قمرو جان مرحومہ، پشتو موسیقی کا ایک معتبر حوالہ

پشتو موسیقی کی تاریخ میں بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف کانوں میں نہیں بلکہ تہذیبی حافظے میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ قمرو جان بھی انہی آوازوں میں سے ایک تھیں۔ وہ 20 دسمبر 2025ء بہ روزِ جمعہ کو اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا فنی ورثہ چھوڑ گئیں جو پشتو موسیقی کی شناخت بن چکا ہے۔ ان کی وفات محض ایک فن کارہ کا انتقال نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی خاموشی ہے۔
قارئین، قمرو جان بی بی کا تعلق پشتو موسیقی کے ایک معروف اور روشن گھرانے سے تھا۔ وہ تقریباً 1935ء میں نواب خان کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل تعلق ضلع صوابی کے علاقے مانیرئی سے تھا، تاہم یہ خاندان بعد میں مردان منتقل ہوا اور پھر "پار ہوتی” میں سکونت اختیار کی، جو اس زمانے میں فن کاروں اور موسیقاروں کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ قمرو جان کے والد نواب خان ہارمونیم کے ماہر فن کار تھے۔ وہ ہارمونیم بجانے کے ساتھ ساتھ گیت اور لوک دھنیں بھی گایا کرتے تھے۔ گھر کا یہی فنی ماحول قمرو جان کے لیے موسیقی کی پہلی درس گاہ ثابت ہوا۔
نواب خان کے دو بیٹے تھے، جن میں ایک کا تعلق موسیقی سے تھا، جب کہ دوسرے بیٹے شمشیر خان، جو سکول میں درجۂ چہارم کے ملازم تھے، موسیقی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ قمرو جان نے ابتدائی طور پر موسیقی کی تعلیم اپنے اسی بھائی سے حاصل کی، مگر بدقسمتی سے وہ کم عمری میں وفات پا گئے۔ اس کے بعد قمرو جان نے پشاور کا رُخ کیا اور وہاں کلاسیکی موسیقی کے نامور استاد نواب علی خان کی شاگردی اختیار کی۔ استاد نواب علی خان استاد خیال محمد، استاد شاہ ولی افغان اور انور خیال جیسے بڑے اساتذہ کے ساتھ وابستہ رہے۔ یہی وہ تربیت تھی جس نے قمرو جان کی آواز کو پختگی، ٹھہراؤ اور کلاسیکی بنیاد عطا کی۔
سن 1955ء میں قمرو جان ریڈیو پشاور پہنچیں۔ اُس وقت موسیقی کے شعبے کے انچارج رشید علی دہقان تھے اور آڈیشن کے موقع پر اُستاد سبز علی خان بھی موجود تھے۔ جیسے ہی قمرو جان کی آواز گونجی، فیصلہ اسی لمحے ہو گیا۔ رشید علی دہقان نے بغیر کسی تاخیر کے انہیں اسی دن دو گیت ریکارڈ کروانے کی اجازت دے دی۔ ان میں ایک مشہور گیت "اوبہ دی وڑینہ، پاسہ لالیہ مازیگر دے اوبہ دی وڑینہ” تھا، جسے بعد میں ماہ جبین اور دیگر گلوکاراؤں نے بھی گایا اور جو آج تک شائقین ذوق و شوق سے سنتے ہیں۔ دوسرا گیت یوسف خان شیربانو کی "بدلہ” پر مبنی تھا، جو پشتو لوک روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔
قمرو جان ہر صنف میں گانے کی بھر پور صلاحیت رکھتی تھیں، مگر "بدلہ” ان کی پسندیدہ صنف تھی۔ انہوں نے خود رشید علی دہقان سے درخواست کی کہ انہیں بدلہ گانے کا موقع دیا جائے، اور یہی وہ موڑ تھا جہاں قمرو جان کی پہچان ایک ممتاز بدلہ گلوکارہ کے طور پر مستحکم ہو گئی۔ یوسف خان شیربانو سمیت کئی بدلے انہوں نے ایسے دل نشیں انداز میں گائے کہ وہ سننے والوں کے دلوں میں بس گئے۔
انہوں نے اپنے دور کے متعدد معروف مرد گلوکاروں کے ساتھ جوڑی گیت بھی گائے، جن میں استاد فضل ربی شامل ہیں، جو آج کے معروف گلوکار عرفان کمال کے والد تھے۔ اس کے علاوہ ملا عبدالوہاب اور استاد احمد گل کے ساتھ ان کی ریکارڈ شدہ آوازیں آج بھی ریڈیو کے آرکائیوز کی زینت ہیں۔ خواتین گلوکاراؤں میں نگار سلطان، باچا زرین جان اور معشوق سلطان کے ساتھ ان کی رفاقت نے پشتو موسیقی کو کئی یادگار گیت دیے۔
قمرو جان نے اپنے عہد کے ممتاز موسیقاروں کے طرز پر بھی بے شمار گیت گائے۔ رفیق شنواری، راحت حسین، قاضی حبیب اللہ، فرخ سیر شمعی اور شیر افغان استاد جیسے موسیقاروں کے ساتھ ان کی آواز نے پشتو موسیقی کو ایک خاص وقار عطا کیا۔ جب پشاور ٹیلی وژن نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تو قمرو جان نے وہاں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے ٹیلی وژن پر اکیلے بھی گایا اور دیگر فن کاروں کے ساتھ بھی، تاہم استاد احمد گل کے ساتھ گائی گئی ان کی ٹپے غیر معمولی حد تک مقبول ہوئیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ قمرو جان اپنے دور کی مشہور گلوکاراؤں خانم جان، دلبر جان بلبلہ اور باچا زرین جان کی سوتیلی بہن تھیں۔ باچا زرین جان کے والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ بی بی نے قمرو جان کے والد نواب خان سے شادی کی تھی۔ قمرو جان نے کبھی شادی نہیں کی اور ساری زندگی اپنے بھائی شمشیر خان کے ساتھ پار ہوتی مردان میں مقیم رہیں۔ عمر کے آخری حصے میں بڑھاپے اور دیگر مشکلات کے باعث ان کی زندگی آزمائشوں سے دوچار رہی، مگر ان کی آواز کی مٹھاس اور وقار میں کبھی کمی نہیں آئی۔
معروف گلوکارہ گلنار بیگم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں قمرو جان کی آواز بے حد پسند ہے۔ یہ جملہ دراصل قمرو جان کے فن کا سب سے بڑا اعتراف ہے۔ آج سے تقریباً ڈھائی سال قبل، 11 جولائی 2023ء کو نشتر ہال پشاور میں معروف گلوکار اور آرٹس کمیونٹی کے چیئرمین ڈاکٹر راشد احمد خان نے قمرو جان اور استاد احمد گل کی تاج پوشی کی تھی، جو ان کی خدمات کا ایک یادگار اعتراف تھا۔
قارئین، پشتو لوک موسیقی کا یہ سنہرا دور یعنی قمرو جان 20 دسمبر 2025ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں اور اسی روز شام 08 بجے انہیں پار ہوتی مردان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
قارئین، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ قمرو جان جیسی معتبر آواز ہم سے رخصت ہو گئی، جنازہ بھی اُٹھا اور مٹی بھی نصیب ہوئی، مگر پختون قوم کی اکثریت کو خبر تک نہ ہو سکی کہ وہ کس درجے کا ایک ثقافتی اثاثہ کھو بیٹھی ہے۔ یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا المیہ ہے کہ ہم زندہ روایات کی قدر نہیں کرتے، نہ اپنے فن کاروں کو ان کے جیتے جی پہچانتے ہیں اور نہ ان کے بچھڑنے پر رُک کر سوچتے ہیں۔ پختون سماج شاید اب اس نہج پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں فن، تاریخ اور تہذیب خاموشی سے دفن ہو جاتے ہیں اور شور صرف غیر ضروری موضوعات پر برپا ہوتا ہے۔ قمرو جان کی خاموش رخصتی دراصل ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ ہماری ثقافتی یادداشت کے ایک قیمتی باب کے بند ہونے کی علامت ہے۔
قارئین، قمرو جان کی رحلت سے اگرچہ پشتو موسیقی ایک معتبر آواز سے محروم ہو گئی، مگر ان کی گائی ہوئی بدلے، ٹپے اور لوک دھنیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ایسی آوازیں وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتیں، بلکہ نسلوں کے حافظے میں چراغ بن کر جلتی رہتی ہیں۔
_______________________________
ابدالی انتظامیہ کےلیے یہ ضروری نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو بہ راہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کیجیے۔ تحریر شائع کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔