صوبہ خیبر پختون خوا قدرتی حسن کے علاوہ نہایت مردم خیز خطہ بھی ہے۔ یہاں کے بعض شخصیات نے مختلف شعبۂ ہائے زندگی میں نام پیدا کیا ہے۔ اس طرح بعض نابغۂ روزگار ادب و سیاست کے میدان میں اپنی انفرادیت کا لوہا بھی منوا چکے ہیں۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک معتبر حوالہ وادئ سوات سے تعلق رکھنے والے خیر الحکیم المعروف وکیل حکیم زئی بھی ہے، جن سے علمی و سیاسی طور پر کئی دیگر شخصیات بھی فیض یاب ہوئی ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناح جیسی شکل و صورت لیے اگر کوئی کمی ہے، تو وہ ایک عدد جناح کیپ ہی پورا کر سکتا ہے۔ اکہرا بدن، دراز قد، سرخ و سپید چہرہ، سفید بال، متوسط مگر روشن آنکھیں، داڑھی چٹ، مخروطی انگلیاں، چال ڈھال میں سلاست روی، آواز میں دھیما پن و پُر تاثیر لہجہ اور مہین مسکراہٹ جس سے متانت اور سنجیدگی ٹپکتی ہے۔
وکیل حکیم زئی صاحب مئی 1960ء کو تحصیل مٹہ کے گاؤں برہ درش خیلہ میں عبدالحکیم عرف سور حکیم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 1974ء کو ہائی سکول برہ درش خیلہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ مزید تعلیم کی حصول کےلیے گورنمنٹ افضل خان لالا پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ آئے اور یہاں پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی کیرئیر کا بھی باقاعدہ آغاز کیا۔ 1976ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) مٹہ کالج کے صدر منتخب ہوئے۔ یہاں سے بی۔اے کی ڈگری لینے کے بعد ایم اے سیاسیات اور ایل ایل بی کی ڈگری بالترتیب 1984ء اور 1986ء میں یونی ورسٹی آف کراچی سے حاصل کی۔ پھر 90 -1989ء کو یونی ورسٹی آف پشاور سے پشتو زبان و ادب میں ایم۔اے کیا۔
قارئین، جیسا کہ ہم نے پہلے ہی ذکر کیا کہ وکیل حکیم زئی نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1974ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی پلیٹ فارم سے کیا۔ انہوں نے حصولِ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی سیاست جاری رکھی۔ 1981ء کو پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی سنگت توڑ کر مزدور کسان پارٹی میں چلے گئے اور مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے اس کے مرکزی سیکرٹری جنرل بن گئے۔ وکیل حکیم زئی 1996ء کو آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی کی الیکشن بھی لڑا لیکن کامیاب نہ ہوئے۔
ایک حقیقی قوم پرست سیاسی راہ نما ہونے کے ناطے وکیل حکیم زئی نے مزدور کسان پارٹی سے اپنا اٹھارہ سالہ رفاقت ختم کرتے ہوئے 1999ء کو “افغان نیشنل پارٹی” تشکیل دے دی۔ بحیثیتِ ایک قوم پرست سیاسی راہ نما آپ نے افغان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے پختون قوم کو اکھٹا کرنے اور ان کی بقا و سلامتی کےلیے اَن تھک محنت اور کوشش کی۔ آپ نے پختون قوم کی خدمت اپنا فرض سمجھ کر ان میں ووٹ اور سیاست سے متعلق آگاہی اور شعور اُجاگر کرنے کی غرض سے وقتاً فو قتاً پمفلٹس شائع کیے۔ جن میں “ووٹ خہ دے کو خہ نہ دے” (پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے)، ”ووٹ سہ شے دے…؟” اور ”ووٹ بہ چالہ ورکوو…؟” (مزدور کسان پارٹی کی جانب سے) اور ”خپل پردے” وغیرہ شامل ہیں۔
آپ نے اردو زبان میں بھی کئی پمفلٹس شائع کیے ہیں، جن میں ”افغانیہ کی تاریخی حقیقت، متحدہ قوموں کے مابین معاہدہ (سیاسی)، (United National Alliance) اور ”سندھی، بلوچ، پختون فرنٹ SBPF (سیاسی)“ شامل ہیں۔ انہوں نے اکتوبر 2008ء تک اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی، لیکن 2008 کے آخر میں سوات کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے ایبٹ آباد شفٹ ہوئے اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
ایبٹ آباد شفٹ ہونے کے ایک سال بعد  (Abbott Law College) میں بطورِ لیکچرار تعینات ہوئے۔ تقریباً ڈھائی سال اسی پوسٹ پر فائز رہے اور ساتھ ساتھ کرمنل کیسز میں وکالت بھی کرتے رہے۔ آخر مئی 2016ء کو واپس اپنے آبائی گاؤں برہ درش خیلہ منتقل ہوئے اور ادبی و سماجی زندگی سے منسلک ہوئے۔
وکیل حکیم زئی قوم پرست سیاسی راہ نما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نامور ادیب بھی ہے۔ جن کی علمی بصیرت سے کئی نامور شخصیات فیض یاب ہوچکی ہیں۔ ادب سے خصوصی دلی لگاؤں رکھنے کے سبب ڈھیر سارے شاگرد رکھتے ہیں۔ جن میں مجھ جیسا ایک بندۂ ناچیز بھی شامل ہے۔ آپ نے اپنی مصروف ترین زندگی میں کئی کتب شائع کی ہیں۔ ان کی تحقیقی کتابوں میں ”پختو محاورے“، “د برسوات تاریخ“ اور ”دغہ زمونگ کلے دے” (وجہ تسمیہ)  شامل ہیں۔ جب کہ تخلیقی کتابوں میں ”د سیند پہ غاڑہ تگے“، “د میگو کوٹگئی”، “کفن کش“ اور یونائیٹڈ نیشنل الائنس (کتابچہ) شامل ہیں۔ موصوف کی ایک کتاب ”آدم ذاد“ زیرِ طباعت ہیں۔
آپ کی ادبی خدمات بارے انشا پرداز تصدیق اقبال بابو (مرحوم) اپنے ایک تحریر میں کچھ یوں لکھتے ہیں: “خیر الحکیم حکیم زئی المعروف وکیل حکیم زئی اِک معتبر گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کے بزرگوں کی تاریخ بھی شجاعت، بہادری اور جگر داری کی لازوال داستانوں سے مزین ہے۔ پردلی، کراری اور ستیزہ کاری کے علاوہ حب دوستی، ادب دوستی اور مہمان دوستی بھی ان کے خون میں پورے طریقے سے حلول ہوچکی ہے۔ آپ پیشے کے لحاظ سے تو وکیل ہیں، لیکن قلم اور تخیلی موقلم سے لفظوں کی بھری چھاگلیں بھی کاغذوں پہ اُنڈیلتے رہتے ہیں۔ آپ کی یہی مینا کاری کبھی “د پختو متلونہ” کبھی “د سین پہ غاڑہ تگے” کبھی “د بر سوات تاریخ” تو کبھی دغہ زمونگ کلے دے” کی صورت میں منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوتی رہتی ہیں۔”
قارئین، وکیل حکیم زئی کےلیے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ باچا خان یونی ورسٹی چارسدہ کے پشتو نصاب میں شامل کتاب ”د پختونخواہ لنڈہ مطالعہ“ میں باچا خان، عبدالولی خان، غنی خان، عبد الصمد خان شہید اور دیگر پختون راہ نماؤں کے ساتھ موصوف (وکیل حکیم زئی) کا نام بھی شامل ہے۔ اسی وجہ سے باچا خان یونی ورسٹی کے سال 2018ء کے امتحانات میں وکیل حکیم زئی کی شخصیت پر ایک سوال پرچہ کا حصہ تھا۔ وکیل حکیم زئی کی تحقیقی کتاب ”پختو محاورے“ مقابلوں کی امتحان میں بھی شامل ہے۔
قارئین، ان تمام تر تحریر کا خلاصہ نامور ادیب اتل افغاؔن  کے تاثرات میں کچھ یوں ملتا ہے، “وکیل حکیم زئی صاحب ایک قابل وکیل اور منجھے ہوئے قلم کار ہیں۔ پشتون قوم پرست اور غیر طبقاتی سیاست کے حامی و پیامبر رہے ہیں۔ میں ان کو 2007ء سے جانتا ہوں۔ اس دراز عرصے میں، مَیں نے ان کو بہت قریب سے دیکھا اور پایا کہ آپ انتہائی مہمان نواز، نفیس، قول و فعل کا پکا، کم خوراک، شکل و صورت میں جناح کے ثانی، انتہائی صابر و شاکر، بردبار، شفیق اور نماز و روزہ کے پابند شخصیت کے مالک ہیں۔ ناول، تاریخ اور تحقیق کے میدانوں میں پشتو زبان و ادب کےلیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ جس کی بنا پر میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جب تک پشتو زبان رہے گی، تب تک ان کا نام کسی نہ کسی حوالے سے زندہ رہے گا۔ سال بھر سفید کپڑوں اور کالے کوٹ میں ملبوس اس شخصیت کے ہاتھ میں سرخ تسبیح اور جیب میں سرخ پین ضرور نظر آتا ہے۔ ان تیرہ سالوں میں، مَیں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ ان سے متاثر رہا اور ان کو اپنا استاد کہنے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔”
غرض یہ کہ موصوف سیاسی، ادبی اور سماجی حوالے سے ایک جانا پہچانا نام ہے۔ زندگی میں ایسا مقام بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ انسان ہمہ وقت شہرت اور عزت حاصل کرنے کےلیے کوشاں رہتا ہے۔ لیکن معاشرتی مقام اور عزت ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اَن تھک محنت پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر سماجی منصب حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ موصوف نےاپنا سب کچھ داؤں پر لگا دیا مگر پشتو اور پشتونولی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
جاتے جاتے بس یہی دعا ہے اللہ تعالا ایسے مخلص انسانوں کو لمبی زندگی اور اچھی صحت دیں، آمین!

___________________________________

محترم قارئین، راقم کے اس مضمون کو 09 فروری 2019ء کو روزنامہ آزادی سوات نے پہلی بارشرفِ قبولیت بخش کرشائع کروایا تھا۔

شیئرکریں: