مملکتِ خداداد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا تاریخی اجلاس 15 اگست 1947ء بہ روزِ جمعہ صبح 09 بجے کراچی اسمبلی ہال میں منعقد ہوا۔ یہ وہ ساعتِ نایاب تھی جب برِصغیر کے مسلمانوں کی دہائیوں پر محیط جدوجہد ایک آزاد ریاست کی صورت میں دنیا کے نقشے پر اُبھری۔ اسی اجلاس میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ اُن سے یہ حلف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر عبدالرشید نے لیا۔
حلف برداری کے بعد قائدِ اعظم نے پاکستان کی پہلی وفاقی کابینہ سے حلف لیا اور نو مولود مملکت کی حکومتی بنیادیں استوار کیں۔ ملک کے پہلے وزیرِ اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کو وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ وزارتِ خارجہ، کامن ویلتھ ریلیشنز اور وزارتِ دفاع کی اضافی ذمے داریاں سونپی گئیں۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر (آئی آئی چندریگر) کو وزارتِ صنعت، تجارت اور ورکس دی گئی، غلام محمد کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا گیا، جب کہ سردار عبدالرب نشتر وزارتِ مواصلات کے قلم دان کے نگران بنے۔
اسی طرح غضنفر علی خان کو خوراک، زراعت اور صحت کی وزارت سونپی گئی، جوگیندرا ناتھ منڈال کو وزارتِ قانون و محنت دی گئی، فضل الرحمان کو داخلہ، اطلاعات و نشریات اور تعلیم کی ذمے داریاں تفویض کی گئیں، جب کہ برطانوی راج کے تجربہ کار افسر سر آرچی بلڈ رونلڈ کو مالی امور کا مشیر مقرر کیا گیا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح نے حکومتی نظم و نسق کو مؤثر بنانے کے لیے برطانوی راج کے کئی ٹیکنوکریٹس کو بھی انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنایا۔ مشرقی بنگال کے گورنر کے طور پر سر فیڈرک بورنی، مغربی پنجاب کے گورنر کے طور پر سر فرانسس نیوڈی اور صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خوا) کے گورنر کے طور پر سر جارج کونیگم تعینات کیے گئے۔ سندھ اور بلوچستان میں گورنر اس لیے مقرر نہیں کیے گئے کہ یہ دونوں صوبے بہ راہِ راست گورنر جنرل قائدِ اعظم کے ماتحت تھے۔
یہ تمام اقدامات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی لمحات ہی میں قائدِ اعظم نے ریاست کو آئینی، انتظامی اور حکومتی اعتبار سے ایک منظم سمت دینے کی بھرپور کوشش کی، تاکہ نئی مملکت داخلی استحکام اور بین الاقوامی وقار کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر سکے۔
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا یہ اجلاس محض ایک رسمی تقریب نہیں تھا بلکہ ایک ریاست کے فکری، سیاسی اور انتظامی خدوخال متعین کرنے کا نقطۂ آغاز تھا۔ آج جب ہم تاریخ کے اس باب کو پلٹتے ہیں، تو یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاستیں محض جغرافیہ سے نہیں بلکہ وژن، قیادت اور درست فیصلوں سے وجود پاتی ہیں۔
_______________________________
راقم کی یہ تحریر آج یعنی 24 مارچ 2023ء بہ روزِ جمعہ، روزنامہ آزادی سوات میں پہلی بار شائع ہوئی ہے۔ ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: