رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان اپنی معروف تصنیف "باچا خان اور خدائی خدمت گاری” (جلد دوم) کے صفحہ 403 میں صدارتی انتخاب کے تناظر میں ایک اہم تاریخی واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ شاہی باغ، چارسدہ میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کا ایک اجلاس مولانا بھاشانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے دوران انہوں نے ساتھیوں سے کہا:
“میں نے ساتھیوں سے ویسے ہی کہہ دیا کہ اگر میری مانتے ہو تو ہمیں اپنے پپو (ایوب خان) کے مقابلے میں اس بوڑھی عورت کو کھڑا کرنا چاہیے۔”
خان عبدالولی خان مزید واضح کرتے ہیں کہ اس جرگے میں محترمہ فاطمہ جناح کا نام دراصل باچا خان ہی نے تجویز کیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کی نامزدگی محض ایک سیاسی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا، اصولی اور علامتی فیصلہ تھا، جس کے پیچھے باچا خان کی جمہوری بصیرت اور آمریت مخالف سیاسی حکمتِ عملی کارفرما تھی۔
1965ء کے صدارتی انتخابات کےلیے فاطمہ جناح کا نام کس نے تجویز کیا تھا؟
