خدائی خدمت گار تحریک کا حلف نامہ

خدائی خدمت گار تحریک باچا خان کی قیادت میں پختون معاشرے کی سماجی اصلاح، تعلیم، خدمتِ خلق اور سیاسی بیداری کے لیے ایک منظم تحریک کے طور پر سامنے آئی۔ اس تحریک نے برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف جدوجہد میں عدمِ تشدد، قربانی، نظم و ضبط، سچائی اور انسانیت کی خدمت کو بنیادی اصول بنایا۔ تحریک سے وابستہ کارکنوں سے ایک باقاعدہ حلف لیا جاتا تھا، جس کے ذریعے وہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر تحریک، قوم اور انسانیت کی خدمت اور عدمِ تشدد کے اصولوں پر کاربند رہنے کا عہد کرتے تھے۔
خدائی خدمت گار کا حلف نامہ کچھ یوں تھا کہ:
☆ مَیں خدا کو حاضر، ناظر اور شاہد مان کر حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ مندرجہ ذیل اصولوں کی سختی سے پابندی کروں گا۔
☆ مَیں اپنا نام انتہائی ایمان داری اور صداقت سے تحریک کی خدمت کے لیے پیش کرتا ہوں۔
☆ مَیں وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان، مال اور آرام ایمان داری سے قربان کروں گا۔
☆ مَیں کسی مخالف جماعت کا ممبر نہیں بنوں گا اور جنگ میں معافی نامہ یا ضمانت جمع نہیں کراؤں گا۔
☆ مَیں خدائی خدمت گار تنظیم کے اندر کسی قسم کی گروپ بندی، جو تحریک کے لیے نقصان دہ ہو، سے اجتناب کروں گا۔
☆ مَیں اپنے افسر کا ہر جائز حکم ہمہ وقت ماننے کا پابند رہوں گا۔
☆ مَیں ہمیشہ کے لیے عدمِ تشدد کے اصولوں پر کاربند رہوں گا۔
☆ مَیں مخلوقِ خدا کی خدمت بغیر کسی امتیاز کے کروں گا اور میرا نصب العین ہمیشہ وطن اور مذہب کو اغیار کی قید سے آزاد کرانا ہوگا۔
☆ مَیں ہمیشہ اچھے اور نیک عمل پر کاربند رہوں گا۔
☆ مَیں قومی خدمت کے عوض کسی قسم کا لالچ نہیں رکھوں گا۔
☆ میری تمام تر کوشش کسی عہدے یا نمائش کے لیے نہیں، بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوگی۔ (1)
قارئین، یہ حلف خدائی خدمت گار تحریک کے بنیادی فکری اور اخلاقی اصولوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اس میں قومی آزادی کے ساتھ اخلاقی کردار، نظم و ضبط، خدمتِ خلق، ذاتی مفاد سے اجتناب اور عدمِ تشدد کو یکجا کیا گیا ہے۔ خصوصاً عدمِ تشدد کا عہد اس تحریک کی نمایاں خصوصیت تھا، جب کہ تنظیمی نظم و ضبط اور قیادت کے احکامات کی پابندی نے کارکنوں میں اجتماعی وابستگی کو مضبوط کیا۔ تاہم، جدید جمہوری تناظر میں مخالف جماعت کی رکنیت سے اجتناب اور تنظیمی احکامات کی پابندی جیسے نکات کو سیاسی تکثیریت اور اختلافِ رائے کے حوالے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ حلف باچا خان کی اس فکر کی نمائندگی کرتا ہے جس میں قومی خدمت، اخلاقی اصلاح اور عدمِ تشدد کو سیاسی جدوجہد کا بنیادی حصہ سمجھا گیا۔
حوالہ، ڈاکٹر سہیل خان، تاریخِ چارسدہ، مفکورہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر، پشاور، ص 43–142