پشتو ادب، صحافت اور سیاست کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پوری زندگی جدوجہد، قید و بند اور استقامت کی علامت بن جاتی ہے۔ کیوں کہ یہ لوگ محض قلم کار نہیں ہوتے بلکہ اپنے عہد کے ضمیر کی آواز بن جاتے ہیں۔ ہمیش خلیل بھی انہی روشن ستاروں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزار دیا، مگر اپنی قوم، زبان اور نظریے سے ایک لمحے کے لیے بھی دستبردار نہ ہوئے۔ یہ تحریر اسی مردِ حریت کی داستانِ حیات ہے، جو زولانوں میں بھی آزادی کے خواب دیکھتا رہا۔
ہمیش خلیل ابتدا میں خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ رہے۔ یہ ان کی جوانی کا زمانہ تھا۔ بعد ازاں وہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں شامل ہوئے اور پھر کاکاجی صنوبر حسین کے ساتھ ترقی پسند تحریک کا حصہ بنے۔ چونکہ اُس دور میں مشترکہ الائنس موجود تھا، اس لیے وہ نیپ ہی کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد جاری رکھتے رہے۔
موصوف کا اصل نام ہمیش گل تھا لیکن ادبی، سیاسی اور صحافتی میدان میں ہمیش خلیل کے نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ 11 اپریل 1930ء کو پشاور کے علاقے بر تہکال میں انزر گل کے گھر پیدا ہوئے۔ نسلاً مرزا خیل مومند تھے، جس کا ذکر انہوں نے خود اپنی شاعری میں کچھ یوں کیا ہے کہ:
د باڑی پہ اوبو لوی شوم دا دے زوڑ شوم
کہ لہ خیلہ د مرزا يم پہ تمن کے
قارئین، موصوف نے اسلامیہ کالجیٹ پشاور سے تعلیم حاصل کی، تاہم طویل علالت کے باعث تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ بعد ازاں انہوں نے پرائیویٹ طور پر بیچلر (B.A) اور پشتو آنرز کی اسناد حاصل کیں۔
زمانۂ طالبِ علمی ہی سے شاعری کرنے لگے تھے۔ اسی دوران میں کھیل کے میدان میں بھی اپنی پہچان بنائی اور دوڑ کے مقابلوں میں چیمپئن رہے۔ 1948ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ "نغمہ زار” شائع ہوا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کوآپریٹو سوسائٹی (Cooperative Society) میں ماہانہ 60 روپے پر ملازمت اختیار کی، مگر چھ ماہ بعد استعفیٰ دے دیا۔ بعدازاں پاکستان ایئر فورس میں سویلین کلرک کے طور پر خدمات انجام دینے لگے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب قوم پرستی اور محکومیت کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ سیاسی بحثیں عام تھیں اور ہمیش خلیل بھی قوم پرست اور ترقی پسند حلقوں میں سرگرم ہوچکے تھے۔ ان کی شاعری بھی قومی رنگ اختیار کرچکی تھی۔ اسی بنا پر وہ سرکار کی نظر میں مشکوک ٹھہرے اور 14 مارچ 1953ء کو اپنے دفتر سے گرفتار کر لیے گئے۔
انہیں تین ماہ تک تھانہ نحفی پشاور میں سی آئی ڈی کے مظالم کا سامنا کرنا پڑا، بعدازاں پشاور سینٹرل جیل میں سیاسی نظر بند کے طور پر رکھا گیا۔ اس دوران ان کے بڑے بھائی عجب گل نے پشاور ہائی کورٹ میں نظر بندی کے خلاف رِٹ دائر کی، جس پر رہائی کا حکم ہوا، مگر عدالت کے احاطے ہی سے نومبر 1953ء میں دوبارہ گرفتار کر لیے گئے۔
1954ء میں کچھ عرصے بعد دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ رہا ہوئے، مگر جیل سے نکلنے سے قبل ہی تیسری مرتبہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) کی دفعہ 11 کے تحت گرفتار کر لیے گئے۔ جیل کے اندر تین روزہ مقدمے کے بعد انہیں سات سال سخت قید، پانچ ہزار روپے جرمانہ، اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اس فیصلے کے خلاف بھی ان کے بھائی نے قانونی جنگ لڑی اور پشاور ہائی کورٹ سے رہائی ممکن ہوئی۔ صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ لاہور میں اپیل دائر کی، مگر تین رکنی بنچ نے متفقہ طور پر ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
بعد ازاں انہیں لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور سے بھی گرفتار کیا گیا، کیونکہ وہ شدید بیمار تھے۔ کچھ عرصے بعد رہائی ملی، مگر 1955ء میں صحت بہتر ہوتے ہی نوشہرہ سے دوبارہ گرفتار کر کے لاہور کے شاہی قلعے منتقل کر دیا گیا۔ وہاں دو ماہ قید کے بعد انہیں پشاور پولیس کے حوالے کیا گیا۔ بالآخر 1957ء میں دو سالہ عدالتی کارروائی کے بعد باعزت بری ہوئے۔
رہائی کے بعد انہوں نے صحافت کا آغاز ہفت روزہ "جمہوریت” سے کیا، جہاں ابتدا میں "ہمیش گل” کے نام سے لکھتے رہے۔ بعد میں نام کی مشابہت کے باعث انہوں نے ہمیش خلیل کا قلمی نام اختیار کیا، جس کی وجہ انہوں نے خود یوں بیان کی:
عشق وہ د جبران خليل توبہ چی خليل شومہ
ما د تخلص نامہ پہ دی وجہ بدلہ کڑہ
1958ء میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور شاہی قلعہ لاہور سمیت مختلف جیلوں میں قید رہے۔ 1960ء میں ان کی معروف تصنیف "پختانہ لیکوال” شائع ہوئی، جس میں "ورکہ خزانہ” کے دو جلد بھی شامل تھے۔
1961ء میں باچا خان کی سول نافرمانی تحریک کے دوران دوبارہ گرفتار ہو کر مچ جیل، جہلم، ڈیرہ اسماعیل خان اور ہری پور کی جیلوں میں قید رہے اور 1963ء میں رہائی ملی۔ 1969ء میں شادی کے بندھن میں بندھے۔ 1972ء کے بعد روزنامہ شہباز سے وابستہ ہوئے، مگر جلد ہی یہ ادارہ بھی سرکاری پابندی کا شکار ہوگیا۔
1974ء میں پمفلٹ سازی کے الزام میں گرفتار ہوئے، مگر باعزت بری ہوئے۔ اسی برس ان کے شعری مجموعے "زما سندری” اور افسانوی مجموعہ "چارگل” شائع ہوئے۔ 1975ء میں ایک مرتبہ پھر قید کے بعد رہائی ملی اور بعدازاں روزنامہ "انقلاب” کے مدیر رہے۔
سوویت جارحیت کے بعد سیاسی اختلافات کے باعث انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ افغان مہاجرین اور مجاہدین کی عملی مدد کی، حتیٰ کہ اپنے مکانات بھی مفت فراہم کیے۔ "باگرام” کے نام سے ایک اخبار بھی جاری کیا، جو مالی مسائل کے باعث بند ہوگیا۔
ان کی شاعری مقصدیت، حریت اور مزاحمت کی بھرپور علامت ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
د ژوند د بی ارزئی کے اے زما ماتہ تنديہ
تالاش د ازادئی کے تر پنجری ورسیدم
اسی طرح ویتنام کی آزادی کی جدوجہد ہو یا وطن کی مٹی پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ، ہر جگہ ایک محکوم قوم کی صدا سنائی دیتی ہے کہ:
موٹے خاورہ د وطن بہ پری ورنکڑم
کہ پہ سر د زمکی ہر وطن ختن شی
خپلہ خاورہ بہ پہ خپلو وينو پالم
کہ حاجت ئی قربانی زما د تن شی
ہمیش خلیل نے شاعری کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری میں بھی حقیقت پسندی کو فروغ دیا۔ ان کی تصانیف کی تعداد 80 سے زائد ہے، اسی لیے انہیں بجا طور پر "پشتو ادب کا کولمبس” کہا جاتا ہے۔
ہمیش خلیل کی زندگی مسلسل جدوجہد، قربانی اور استقامت کی داستان ہے۔ انہوں نے قید و بند، تشدد اور محرومیوں کے باوجود نہ قلم چھوڑا، نہ نظریہ۔ پشتو زبان، ادب اور پختون قوم کے لیے ان کی خدمات تاریخ کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ نومبر 2024ء میں 93 برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کا قلم، ان کی آواز اور ان کی جدوجہد آج بھی زندہ ہے ہر اس دل میں جو آزادی، انصاف اور انسان دوستی پر یقین رکھتا ہے۔
________________________________
یہ تحریر دراصل باسط خوشحال کی پشتو تحریر "ژوند پہ زولنو کے” کا اُردو ترجمہ ہے۔

ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: