ولی خان، اصول، وقار اور عوامی خدمت کا علمبردار

سیریز: مَیں نے ولی خان کو یوں دیکھا
قسط نمبر، 01
1970 کی دہائی پاکستان کے سیاسی تاریخ میں ایک حساس اور اہم مرحلہ تھا۔ صوبائی حکومتیں نئی سیاسی حرکیات اور پارٹیز کی شراکت کے ساتھ کام کر رہی تھیں، اور اس دوران میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جو راہ نماؤں کے نظریاتی موقف، اصول اور شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کہانی میں ہم ایک دلچسپ واقعہ بیان کریں گے جو ظاہر کرتا ہے کہ خان عبدالولی خان نہ صرف سیاسی بصیرت کے حامل تھے بلکہ اصول اور خود داری کے مضبوط علمبردار بھی تھے۔
قارئین، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی راہ نما اور بزرگ سیاست دان سلیم خان ایڈووکیٹ (صوابی) کہتے ہیں کہ 1972ء میں ہماری جماعت یعنی نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی مشترکہ صوبائی حکومت قائم تھی، اور صوبہ کے گورنر نیپ کے ارباب سکندر خان خلیل تھے۔ ایک دن ولی خان ایک دوست کی تعزیت کے سلسلے میں ڈیرہ اسماعیل خان جا رہے تھے۔ اس دوران میں ارباب سکندر خان خلیل نے ولی خان بابا سے کہا کہ "مَیں بھی اس تعزیت کےلیے ڈی آئی خان جا رہا ہوں، آپ میرے ساتھ طیارے میں چلے آئیں۔”
لیکن ولی خان نے گورنر صاحب کو ایک تاریخی جواب دیا کہ "گورنر صاحب، آپ صوبے کے گورنر ہیں، اور یہ آپ کا حق اور استحقاق ہے کہ صوبے کے دور دراز علاقوں کا سفر اپنے طیارے سے کریں، لیکن مجھے بتائیں کہ میں آپ کے ساتھ طیارے میں کس حیثیت سے بیٹھوں…؟”
یوں گورنر صاحب نے طیارے میں ڈی آئی خان کا سفر کیا، جب کہ ولی خان بابا اپنی گاڑی میں جا کر اسی دوست کی تعزیت کی مراسم انجام دی۔ یہ واقعہ نہ صرف ولی خان کے اصولی موقف کی ایک زندہ مثال ہے بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے طاقت، اختیار یا آسان راستے کی بہ جائے عوامی خدمت اور ذاتی قربانی کو ترجیح دی۔ آج کے سیاسی ماحول میں، جب بعض راہ نما ذاتی مفاد یا اختیار کے لیے کام کرتے ہیں، یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاست میں اصول، عزت اور عوامی خدمت سب سے بڑی دولت ہیں۔
قارئین، یہ چھوٹا واقعہ دراصل ایک بڑے اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک حقیقی قائد وہ ہوتا ہے جو اختیار یا طاقت کے لالچ میں نہ آئے، بلکہ عوام اور اصول کی راہ پر ثابت قدم رہے۔ ولی خان بابا کا یہ موقف آج بھی پاکستانی سیاست کے لیے سبق آموز ہے اور نوجوان سیاسی کارکنوں کے لیے راہ نمائی کا مشعل ہے۔ وقت بدلتا ہے، لوگ آتے اور جاتے ہیں، لیکن اصول اور عزت کی یہ مثال ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
__________________________________
نوٹ: یہ تحریر خان عبدالولی خان کی یومِ پیدائش کے موقع پر خصوصی طور پر ابدالی ڈاٹ کام پر شائع کی جا رہی ہے۔ ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔