہِ راست ورلڈ بینک کی نائب صدارت سے اُٹھ کر آئے اور پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ شوکت عزیز، جنہوں نے سٹی بینک کی تیس سالہ ملازمت کے بعد پاکستان کی معیشت کو ایک کارپوریٹ کمپنی کی طرح چلانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور شاہد جاوید برکی، جن کا اوڑھنا بچھونا ورلڈ بینک رہا، ان سب کی پالیسیاں ہمیشہ اسی عالمی بیانیے کے گرد گھومتی رہیں جو ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے جال میں جکڑے رکھتا ہے۔ محمد اورنگ زیب حالیہ دور کی مثال ہیں، جو جے پی مورگن جیسے بڑے عالمی مالیاتی ادارے سے وابستہ رہے۔
دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے ان عالمی ماہرین کی ضرورت ہے کیوں کہ ان کے عالمی اداروں سے مراسم ہوتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ماہرین جب پاکستان آتے ہیں، تو ان کے پاس حل کے نام پر وہی ایک نسخہ ہوتا ہے جو آئی ایم ایف تجویز کرتا ہے یعنی ٹیکس بڑھاؤ، سبسڈیز ختم کرو اور روپے کی قدر گرا دو۔
یہ افراد تکنیکی طور پر چاہے کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں، ان کے دلوں میں وہ تڑپ نہیں ہوتی جو ایک مٹی سے جڑے سیاست دان یا محبِ وطن دانشور میں ہوتی ہے۔ ان کے لیے پاکستان ایک پروجیکٹ ہوتا ہے، جسے مکمل کر کے انہیں واپس اپنے پرآسائش عالمی دفاتر میں لوٹ جانا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پالیسیاں وقتی طور پر اعداد و شمار کو سہارا دے بھی دیں تو عام آدمی کی زندگی میں صرف مہنگائی، بے یقینی اور مایوسی ہی لاتی ہیں۔
پاکستان کی معاشی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک معیشت کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہے گی جن کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی اور مراعات کا انحصار عالمی بینکوں پر ہے، تب تک پاکستان کی معیشت خود مختار نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ معیشت محض حساب کتاب کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک سیاسی عزم ہے، ایسا عزم جو اپنے عوام کے مفاد کو عالمی اداروں کے مفاد پر مقدم رکھتا ہے۔
جب تک ہم امپورٹڈ ماہرین کے سحر سے باہر نہیں نکلیں گے، ہماری وزارتِ خزانہ واشنگٹن کے ایک ذیلی دفتر سے زیادہ کچھ نہیں رہے گی۔ یہ تلخ حقیقت شواہد سے ثابت ہے کہ جب تک معاشی فیصلے مٹی سے جڑے دانشوروں کے بہ جائے غیر ملکی بینکوں کے سابقہ ملازمین کرتے رہیں گے، پاکستان کی معیشت ترقی کے بہ جائے صرف قرضوں کی ادائیگی کے گرد گھومتی رہے گی۔ آج ہمیں پھر ایک ایسے معاشی وژن کی ضرورت ہے جو واشنگٹن کے بہ جائے پاکستان کے عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔
_______________________________
ابدالی انتظامیہ کےلیے ضروری نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو بہ راہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کیجیے۔ تحریر شائع کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
