برطانوی ہند میں بنگال آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دیگر تمام صوبوں سے بڑا صوبہ تھا۔ جس کا کل رقبہ دو لاکھ مربع میل سے زیادہ، جب کہ آبادی 8 کروڑ پچاس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ یہاں کا اقتصادی اور معاشی نظام مکمل طور پر ہندوؤں کے کنٹرول میں تھا۔
1899ء میں جب لارڈ کرزن (Lord Curzon) تاجِ برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند (گورنر جنرل) مقرر ہوئے، تو اُن کی سفارش پر برطانوی پارلیمنٹ نے 1905ء کو انتظامی سہولت کے پیشِ نظر بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا۔ کیوں کہ انگریزوں کے مطابق اتنے بڑے اور وسیع صوبے کا انتظام صحیح طریقے سے چلانا ایک گورنر کے بس کی بات نہ تھی۔ اس تقسیم کی وجہ سے بنگال دو حصوں میں تقسیم ہوا، جس کو تاریخ میں “تقسیمِ بنگال” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس تقسیم کی وجہ ایک مشرقی بنگال جس کا کل رقبہ 106،540 مربع میل، جب کہ دوسرا مغربی بنگال جس کا کل رقبہ 141،580 مربع میل تھا، کا قیام عمل میں آیا۔
قارئین! تقسیمِ بنگال سے ہندوؤں اور مسلمانوں پر مختلف اثرات مرتب ہوئے۔ مسلمان اس تقسیم سے خوش تھے، کیوں کہ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، جو ایک نیا صوبہ بن گیا۔ لیکن جہاں تک ہندوؤں کا تعلق تھا وہ اس تقسیم سے برہم اور سیخ پا ہوئے۔ اگرچہ مغربی بنگال میں ہندوؤں ہی کی اکثریت تھی۔ لیکن وہ ہر گز یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ مشرقی بنگال مسلم اکثریتی صوبہ بن جائے اور اس طرح پورے بنگال پر ان کی اقتصادی اور سیاسی اجارہ داری اور بالادستی ختم ہو جائے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوؤں نے تقسیمِ بنگال کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس کی منسوخی کےلیے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے عدمِ تعاون کی تحریک شروع کر دی، انگریزی مال کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ قانون کی خلاف ورزیاں شروع کر دی گئیں، ٹیکسوں کی ادائیگیاں روک دی گئیں اور بالآخر تشدد پر اُتر آئے۔ یہاں تک کہ وائسرائے ہند کو قتل کرنے کی سازشیں کرنے لگیں۔
ان حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے انگریزوں نے آخر کار گھٹنے ٹیک دیے اور 1911ء میں “تقسیمِ بنگال” منسوخ کردی۔
شیئرکریں: