قومیں اپنی تاریخ میں کبھی کبھار ایسے انسان پیدا کرتی ہیں جو کسی تخت، کسی فرمان یا کسی آئینی شق کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کی قیادت کا سرچشمہ ریاست نہیں بلکہ قوم کا اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ گوہر آمان خان المعروف پبلک خان سواتی اسی قبیلے کے انسان تھے۔ وہ لوگ جو پیدا ہی اس لیے ہوتے ہیں کہ غلامی کے عہد میں مزاحمت کی علامت بن سکیں۔
نواب حمیداللہ خان مرحوم کے بڑے پوتے اور خانِ خانی زمان خان کے فرزند ہونے کے باوجود، پبلک خان نے کبھی نسب، جاگیر یا خانیت کو اپنی شناخت کا محور نہیں بنایا۔ والد کے انتقال کے بعد جب قوم نے ان کے سر پر دستار باندھی، تو یہ محض روایت نہ تھی بلکہ یہ اعلان تھا کہ یہ شخص ہمارا ضمیر ہے، ہماری آواز ہے، ہمارا محافظ ہے۔
پکھل اور بفہ کے جدی پشتی خوانین میں شمار ہونا اگر ایک سماجی حقیقت تھی، تو عوام میں گھل مل جانا ایک شعوری سیاسی فیصلہ تھا۔ ان کا حجرہ طاقت کا نہیں، احتساب کا مرکز تھا۔ وہاں خان اور مزدور، بزرگ اور نوجوان، سب برابر بیٹھتے تھے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں پختون سیاست نے طبقاتی غرور کے بہ جائے عوامی رفاقت سیکھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انگریز سامراج بندوق، قانون اور خوف کے ذریعے پورے ہندوستان کو خاموش رکھنا چاہتا تھا۔ مگر پختون دھرتی نے ہمیشہ انکار کیا ہے اور پبلک خان اسی انکار کا نام تھے۔
جب تاریخ نے پختون قوم کے سامنے دو راستے رکھے، ایک سرکاری وفاداری کا، دوسرا قومی مزاحمت کا، تو گوہر آمان خان نے بغیر کسی تذبذب کے انکار کا راستہ چنا۔ وہ اس وقت محکمہ مال میں پٹواری کی حیثیت سے انگریز حکومت کا حصہ تھے، مگر ضمیر کے بوجھ تلے یہ منصب ان کے لیے غلامی کی زنجیر بن چکا تھا۔
خدائی خدمت گار تحریک میں شمولیت دراصل ایک سیاسی اعلان تھا کہ پختون اب رعایا نہیں، قوم ہیں۔ پبلک خان نے ملازمت چھوڑ کر یہ پیغام دیا کہ آزادی کی جدوجہد آدھی نہیں ہوتی، یا تو سب کچھ، یا کچھ بھی نہیں۔
سول نافرمانی، اجتماعات، جلوس، گرفتاریوں اور کوڑوں نے ان کے حوصلے کو فولاد بنا دیا۔ جیل ان کے لیے قید خانہ نہیں بلکہ سیاسی درس گاہ تھی۔ انگریز کی ہر سزا تحریک کو کم زور کرنے کے بہ جائے مزید منظم کرتی چلی گئی۔
جب مسجد (آج کی مسجدِ قبا) سے سول نافرمانی کا اعلان ہوا اور انگریز سپاہیوں نے بندوقیں تان لیں، تو یہ لمحہ پختون تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ انگریز کمانڈر کا یہ کہنا کہ "پبلک کے خان پر گولی نہیں چل سکتی” دراصل اس بات کا اعتراف تھا کہ طاقت بندوق میں نہیں، عوامی تائید میں ہوتی ہے۔
خان عبدالغفار خان (باچا خان) جیسے نظریاتی راہ نما کسی سے متاثر ہوں، تو یہ معمولی بات نہیں۔ باچا خان کا بفہ آکر گوہر آمان خان سے ملنا اور اپنی کتاب "زما ژونداو جدوجہد” میں ان کا ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ پبلک خان محض ایک کارکن نہیں بلکہ تحریک کی روح تھے۔
ان کا حجرہ محض بیٹھک نہیں بلکہ ایک سیاسی ادارہ تھا، جہاں نسلوں کو یہ سبق دیا جاتا تھا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ بندوق نہیں، کردار ہے۔ چلم، چائے اور گفتگو کے ساتھ ساتھ جو چیز منتقل ہوتی تھی وہ قومیت کا شعور تھا۔
پبلک خان نے درجنوں بار جیل کاٹی، مگر کبھی تحریک سے علیحدگی اختیار نہیں کی۔ وہ جانتے تھے کہ سمجھوتہ صرف کم زور کرتے ہیں، قومیں نہیں بناتے۔ ان کی سیاست نہ اقتدار کے لیے تھی، نہ مفاہمت کے لیے بلکہ انکار، استقامت اور مزاحمت کے لیے تھی۔
آج جب پختون سیاست نظریاتی ابہام، مفاد پرستی اور وقتی مصلحتوں میں گھری ہوئی ہے، گوہر آمان خان المعروف پبلک خان ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔
یہ تحریر ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ حال کے لیے ایک للکار ہے کہ اگر پختون قوم کو دوبارہ کھڑا ہونا ہے، تو اسے پبلک خان جیسے کردار، باچا خان جیسے نظریات اور خدائی خدمت گار جیسی اخلاقی سیاست کی طرف لوٹنا ہوگا۔
گوہر آمان خان المعروف پبلک خان کی جدوجہد ان کی ذات پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ ایک سیاسی وراثت کی صورت میں آگے منتقل ہوئی۔ وہ وراثت جو دولت، جاگیر یا منصب پر نہیں بلکہ خدمت، شعور اور قومی ذمہ داری پر قائم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تینوں صاحب زادے مختلف میدانوں میں قوم کی خدمت کا استعارہ بن کر ابھرے اور اپنے والد کے نظریے کو عملی صورت میں آگے بڑھایا۔
ان کے بڑے صاحب زادے میر افضل خان نے سب سے پہلے وطن کی خدمت کا راستہ عسکری میدان میں چنا۔ وہ پاک فوج میں میجر کے عہدے تک پہنچے اور ایک منظم، باوقار اور ذمہ دار افسر کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دینے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ مگر ان کے لیے خدمتِ وطن کا مفہوم وردی اتارنے پر ختم نہ ہوا۔ والد کی وفات کے بعد، قوم کے اصرار اور عوامی اعتماد کے تحت، دستارِ قیادت ان کے سر پر رکھی گئی اور انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ قیادت کا اصل سرچشمہ عوامی اعتماد ہوتا ہے، نہ کہ محض ماضی کا حوالہ۔
پبلک خان کے دوسرے صاحب زادے تاج محمد خان، جو علاقے میں تاجوں خان وکیل صاحب کے نام سے معروف تھے، پیشے کے اعتبار سے ایک قانون دان تھے۔ مگر ان کی وکالت محض عدالتوں تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ آئین، قانون اور عوامی حقوق کے ایک متحرک ترجمان تھے۔ سیاسی بصیرت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ انہوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دورِ حاضر کی سیاسی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ یوں وہ اس فکر کے امین بنے جو خدائی خدمت گار تحریک سے چل کر جدید جمہوری سیاست تک پہنچی۔
تیسرے صاحب زادے غلام سرور خان سرخیلی علمی، فکری اور سیاسی لحاظ سے ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ ایم اے پولیٹیکل سائنس، ایم اے انگلش اور ایم اے اسلامیات جیسی اعلیٰ تعلیمی اسناد کے حامل تھے، جو ان کی فکری گہرائی اور نظریاتی وسعت کا ثبوت ہیں۔ سیاست میں انہوں نے نواب زادہ نصراللہ خان کی جماعت پی ڈی پی میں مرکزی نائب صدر اور صوبائی صدر جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ گورنمنٹ کنٹریکٹر تھے، مگر ان کی اصل شناخت مزدور دوستی اور عوامی سیاست تھی۔ زمانۂ طالب علمی میں کراچی میں مزدور تنظیموں کی قیادت کرتے رہے، اور یہ حقیقت کسی افسانے سے کم نہیں کہ ان کی ایک کال پر پورا کراچی بند ہو جاتا اور حکومت مزدوروں کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتی۔
یوں گوہر آمان خان کی فکر تین مختلف راستوں فوج، قانون اور عوامی سیاست سے گزرتی ہوئی ایک ہی مرکز پر مرتکز رہی۔ وقت بدلتا ہے، چہرے بدلتے ہیں، مگر نظریے زندہ رہتے ہیں۔ آج بھی نئے لوگ جنم لے رہے ہیں جو اسی جذبے کے تحت عملی سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں، تاکہ خدمت کو وراثت نہیں بلکہ ذمے داری سمجھا جائے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو خلوصِ نیت، استقامت اور عوامی خدمت کے جذبے میں ثابت قدم رکھے اور خدا خان بابا کی مغفرت فرمائے اور ورثا کو استقامت دے، آمین۔
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: