جب بھی میں قلم اٹھاتا ہوں، میرا قلم مجھے اپنے معاشرے کے مسائل سے نظریں چرانے نہیں دیتا۔ میری سماجی فکر مجھے اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ میں اپنے قلم کے ذریعے اپنے معاشرے کی اصلاح میں اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کروں۔
گزشتہ ایک سال سے میں اپنے معاشرے کی نئی نسل کی حالت پر مسلسل غور کر رہا ہوں۔ بار بار میرے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ وہی معاشرہ ہے جہاں میں نے اپنے بچپن کے حسین دن گزارے تھے؟ آخر ایسا کیا بدل گیا کہ آج ہمارے بچے اور نوجوان عدمِ تحفظ، بے راہ روی اور جنسی استحصال جیسے سنگین خطرات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں؟
بچوں کے ساتھ ہونے والی معاشرتی ناانصافی، اخلاقی بے راہ روی، جنسی استحصال اور اجتماعی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات نہایت تشویش ناک ہیں۔ یہ صرف انفرادی جرائم نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کی علامت ہیں۔ ہمیں سنجیدگی سے یہ سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے میں ایسے بھیانک جرائم کو جنم دیا ہے۔
آج کی نئی نسل کے پاس پہلے کی نسبت زیادہ سہولیات موجود ہیں، مگر اس کے باوجود بعض جنسی درندوں نے معصوم بچوں اور نوجوانوں کی کمزوریوں، معصومیت اور مجبوریوں کو اپنا کاروبار بنا لیا ہے۔ وہ مختلف حیلوں، بہانوں، لالچ اور دھوکے کے ذریعے بچوں کو ہراساں کرتے ہیں، انہیں بلیک میل کرتے ہیں اور ان کی عزت و وقار کو پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ یہ جنسی مجرم کسی دوسرے معاشرے سے نہیں آتے، بلکہ اسی معاشرے کی پیداوار ہیں۔ اس لیے صرف مجرموں کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اپنے معاشرتی رویوں، تربیتی نظام، اخلاقی اقدار اور اجتماعی ذمہ داریوں کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔
تقریباً ہر روز کسی نہ کسی علاقے سے یہ افسوس ناک خبر سننے کو ملتی ہے کہ کم سن بچوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی یا انہیں قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعات صرف متاثرہ خاندانوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اجتماعی المیہ ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنی اولاد، اپنے بھائیوں اور اپنے بچوں کو ایسے درندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مطلوبہ شعور، احتیاط اور عملی اقدامات اختیار نہیں کر سکے۔ یہی غفلت ان مجرموں کے حوصلے مزید بلند کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ معصوم بچوں کو آسان ہدف سمجھ کر ان کی عزت، وقار اور مستقبل کو تباہ کر دیتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنما، تعلیمی ادارے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پورا معاشرہ مل کر اس ناسور کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔ بچوں کو تحفظ، اعتماد اور شعور فراہم کیا جائے، انہیں اپنے دفاع اور خطرات کی پہچان کی تعلیم دی جائے، جبکہ مجرموں کو ایسی سخت اور فوری سزا دی جائے جو دوسروں کے لیے بھی عبرت بن سکے۔ کیونکہ ایک محفوظ بچپن ہی ایک مہذب، باوقار اور روشن معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔
_____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: