میراوس اور ہمارے عہد کی بے حِسی

پشتو زبان و ادب میں مزاح محض ہنسی کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی شعور، تنقید اور عوامی احساسات کی ترجمانی بھی رہا ہے۔ اس روایت میں جن فن کاروں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے نہ صرف لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں بلکہ پشتو ثقافت کو بھی دوام بخشا، ان میں میراوس کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ تین نسلوں پر حکمرانی کرنے والے اس بے مثال مزاح نگار کا اصل نام حیات خان تھا، جو 1955ء میں صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع چارسدہ، گاؤں تنگی کے محلے ملا خیل میں پیدا ہوئے۔
میراوس نے 1980ء کی دہائی میں ریڈیو پاکستان پشاور سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ وہ زمانہ جب ریڈیو ہی عوامی تفریح اور شعور کا سب سے بڑا ذریعہ تھا، میراوس اپنی منفرد آواز، برجستہ مکالمے، گہری طنزیہ کاٹ اور دیہی سماج سے جڑے موضوعات کے باعث جلد ہی گھر گھر پہچانے جانے لگے۔ ان کے فن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مزاح کے پردے میں معاشرتی برائیوں، طبقاتی فرق اور روزمرہ مسائل کو اس انداز سے بیان کرتے کہ سننے والا ہنستے ہنستے سوچنے پر مجبور ہو جاتا۔
میراوس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی مزاحیہ شاعری اور پیروڈی کی اب تک 766 آڈیو کیسٹس ریکارڈ ہو چکی ہیں، جو پاکستان میں ایک منفرد ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک، مرد و خواتین سب ان کے فن کے یکساں مداح رہے۔ چار دہائیوں پر محیط یہ فنی سفر دراصل پشتو عوام کے اجتماعی ذوق اور ثقافتی تسلسل کی کہانی بھی ہے۔
ریڈیو کے ساتھ ساتھ میراوس نے ٹیلی ویژن پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے مقبول پروگرام “آباسین” میں ان کی شرکت ناظرین کے لیے ایک خوشگوار لمحہ سمجھی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ وہ 18 مختلف ممالک میں جا کر اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے نہ صرف پختون کمیونٹی بلکہ دیگر اقوام کو بھی پشتو مزاح سے روشناس کرایا۔
ادبی میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی مزاحیہ شاعری اور لطیفوں پر مشتمل کتاب "خندا پہ ٹوقو ٹوقو کے” پشتو مزاحی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میراوس کا فن محض اسٹیج یا آڈیو تک محدود نہیں بلکہ تحریری ادب میں بھی اپنی مضبوط جگہ رکھتا ہے۔
دلچسپ اور باعثِ فخر پہلو یہ ہے کہ خود میراوس کے مطابق ان کی فن کارانہ خدمات کے اعتراف میں برونائی دارالسلام کے عجائب گھر "مادم تساؤ” میں ان کا ایک مجسمہ بھی نصب کیا گیا ہے، جو پشتو ثقافت کے عالمی تعارف کی علامت ہے۔
بدقسمتی سے پشتو مزاح کا یہ روشن چراغ 03 اپریل 2025ء کو ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔ میراوس کی وفات محض ایک فن کار کی جدائی نہیں بلکہ پشتو ثقافت، عوامی تفریح اور سماجی شعور کے ایک پورے عہد کا اختتام ہے۔
آج کے دور میں جب مزاح اکثر سطحی اور وقتی ہنسی تک محدود ہو چکا ہے، میراوس جیسے فن کار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل مزاح وہ ہے جو دل کو بھی چھوئے اور ذہن کو بھی جھنجھوڑ دے۔ میراوس اب ہم میں موجود نہیں، مگر ان کی آواز، ان کا طنز، ان کی مسکراہٹ اور ان کا فن ہمیشہ پختون سماج کے اجتماعی حافظے میں زندہ رہے گا۔
بلاشبہ وہ محض ایک فن کار نہیں تھے بلکہ ایک روایت، ایک عہد اور پشتو مزاح کی بے تاج بادشاہی تھے۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا اُن کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین۔
___________________________
ابدالی انتظامیہ کےلیے ضروری نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو بہ راہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کیجیے۔ تحریر شائع کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
Allah de obakhe