برِصغیر کی تاریخ میں خدائی خدمت گار تحریک محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کی علامت رہی ہے، جس نے عدمِ تشدد، شعور اور خدمتِ خلق کے اصولوں کو فروغ دیا۔ اس تحریک کے قائدین نے نہ صرف اپنے خطے بلکہ دنیا بھر کے محققین کو بھی متاثر کیا۔ انہی اثرات کی ایک روشن مثال موکلیکا بینرجی کی تحقیقی کاوش ہے، جو رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان کی سرپرستی سے ممکن ہوئی۔

قارئین، باچا خان ایجوکیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ، پروفیسر ڈاکٹر سہیل خان کے مطابق رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان جب ایک موقع پر ہندوستان گئے، تو وہاں ائیرپورٹ پر ایک لڑکی نے اُنہیں گل دستہ پیش کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ خدائی خدمت گار تحریک اور اس کے سماجی اثرات پر پی ایچ ڈی (PhD) کرنا چاہتی ہے، مگر لندن اسکول آف اکنامکس کے ایڈوانس اسٹڈی بورڈ نے اس کا تحقیقی پروپوزل یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ ڈیٹا جمع کرنے کے لیے اُسے پاکستان اور صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خوا) جانا پڑے گا، جہاں ویزہ، رہائش اور سیکیورٹی جیسے مسائل درپیش ہوں گے۔ یہ سن کر ولی خان نے شفقت سے اُس لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ "آپ ویزہ اور رہائش کی فکر نہ کریں، یہ دونوں میں خود دلوا دوں گا۔ آپ بس اپنا تحقیقی کام شروع کریں۔” اس محقق لڑکی کا نام موکلیکا بینرجی (Mukulika Banerjee) تھا۔
یوں موکلیکا 1992ء میں چارسدہ آئیں اور ولی باغ میں چھے ماہ قیام کیا۔ اس دوران میں انہوں نے اُس وقت کے زندہ تمام خدائی خدمت گاروں کے تفصیلی انٹرویوز کیے اور تحریک سے متعلق قیمتی تاریخی مواد جمع کیا۔ یوں رہبرِ تحریک کی سرپرستی اور تعاون سے موکلیکا نے اپنا تحقیقی کام مکمل کیا اور آکسفورڈ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی تھیسز کو کتابی صورت میں شائع کیا، جس کا نام The Pathans Unarmed ہے۔
قارئین، ایک دل چسپ منظر یہ ہے کہ انڈین فلموں کے سپر سٹار شاہ رُخ خان اس کتاب کو اپنے ہاتھوں میں تھامے مطالعہ کر رہے ہیں۔ کتاب کے سرورق پر چارسدہ کے ایک خدائی خدمت گار قدرت شاہ کاکا اپنی مخصوص وردی میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ شاہ رُخ خان کے دادا میر جان محمد خان خدائی خدمت گار تحریک پشاور کے سالار رہے، جب کہ ان کے والد میر تاج محمد خان تحریک کے سرگرم رُکن تھے۔
قارئین، موکلیکا بینرجی کی تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ خدائی خدمت گار تحریک کی جدوجہد نے عالمی سطح پر علمی توجہ حاصل کی اور اس کے اثرات سرحدوں سے ماورا رہے۔ خان عبدالولی خان کی حوصلہ افزائی اور تعاون نے نہ صرف ایک محقق کے خواب کو حقیقت میں بدلا بلکہ اس تحریک کی تاریخ کو محفوظ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آج یہ داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی تحریکیں وقت اور فاصلے کی قید سے آزاد ہو کر انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔
شیئرکریں: