ولی خان بابر، خوف کے شہر میں حق کی آواز

تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو آسان راستے چھوڑ کر مشکل راستے چنتے ہیں۔ جو خاموشی کے عوض سچ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور جو جان کی قیمت پر بھی قلم کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ ولی خان بابر ایسا ہی ایک نام ہے جس نے مختصر زندگی میں طویل تاریخ رقم کی۔
قارئین، ولی خان بابر 05 اپریل 1982ء کو بلوچستان کے ضلع ژوب کے ایک باوقار پختون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط مگر باعزت خاندان سے تھا، جہاں تعلیم، دیانت اور سچ بولنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، بعدازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی کا رُخ کیا، وہ شہر جو بعد میں ان کی صحافت بھی بنا اور ان کی شہادت کی سرزمین بھی۔
انہوں نے جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات یعنی (International Relations) میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ محض ایک تعلیمی انتخاب نہیں تھا، بلکہ عالمی سیاست، طاقت کے ڈھانچوں اور ریاستی معاملات کو سمجھنے کی جستجو تھی جو آگے چل کر ان کی صحافت میں بھی نمایاں نظر آئی۔
ولی خان بابر نے عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ ابتدا میں پرنٹ میڈیا سے وابستگی رہی، مگر جلد ہی الیکٹرانک میڈیا کا رُخ کیا اور جیو نیوز سے رپورٹر کے طور پر وابستہ ہو گئے۔ کراچی جیسے شہر میں انہوں نے کرائم اور لاء اینڈ آرڈر رپورٹنگ کو اپنا میدان چُنا، ایک ایسا شعبہ جس میں خبر سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
یہ وہ دور تھا جب کراچی ٹارگٹ کلنگ، گینگ وار، سیاسی تشدد اور مجرمانہ نیٹ ورکس کی لپیٹ میں تھا۔ ایسے میں ولی خان بابر کی رپورٹس محض واقعات کی تفصیل نہیں ہوتیں، بلکہ پسِ پردہ کرداروں، طاقتور گروہوں اور نظام کی ناکامیوں کی نشان دہی کرتی تھیں۔ یہی بے باکی انہیں ممتاز بھی بناتی رہی اور نشانے پر بھی لے آئی۔
13 جنوری 2011ء کی رات جب وہ معمول کے مطابق دفتر سے گھر واپس جا رہے تھے، لیاقت آباد کے علاقے میں ان کی گاڑی کو روکا گیا۔ چند لمحوں کی گفتگو کے بعد اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ سر اور گردن میں لگنے والی گولیوں نے ایک 28 سالہ نوجوان صحافی کی زندگی کا چراغ گل کر دیا مگر سچ کی روشنی کو بجھا نہ سکے۔
قارئین، ولی خان بابر کا قتل ایک عام واردات نہیں تھا، بلکہ ایک سوچی سمجھی ٹارگٹ کلنگ تھی۔ ان کے قتل کے بعد جو کچھ ہوا، وہ خود ایک المیہ تاریخ ہے۔ اس کیس سے جڑے گواہان، پولیس اہل کار، تفتیشی افسران اور حتیٰ کہ خصوصی پراسیکیوٹر تک قتل ہوتے گئے۔ خوف کی ایسی فضا پیدا قائم کی گئی کہ کراچی سے مقدمہ منتقل کرنا پڑا۔
بالآخر، طویل اور خونی جدوجہد کے بعد، اینٹی ٹیررازم کورٹ نے اس مقدمے میں فیصلے سنائے۔ کئی ملزمان کو سزائے موت اور عمر قید دی گئی۔ پاکستانی صحافت کی تاریخ میں یہ ایک نایاب مثال بنی کہ کسی شہید صحافی کے خون پر عدالتی مہر ثبت ہوئی۔ اگرچہ آج بھی یہ سوال زندہ ہے کہ اس قتل کے اصل منصوبہ ساز کون تھے…؟
قارئین، ولی خان بابر آج بھی زندہ ہیں، ہر اُس صحافی میں جو خطرے کے باوجود سوال کرتا ہے، ہر اُس کیمرے میں جو اندھیرے میں بھی سچ تلاش کرتا ہے، اور ہر اُس قلم میں جو خوف کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صحافت محض خبر رسانی نہیں، بلکہ سچ کی حفاظت کا نام ہے اور بعض اوقات اس کی قیمت جان سے چکانی پڑتی ہے۔
آج یعنی 13 جنوری کو ان کی برسی پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ولی خان بابر مرا نہیں، بلکہ مثال بن گیا۔ ایک ایسی مثال جو آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ سچ بولنے والے کم ہوتے ہیں، مگر تاریخ انہی کو یاد رکھتی ہے۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید ولی خان بابر کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور ہمیں سچ کا ساتھ دینے کا حوصلہ نصیب کرے، آمین۔
__________________________________
یہ تحریر ولی خان بابر کی برسی کے حوالے سے خصوصی طور پر ابدالی ڈاٹ کام پر شائع کی جا رہی ہے۔ ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔