ہمت، شفقت، چاہت اور قربانی، اگر یہ تمام خوبیاں ایک لفظ میں سمیٹنی ہو، تو وہ لفظ ‘بابا جانی’ ہے۔ کیوں کہ باپ وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی خاموش دعاؤں، بے لوث محبت اور ان تھک جدوجہد کے ذریعے اولاد کی زندگی کو سنوارتی ہے۔ باپ صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک مضبوط سہارا، ایک سایہ دار درخت اور ایک ایسا محافظ ہوتا ہے جو خود دھوپ میں جل کر ہمیں ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔ تبھی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "باپ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، اگر تم چاہو، تو اسے محفوظ رکھو یا ضائع کر دو۔”
یہی وجہ ہے کہ باپ کی موجودگی زندگی کو مکمل، محفوظ اور باوقار بنا دیتی ہے جب کہ اس کی جدائی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔
قارئین، یوں تو دنیا میں ہر رشتہ اپنی جگہ معتبر، میٹھا اور اہم ہوتا ہے مگر ان سب میں باپ کا رشتہ سب سے زیادہ عظیم، اعلا اور باوقار ہے۔ خدانخواستہ اگر یہ سایہ سر سے اٹھ جائے، تو زندگی کس قدر ادھوری، بے رنگ اور بے معنی ہو جاتی ہے۔ باپ کی رہ نمائی، شفقت اور محبت کے بغیر ہماری شخصیت اور زندگی دونوں نامکمل محسوس ہوتی ہیں۔
باپ وہ ہستی ہے جو زمانے کے سرد و گرم خود برداشت کرتی ہے مگر ہمیں ہر دکھ اور مشکل سے بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہماری ایک مسکراہٹ کے لیے وہ اپنی خوشیاں قربان کر دیتا ہے اور کئی بار اپنی تھکن، دکھ اور پریشانی کو بھی ہم سے چھپا لیتا ہے تاکہ ہم ہمیشہ مسکراتے رہیں۔ ہمیں سکون دینے کے لیے وہ اپنی نیند، آرام اور چین تک چھوڑ دیتا ہے۔ مگر ان قربانیوں کا حقیقی احساس صرف وہی دل رکھتے ہیں جو احساس کی دولت سے مالا مال ہوں۔
بہ حیثیتِ اولاد ہم کبھی بھی والدین کا حق مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتے کیوں کہ ان کی ایک رات کی بے خوابی بھی ہماری ساری زندگی کی خدمت سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے، مگر کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ تبھی تو منور رانا کہتے ہیں کہ:
یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
اس پیڑ کا سایہ مرے بچوں کو ملے گا
خوب صورت نقش و نگار، کشادہ پیشانی، دل کش آنکھیں، بارعب شخصیت، نرم مگر پُر وقار آواز، متوازن انداز اور گندمی رنگت، یہ سب اوصاف میرے والدِ محترم ڈاکٹر محمد جلیل المعروف خان دادا، ڈاکٹر صاحب اور لالا، کی شخصیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ جب بھی زندگی کے مشکل موڑ آئے، ان کی ایک نظرِ شفقت اور ایک حوصلہ افزا جملہ میرے لیے راستہ روشن کر دیتا تھا۔
آپ کی پیدائش 05 اپریل 1952ء کو سوات کے علاقے برہ درش خیلہ (برپلو) میں یوسف زئی قبیلے کی اکا خیل شاخ میں حاجی احمد جان المعروف "بادا” کے گھر ہوئی۔ آپ کے دادا خوشحال خان اور نانا ملک امیر جان خان اپنے وقت کی جانی پہچانی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور اپنے بزرگوں کی تمام خوبیاں آپ میں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔
موصوف نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی۔ 1970ء میں طب کی تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا اور طبیہ کالج لاہور سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1974ء میں واپس آکر مدین ہسپتال میں ایک سال ایلوپیتھک کورس کیا۔ بعد ازاں اپنے گاؤں میں مطب قائم کیا جہاں یونانی اور ایلوپیتھک دونوں طریقۂ علاج کے ذریعے لوگوں کی خدمت کی۔
قارئین، راقم کے والدِ محترم مطالعہ کے بے حد شوقین تھے، خاص طور پر ڈائجسٹ کا مطالعہ پسند کرتے تھے اور ہمارے لیے ماہنامہ ‘ہمدرد’ منگواتے تھے جس سے ہمیں علمی فائدہ حاصل ہوا۔ آپ نہایت محنتی تھے  اور محنت کی عظمت پر کامل یقین رکھتے تھے۔ ہمیں زندگی کی حقیقتوں اور جدید دور کے تقاضوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ ہمیشہ آگے بڑھنے کی تلقین کرتے رہے۔
ہر مشکل گھڑی میں حوصلہ افزائی کرنا، اہم معاملات پر گفتگو کرنا، سیاسی، مذہبی اور سماجی موضوعات پر تبادلۂ خیال کرنا، یہ سب آپ کی شخصیت کا حصہ تھا۔ اگرچہ مشورہ ہم سے کرتے، مگر فیصلہ اکثر اپنی بصیرت کے مطابق کرتے۔ آپ ہمیشہ خندہ پیشانی سے حالات کا سامنا کرتے، سادگی کو پسند کرتے اور مہمانوں کی تواضع بھی اسی سادگی سے کرتے جس پر خود عمل پیرا ہوتے تھے۔ رشتوں اور دوستیوں کو نبھانا آپ بہ خوبی جانتے تھے یہی وجہ تھی کہ بچپن کے دوستوں سے تادمِ مرگ تعلق قائم تھا۔
آپ اپنے والد کے انتہائی فرمان بردار اور خدمت گزار رہے۔ دادا جان ہر معاملے میں آپ سے مشورہ کرتے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ زمین کی پیمائش کے ماہر بھی تھے اور علاقے میں اس حوالے سے ان کی مہارت مسلمہ ہے۔
سیاست سے بھی آپ کو گہرا شغف رہا ہے اور زمانۂ طالب علمی میں ذوالفقار علی بھٹو کے جلسوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔
میرے والد محترم نہ صرف ہمارے سرپرست بلکہ ہمارے رہ نما، استاد، مربی اور آئیڈیل بھی ہیں۔ اگرچہ مالی طور پر وہ بہت زیادہ امیر نہیں تھے مگر اخلاق، علم اور کردار کے لحاظ سے بے حد دولت مند تھے۔ وہ ہمارے لیے ایثار، وفا، محبت، شفقت اور کرم کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔
قارئین، میرے یہ رہبر 16 فروری 2026ء کو داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گا کہ میرے والدِ محترم میری زندگی کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ان کی موجودگی میرے لیے حوصلہ، سکون اور اعتماد کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی ادھورا اور بے رنگ محسوس ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین۔
جاتے جاتے پشتو کے اس شعر پر اجازت طلب کرنا چاہوں گا کہ:
د ژوند پہ ستڑو لارو کے بے پلارہ دی سوک نہ شی
محروم لہ دغه سوری د چنارہ دی سوک نہ شی
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: