کسی بھی خطے کی پہچان اس کے علمی و ادبی چراغ ہوتے ہیں، جو نہ صرف اپنی ذات کو منور کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو روشنی عطا کرتے ہیں۔ ضلع سوات کی سرزمین بھی ایسے ہی چراغوں سے معمور ہے، جن میں ایک روشن نام استادِ محترم ڈاکٹر احسان یوسف زئی کا ہے، جن کی علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات آج پشتو زبان و ادب کے سنجیدہ حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
عجز و انکسار اور وضع داری کا پیکر، احسان یوسف زئی

گل زارِ ادب کا ایک پھول ضلع سوات کے پُر بہار علاقہ فتح پور میں مہکا، جس نے گلستانِ ادب میں بہت جلد اپنا ایک الگ مقام بنا لیا۔ جی ہاں، بات ہو رہی ہے استادِ محترم ڈاکٹر احسان یوسف زئی کی، جو بہ یک وقت شاعر، ادیب، افسانہ نگار، نقاد اور محقق ہونے کے ساتھ ساتھ معلم بھی ہیں، جن سے نوجوان نسل فیض یاب ہو رہی ہے۔
دراز قد، اکہرا اور متوازن بدن، سانولی رنگت جس پر مٹی کی سوندھی خوشبو کا گمان ہوتا ہے۔ پشتو کے مشہور فلمی ہیرو بدر منیر کی مانند لمبے اور قدرے بکھرے ہوئے بال، جو کانوں کی لو کو ڈھانپے رکھتے ہیں اور چہرے کو ایک خاص رعب اور کشش عطا کرتے ہیں۔ خش خشی مگر سلیقے سے تراشی ہوئی کالی داڑھی، جس میں وقار جھلکتا ہے اور مناسب، نفاست سے رکھی ہوئی مونچھیں جو شخصیت کے سنجیدہ تاثر کو دوچند کر دیتی ہیں۔ مخروطی اور باریک انگلیاں، جن میں استاد کی گرفت بھی ہے اور محقق کی نزاکت بھی۔
چہرے پر ہمیشہ ٹھہری رہنے والی مہین اور شائستہ مسکراہٹ، جو گفتگو سے پہلے ہی دل جیت لیتی ہے۔ آواز ایسی کہ گویا کانوں میں رس گھول دے۔ نہ بلند، نہ مدھم، بلکہ ایک متوازن نرمی لیے ہوئے، جو سننے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ لہجہ نہایت نرم، شستہ اور مہذب، جس میں عاجزی بھی جھلکتی ہے اور اعتماد بھی۔ کان نہ بہت چھوٹے نہ بڑے، جیسے فطرت نے سوچ سمجھ کر توازن قائم رکھا ہو۔ روشن اور گہری آنکھیں، جن میں مطالعے کی تھکن بھی ہے اور جستجو کی چمک بھی، اور جو سامنے والے کو یہ احساس دلا دیتی ہیں کہ وہ محض ایک استاد نہیں بلکہ ایک حساس انسان اور صاحبِ نظر مفکر کے روبرو بیٹھا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ قامت سے لے کر نگاہ تک، آواز سے لے کر خاموشی تک، احسان یوسف زئی کی پوری شخصیت ایک مکمل خاکہ ہے۔ علم، وقار، سادگی اور کشادہ دلی کا ایسا حسین امتزاج، جو لفظوں میں سمٹنے سے زیادہ محسوس کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
آپ کا اصل نام احسان اللہ ہے، جب کہ یوسف زئی ایک طرح سے تخلص کرتے ہیں۔ ادبی حلقوں میں اسی نام یعنی احسان اللہ یوسف زئی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ موصوف 1991ء میں ضلع سوات کے حسین علاقہ فتح پور میں فضلِ ربی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق قوم یوسف زئی کی شاخ عزیخیل اور اس کی ذیلی شاخ بنگوڑک خیل سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے ہائیر سیکنڈری سکول سے حاصل کی۔ وہیں سے میٹرک کیا، جب کہ ایف اے کا امتحان گورنمنٹ افضل خان لالا پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ سے پاس کیا۔ بعد ازاں ملاکنڈ یونی ورسٹی سے بی اے، یونی ورسٹی آف سوات سے پشتو زبان و ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ پشتو اکیڈمی پشاور سے ایم فل کرنے کے بعد پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب اور ڈائریکٹر پشتو اکیڈمی پشاور پروفیسر ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر کی زیرِ نگرانی پشتو ادبیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی، جو جنوری 2024ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچی، اور یوں آپ ڈاکٹر کے اعزاز سے سرفراز ہوئے۔ آپ کے پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان ہے: "د اشرف مفتون، غنی خان اور ہاشم بابر پہ شاعرئی کے وجودی افکاری” جو پشتو تنقید اور وجودی فکر کے باب میں ایک اہم علمی اضافہ ہے۔
ادب سے وابستگی کے آغاز کا درست وقت تو راقم کو معلوم نہیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق آپ پانچویں جماعت میں تھے کہ شعر و شاعری سے رشتہ جوڑ بیٹھے۔ شاعری کا باقاعدہ آغاز گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول فتح پور کے سالانہ مجلہ "تلاپنڑ” میں 2006ء میں نظم کی اشاعت سے کیا۔
آپ نظم و نثر دونوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں، تاہم اصل وابستگی تحقیق کے شعبے سے ہے۔ پشتو اکیڈمی پشاور کے 2019ء کے ششماہی تحقیقی منصوبے میں آپ نے سوات، بونیر اور شانگلہ کے لہجوں پر تحقیق کی، جو طباعت کے لیے تیار ہے۔ اس کے علاوہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے منظور شدہ مختلف تحقیقی جرائد میں آپ کے مقالے شائع ہو چکے ہیں، جن میں یونی ورسٹی آف پشاور اور بلوچستان یونی ورسٹی کے تحقیقی مجلات قابلِ ذکر ہیں۔ متعدد افسانے بھی مختلف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔
شاعری میں غزل کو آپ نے اپنی پسندیدہ صنف قرار دیا ہے۔ اگرچہ اب تک درجنوں غزلیں تخلیق کر چکے ہیں، مگر تاحال کوئی مجموعہ شائع نہیں کیا۔ راقم کے نزدیک احسان یوسف زئی صاحب، ندیم احمد قاسمی کی طرح ادب کو زندگی سمجھنے والے مسافر دکھائی دیتے ہیں، جو پشتو غزل کو نئے فکری اور فنی رنگ عطا کرنے کی جستجو میں مصروف ہیں۔
احسان یوسف زئی کے بارے میں سوات کے نامی گرامی اور بزرگ شاعر محمد حنیف قیسؔ صاحب یوں فرماتے ہیں کہ ”احسان یوسف زئی کو پہلی ملاقات میں سمجھ بیٹھا تھا کہ یہ صاحب ایک نہ ایک دن پشتو ادب کے اُفق پر دمکتے ستارے کی مانند ضرور چمکے گا۔ موصوف کی ادبی کوشش اور علمی سطح جس قدر بلند ہے، اس سے کئی زیادہ اُس کی شرافت، سادگی اور ملنساری اعلا درجے کی ہے۔ اپنی ذاتی خوبی اور علمی جستجو کی وجہ سے اسے آج ایک منجھے ہوئے نقاد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ امید ہے کہ یہ درویش صفت انسان مستقبل میں پشتو زبان و ادب اور پشتون قوم کی خدمت کرے گا۔“
احسان یوسف زئی کی علمی و ادبی وقعت کے بارے میں شعبہ پشتو جہان زیب کالج کے چیئرمین پروفیسر عطاء الرحمان عطاؔ کچھ یوں لکھتے ہیں کہ ”احسان یوسف زئی دورِ جدید کے اُبھرتے ہوئے شاعر، افسانہ نگار، نقاد اور محقق ہیں۔ اُن کی شاعری اپنی مٹی کی سوندھی خوشبو سے معطر اور اپنی قوم کی محبت سے معمور ہے۔ افسانوں میں موضوعاتی تنوع رکھتے ہیں۔ اسی طرح موصوف تنقید و تحقیق میں معیار کے قائل ہیں، جو بھی لکھتے ہیں، کھلے دل سے لکھتے ہیں۔ آپ پورے خیبر پختون خوا اور بالخصوص سوات میں پشتو زبان و ادب کے فروغ کےلیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ آپ ایک درویش صفت انسان ہیں، اور اپنی محنت کے بدلے صلے کی تمنا رکھتے ہیں اور نہ ستائش کی پروا ہی کرتے ہیں۔“
احسان صاحب میں انتہا کی حد تک عاجزی ہے۔ کہیں بھی اپنی ذات کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کہیں بھی اُنہوں نے احساسِ برتری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ باوجود یہ کہ ایک اعلیٰ نقاد، محقق اور ادب کے ایک کامل استاد ہیں، لیکن آج بھی خود کو زبان و ادب کا ایک ادنیٰ طالب علم سمجھتے ہیں۔ جس کی مثال گورنمنٹ افضل خان لالا پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ شعبہ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار نجیب اللہ نجیب کے تاثرات میں کچھ یوں ملتی ہے: ”میرے لیے احسان صاحب کے بارے میں لکھنا بہت مشکل ہے۔ کیوں کہ اُن کی شخصیت کےلیے الفاظ کا چناؤ کرنا اور پھر انہیں استعمال کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔“
قارئین، مَیں پہلی بار احسان صاحب کے ساتھ جہانزیب کالج میں منعقدہ ایک تنقیدی میٹنگ میں ملا، اور وہاں سے ہمارا تعلق ادب اور پشتو زبان کی بنا پر آج تک قائم ہے۔ احسان صاحب کی شخصیت سے چنداں انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ آپ بہت اچھے اور پیارے انسان ہیں۔ ہر شخص آپ کی تعریف کرتا نظر آتا ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ آپ سے ملتے وقت کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ احسان صاحب اتنے بڑے شاعر، ادیب، دانشور اور ایک بڑے ادارے میں معلم ہیں۔ مجھے آپ کی شخصیت میں ایک بہت بڑا اُستاد دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ مَیں نے ہمیشہ آپ کے دِل میں یہ تڑپ محسوس کی ہے کہ مَیں کسی سے کچھ نہ کچھ سیکھ لوں، اور مَیں نے یہ بات کم اساتذہ میں پائی ہے۔ مختصراً یہ کہ احسان صاحب جیسی ذی علم شخصیت بننے کےلیے مجھ سمیت ڈھیر سارے طفلِ مکتب تمنا ہی کریں گے۔“
گہرے تنقیدی شعور اور عمیق مطالعے کی وجہ سے آپ متعدد مصنفین اور شعرا کی کتب پر علمی مقالے لکھ چکے ہیں، جن میں سفید ریش اور خوش کلام شاعر ابراہیم خان شبنمؔ، بابائے قطعہ عبدالرحیم روغانےؔ، پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیمابؔ اور پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد سعیدؔ شامل ہیں۔ جن کے فن، فکر اور شخصیت کو اپنی علمی ترازو سے تول کر ان کا معیار مقرر کرتے ہیں۔ تنقید ہی سے متعلق ان کے بارے میں معروف تاریخی اور سماجی کالم نگار ساجد علی خان ابو تل تاند کچھ یوں رقم طراز ہیں کہ ”کسی ادب پارے کی علمی یا فنی قدر متعین کرنا ایک ماہر نقاد کا کام ہے۔ بحیثیتِ ایک تنقید نگار احسان یوسف زئی صاحب ادبی فن پاروں کا سقم نکالنے اور ان کی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھانے کے ماہر ہیں۔ تنقید میں عطاء اللہ جان صاحب کے بعد جس شخص نے مجھے متاثر کیا، وہ احسان یوسف زئی ہی ہیں۔ خود شاعر ہیں، اس لیے شاعری کے اسرار و رموز خوب جانتے ہیں۔ تحقیق کے شیدائی، عمیق مطالعے کے عادی اور تنقیدی شعور کے مالک احسان یوسف زئی کو پشاور کے سفر میں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جس سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک مخلص، قدردان، انسان دوست اور وسیع النظر شخص کی خوبیاں ایک ساتھ جس شخص میں پائی جاتی ہیں، وہ احسان یوسف زئی ہی ہیں۔“
راقم الحروف کےلیے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ مَیں احسان یوسف زئی صاحب کا براہِ راست شاگرد ہوں۔ مجھے موصوف سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے اور اللہ کرے کہ یہ سلسلہ تادم آخر جاری و ساری رہے۔
ڈاکٹر احسان یوسف زئی کی شخصیت علم، عاجزی، تحقیق اور خلوص کا حسین امتزاج ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف ادب کا سرمایہ ہوتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بھی بنتے ہیں۔ اگر پشتو زبان و ادب کو مستقبل میں فکری گہرائی، تحقیقی معیار اور اخلاقی وقار نصیب ہوگا تو اس میں ڈاکٹر احسان یوسف زئی جیسے درویش صفت اہلِ علم کا حصہ یقینی ہوگا۔
قارئین! بہت کچھ لکھنے کو جی چاہتا ہے، لیکن وقت اور موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے تصدیق اقبال بابو کے الفاظ مستعار لینا چاہوں گا کہ ”کالم کے مختصر سے دامن میں بندہ کون کون سے فکری اور فنی پہلوؤں کو چھیڑے۔ اس لیے اسی پہ اکتفا کرتے ہوئے اتنا ہی کہوں گا کہ ”ہمیں تم پہ ناز ہے!“
_______________________________
قارئین، راقم کی یہ تحریر پہلی بار 26 اپریل 2020ء کو روزنامہ آزادی سوات میں شائع ہوئی تھی۔ موصوف کے ڈاکٹریٹ مکمل ہونے کے بعد اب اسے معمولی ترمیم کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
Great keep it up
Our beloved teacher