1990ء کے عام انتخابات میں جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار مولانا حسن جان نے خان عبدالولی خان کو شکست دی، تو اس انتخابی ناکامی کے بعد خان عبدالولی خان نے عملی سیاست سے دست بردار ہونے کا اعلان کر دیا۔ ان کی عملی سیاست سے کنارہ کشی کے بعد ان کے صاحب زادے سینیٹر اسفندیار ولی خان پختون قوم پرست سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔
تاہم، پارٹی کی سینئر قیادت جس میں محمد افضل خان لالا، غلام احمد بلور، بشیر احمد بلور، شہید فضل حمید خان داوڑ، سینیٹر حاجی عدیل اور مردان، چارسدہ اور صوابی سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم راہ نما شامل تھے، نے اس امر پر زور دیا کہ خان عبدالولی خان محض ایک سابق سیاست دان نہیں بلکہ تحریک کے فکری و اخلاقی راہ نما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ پارٹی کی اس اجتماعی رائے کے نتیجے میں خان عبدالولی خان کو “رہبرِ تحریک” (Patron-in-Chief) کا اعزازی اور علامتی منصب دیا گیا، جو ان کے تاریخی کردار، نظریاتی ورثے اور سیاسی بصیرت کا اعتراف تھا۔

بحوالہ،
Akhtar Hussain, "Begum Nasim Wali Khan: A Poltical Profile.” Unpublished Thesis submitted to University of Swat, December 2022, page, 01.
شیئرکریں: