خیبر پختون خوا میں پچھلے 9 سال سے برسرِ اقتدار جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کا مختلف منصوبوں کےلیے ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور دیگر غیر ملکی مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرضوں کا حجم 619 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔
رپورٹ کے مطابق تحریکِ انصاف کی گزشتہ اور موجودہ حکومت نے 9 سالوں کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے ترقیاتی منصوبوں کےلیے سود پر 500 ارب روپے قرض حاصل کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے جس کی وجہ سے خیبر پختون خوا مجموعی طور پر 619 ارب روپے قرض کے بوجھ تلے دب گیا ہے۔ جب کہ دوسری طرف 2008 سے 2013 تک برسرِ اقتدار عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی پانچ سالہ دورِ حکومت میں محض 21 ارب روپے کا قرض لیا تھا۔
خیبر پختون خوا حکومت نے (BRT) منصوبہ کےلیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور سوئس ایجنسی سے پچاس ارب روپے سے زائد کا قرضہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر 14 ترقیاتی منصوبوں کےلیے مجموعی طور پر 305 ارب روپے کا قرض ایشیائی ترقیاتی بینک سے لینے کے معاہدوں پر بھی دستخط کر دیئے ہیں۔ جب کہ عالمی بینک اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (عالمی بینک) سے مزید 11 منصوبوں کےلیے 254 ارب روپے قرض حاصل کرنے کےلیے معاہدوں پر رضامندی ظاہر کی جاچکی ہے۔ جس سے قرضوں کا حجم مزید بڑھ جائے گا۔ جس سے مستقبل میں صوبے کو مالی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
ایس ایف ڈی سے صرف دو منصوبوں کےلیے قرض اور امداد کی مد میں 29 ارب 80 کروڑ روپے حاصل کیے گئے ہیں۔ جب کہ (IMF) سے بھی ایک منصوبے کےلیے 15 ارب 60 کروڑ روپے کا قرض لیا جائے گا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اور اے ایف ڈی سے (BRT) پشاور کےلیے 53 ارب 32 کروڑ روپے، پشاور کنال کی توسیعی منصوبے کےلیے 10 ارب 15 کروڑ 60 لاکھ روپے، فاٹا واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ منصوبے کےلیے 6 ارب 7 کروڑ 80 لاکھ روپے اور مردان صوابی شاہراہ کو دو رویہ کرنے کےلیے اضافی 13 ارب 2 کروڑ 40 لاکھ روپے کا قرض حاصل کرنے کے معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔ جب کہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (عالمی بینک) سے خیبر پختون خوا ریونیو موبلائزیشن اینڈ ریسورس مینجمنٹ منصوبے کےلیے 18 ارب 29 کروڑ روپے اور بالاکوٹ ہائیڈل پاور پراجیکٹ کےلیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 68 ارب 71 کروڑ 70 لاکھ روپے کے قرض حاصل کرنے کے معاہدے پر بھی دستخط ہوچکے ہیں۔
اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے خیبر پختون خوا کے مخصوص اضلاع سوات، بنوں، ایبٹ آباد، پشاور، کوہاٹ اور مردان کی شہری ترقی کےلیے 101 ارب روپے کا بلند ترین قرضہ حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں۔ جب کہ صوبے کے 26 اضلاع میں دیہی شاہراہوں کی تعمیر کےلیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 28 ارب روپے اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (عالمی بینک) سے صوبے کے چار اضلاع پشاور، نوشہرہ، صوابی اور ہری پور میں محکمہ تعلیم کےلیے 18 ارب 91 کروڑ روپے، خیبر پاس کوریڈور کی تعمیر کےلیے 11 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے، سیاحتی منصوبوں کےلیے 14 ارب روپے، زرعی ترقیاتی منصوبوں کےلیے 30 ارب 4کروڑ 80 لاکھ روپے، عوام کو صحت اور تعلیم کےلیے سرکاری وسائل کی دستیابی کو بہتر کرنے کے منصوبے کےلیے 64 ارب روپے، رورل انوسٹمنٹ اینڈ انسٹیٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ کےلیے 46 ارب 80 کروڑ روپے، خیبر پختون خوا کے دیہی علاقوں میں بنیادی مراکز صحت، تعلیمی اداروں کی بحالی اور اپ گریڈیشن کےلیے 48 ارب روپے کا مزید قرضہ لیا جائے گا۔
اسی طرح خیبر پختون خوا میں توانائی کے منصوبوں کےلیے عالمی بینک سے 42 ارب 78 کروڑ 90 لاکھ روپے قرض حاصل کرنے کےلیے بھی معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔
شیئرکریں: