میرے پختون بھائیوں، ہم آپ کے بھائی اور خادم ہیں۔ آپ کی خدمت کےلیے یہاں آئے ہیں۔ آئیے اپنے اس اُجڑے ہوئے گھر کو بسا لیتے ہیں۔ آپ دنیا کی دیگر اقوام پر نظر دوڑائیں۔ اگر علم نہیں رکھتے، آنکھیں تو سلامت ہیں۔ دنیا کی دیگر اقوام آسمان تک پہنچ گئیں اور ہم ابھی تک زمیں پر ہی ہیں۔ آپ سوچیے کہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہے لیکن ہم پھر بھی ان کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ کسی سے غلہ، تو کسی سے پیسہ مانگتے ہیں۔
آپ سمجھتے کیوں نہیں کہ اللہ تعالا نے ہمیں جنت جیسا ملک دیا ہے جو ہر قسم کی دولت اور نعمتوں سے مالا مال ہے۔ لیکن ہم اس میں اس حد تک بد حال ہے کہ پیٹ بھرنے کےلیے روٹی تک دستیاب نہیں۔
میرے بھائیوں، کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ پختونوں کے علاوہ دیگر اقوام کیوں آباد اور خوش حال ہیں، اور ہم کیوں پیچھے رہ کر بد حال ہیں…؟ کیوں کہ ان میں بھائی چارہ، اتفاق، محبت اور قومیت ہے۔ جب کہ ہم میں گروہ بندیاں، بغض، حسد اور نفاق ہے۔
میرے پختون بھائیوں، یہ بات یاد رکھیں کہ آج کی یہ دنیا قومیت پسندی کی دنیا ہے۔ اگر ہم بحیثیت پختون ایک قوم بن گئے، دنیا تو دنیا بلکہ آخرت بھی سنور جائی گی۔
شیئرکریں: