پختون افغان قومی سیاسی تحریک کی تاریخ میں بعض شخصیات محض سیاسی کارکن یا پارلیمانی راہ نما نہیں ہوتیں، بلکہ وہ پورے عہد کی فکری، نظریاتی اور تاریخی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ عبدالرحیم مندوخیل ایسی ہی ایک ہمہ جہت اور تاریخ ساز شخصیت تھے جن کی زندگی پختون افغان ملت کی قومی محکومی، سیاسی جدوجہد، فکری ارتقا اور مزاحمتی سیاست کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے سیاست کو اقتدار کے حصول کے بہ جائے قومی آزادی، جمہوریت، سماجی انصاف اور عوامی خود اختیاری کی منظم جدوجہد میں ڈھالا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی زندگی ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے قومی شعور کی تاریخ ہے۔
پختون خوا ملی عوامی پارٹی (پختونخوا میپ) کے مرکزی راہ نما اور پختون افغان قومی سیاسی تحریک کے روحِ رواں عبدالرحیم مندوخیل 1937ء میں تاریخی وادی ژوب میں آباد پختون قبیلہ مندوخیل کے ایک گاؤں اومڑہ مرسین زی میں محترم عبدالرحمان اور محترمہ دوتانئی کے گھر پیدا ہوئے۔ موصوف ایک وطن پرست اور قوم پرست خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے دادا ملا نور خان نے 1919ء میں انگریز استعمار کے خلاف افغانستان کی آزادی و استقلال کی جنگ میں ژوب کے محاذ پر ازمیر خان مندوخیل، مشو خان شیرانی اور شیرک عبداللہ زی کی قیادت میں سرباز سپاہی کی حیثیت سے عملی شرکت کی تھی۔
ان کا خاندان گوہر کہول گاؤں کا ملک خاندان تھا اور پردادا خاٹول کی نسبت سے گاؤں کے ایک علاقے کا نام آج بھی خاٹول کوٹ ہے۔ اگرچہ خاندان کی سماجی حیثیت مستحکم تھی، مگر معاشی حالات نہایت ابتر تھے۔ گاؤں کے دیہاتی ماحول میں نیم زرعی اور نیم بھیڑ پال معیشت پر خاندان کا گزر بسر تھا۔ اسی مجبوری کے باعث عبدالرحیم مندوخیل کے والد نے تلاشِ معاش میں ترکستان، کابل و زابل، سندھ و ہند اور بنگال کے طویل اور صبر آزما سفر کیے۔ انہی اسفار کے دوران انہوں نے کلکتہ میں بنگالی زبان بھی سیکھی۔
ایک تاریخی اور معنی خیز واقعہ یہ پیش آیا کہ ژوب چھاؤنی میں ایک بنگالی فوجی افسر سے بنگالی زبان میں گفتگو کے بعد وہ افسر ان کے والد کا ایسا قریبی دوست بن گیا کہ اس کے اصرار پر بچوں کی تعلیم کے لیے گھر کو گاؤں سے ژوب شہر منتقل کر دیا گیا۔ یہ ایک عجیب مگر بامعنی اتفاق ہے کہ پختون افغان قومی تحریک کے ایک عظیم راہ نما کی تعلیم کا ذریعہ ایک بنگالی فوجی افسر بنا۔
عبدالرحیم مندوخیل 1943ء میں ژوب ہائی سکول میں داخل ہوئے، یہیں سے میٹرک کیا اور 1953ء میں کوئٹہ کے سائنس کالج میں داخلہ لیا۔ بی اے مکمل کرنے کے بعد 1963ء میں اسلامیہ کالج پشاور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ غیر معمولی طور پر محنتی، ذہین اور خود دار طالب علم تھے۔ بی اے تک تعلیم کے اخراجات انہوں نے قابلیت کی سکالرشپس، ٹیوشن اور ریڈیو کوئٹہ میں پشتو نیوز کاسٹر کی حیثیت سے پورے کیے، جب کہ ایل ایل بی کے تعلیمی اخراجات قلعہ سیف اللہ اور اپوزئی کے مڈل سکولوں میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے ملازمت کر کے پورے کیے۔
ان کی طالب علمی کا دور پختون افغان ملت کی بدترین قومی محکومی اور سماجی تباہ حالی کا زمانہ تھا۔ یہی وہ عہد تھا جب باچا خان اور خان شہید عبدالصمد خان اچک زئی کی قیادت میں پختون قومی سیاسی تحریک ناقابلِ بیان قربانیاں دے رہی تھی۔ اس دور کی قومی ذلت، سیاسی جبر اور سماجی ابتری نے عبدالرحیم مندوخیل کے شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ طالب علمی ہی میں پختون قومی سیاسی تحریک کے فعال رکن بن گئے۔
انہوں نے اس زمانے میں کوئٹہ کے کالج میگزین بولان میں "پشتو اور آج کے پشتون”، “اس تاریک سرزمین کی شخصیتیں” جیسے مضامین تحریر کیے اور رسالہ گلستان میں "ژوب” کے عنوان سے مضمون لکھا۔ ان تحریروں سے بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پختون وطن کی تاریخ، جغرافیہ، تہذیب و تمدن، زبان، ثقافت، ادب اور سیاست پر ان کا مطالعہ کس قدر وسیع، گہرا اور ہمہ گیر تھا۔
1947ء میں جب برِصغیر سے انگریز استعمار کے انخلا کے وقت محکوم پختون وطن کو آزاد اور خودمختار بنانے کے بہ جائے ایک نئی پنجابی و مہاجر استعماری ریاست پاکستان میں شامل کرنے پر مجبور کیا گیا، تو نئی ریاست نے اپنی حکم رانی کا آغاز 1948ء میں بابڑہ کے مقام پر خدائی خدمت گاروں کے قتلِ عام اور باچا خان، خان شہید عبدالصمد خان اچک زئی سمیت قومی تحریک کے راہ نماؤں کو طویل قید و بند کی سزاؤں سے کیا۔
اس کے بعد سات برس تک آئین ساز اسمبلی کو آئین بنانے سے روکا گیا، اس کے متفقہ فارمولے رد کیے گئے اور بالآخر 1954ء میں آئین ساز اسمبلی ہی توڑ دی گئی۔ پھر 1955ء میں وفاقی وحدتوں کے قومی وجود کو ختم کر کے مغربی پاکستان پر بدنامِ زمانہ ون یونٹ اور مشرقی پاکستان پر پیریٹی کا استعماری نظام مسلط کیا گیا۔
ایسے حالات میں عبدالصمد خان اچک زئی نے 1954ء میں "ورور پشتون” کے نام سے ایک قومی سیاسی پارٹی قائم کی اور بولان تا چترال تمام پختون خوا وطن کی وحدت پر مبنی خود مختار قومی صوبہ ‘پختونستان’ کی تشکیل کا واضح پروگرام پیش کیا۔ ورور پشتون پارٹی نے قومی شعور کی بیداری اور پختون قومی تحریک کو متحد و منظم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ عبدالرحیم مندوخیل نے کالج کی طالب علمی کے دوران ورور پشتون میں ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے بھرپور کردار ادا کیا۔
پچاس کی دہائی پختون اور بلوچ قومی تحریکوں کو علمی، نظریاتی اور سائنسی بنیادوں پر منظم کرنے کی دہائی تھی۔ اس عمل میں سائیں کمال خان شیرانی، عبداللہ خان جمال دینی اور ڈاکٹر خدائیداد جیسے انقلابی دانشوروں کی قائم کردہ ادبی تنظیموں اور پشتو و بلوچی رسالوں نے تاریخی کردار ادا کیا۔ عبدالرحیم مندوخیل کی خوش نصیبی یہ تھی کہ انہیں طالب علمی ہی میں کمال خان شیرانی جیسے عظیم افغان شناس انقلابی دانشور کی سیاسی سرپرستی اور فکری راہ نمائی حاصل رہی۔
اسی دور میں انہوں نے "ٹولواکی (اقتدارِ اعلیٰ)” کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی، جس میں علمی استدلال کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ کسی بھی ریاست میں اقتدارِ اعلیٰ کا اصل حق عوام کو حاصل ہوتا ہے۔
جب پاکستان کے استعماری حکم رانوں نے ون یونٹ کے قیام کے بعد 1956ء میں صدارتی اور وحدانی طرز کا آئین نافذ کیا اور قوموں کی برابری، جمہور کی حکمرانی اور وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کی راہ مسدود کر دی، تو محکوم قوموں کی سیاسی جماعتوں نے 1956–57ء میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) قائم کی۔ نیپ نے سامراج دشمن، استعمار دشمن اور جاگیردار دشمن پروگرام پیش کیا، جس کا بنیادی ہدف پختون، بلوچ، سندھی، بنگالی اور پنجابی عوام کے قومی و جمہوری اقتدار کا قیام، ون یونٹ کا خاتمہ، لسانی و ثقافتی بنیادوں پر خود مختار صوبوں کی تشکیل اور مثبت غیرجانب دار خارجہ پالیسی تھا۔
جب نیپ نے ان اہداف کے حصول کے لیے منظم جدوجہد شروع کی اور اسے محکوم قوموں اور عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی، تو اس کے ردِ عمل میں 07 اکتوبر 1958ء کو پہلا ایوبی مارشل لا نافذ کر کے ملک پر کھلی فوجی آمریت مسلط کر دی گئی۔ اس مارشل لا کا پہلا اور اصل نشانہ نیشنل عوامی پارٹی اور اس کی قیادت بنی۔ کوئٹہ کے میونسپل ہال میں قائم سپیشل ملٹری کورٹ نے خان شہید عبدالصمد خان اچک زئی پر مقدمہ چلایا اور دسمبر 1958ء میں انہیں چودہ سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
محترم عبدالرحیم مندوخیل خان شہید کی ہر پیشی میں موجود رہے۔ پارٹی پر پابندی کے باوجود انہوں نے سیاسی سرگرمیاں ترک نہ کیں اور پابندی کے خاتمے کے بعد 1963ء میں کوئٹہ ڈویژن میں نیشنل عوامی پارٹی کی بحالی اور تنظیم نو میں اہم کردار ادا کیا۔ جب 1968ء میں قومی، طبقاتی اور جمہوری مسائل پر نیپ دو دھڑوں یعنی ‘نیپ ولی’ اور ‘نیپ بھاشانی’ میں تقسیم ہوئی، تو عبدالرحیم مندوخیل نے نیپ بھاشانی کا ساتھ دیا اور پارٹی منشور کے بنیادی اصولوں پر ثابت قدم رہے۔
ایوبی مارشل لا کے خاتمے کی تحریک میں نیشنل عوامی پارٹی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ 1969ء میں پہلی بار ایک متحد اور خود مختار پشتون قومی صوبے کے قیام کا امکان پیدا ہوا۔ اس دوران میں عبدالولی خان اور خان شہید کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوئے۔
ایسے حالات میں جولائی 1970ء میں کوئٹہ کے علاقے ہنہ میں پختونوں کا ایک نمائندہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پختون خوا نیشنل عوامی پارٹی کا قیام عمل میں آیا اور خان شہید اس کے صدر منتخب ہوئے۔ عبدالرحیم مندوخیل نے اس پارٹی کو محکوم افغان وطن کی ملی وحدت، متحدہ قومی صوبہ پختون خوا کے قیام، پختون محنت کش عوام کے قومی و جمہوری اقتدار اور آزاد افغانستان کی آزادی و خودمختاری کے دفاع کا واحد سیاسی وسیلہ قرار دیا اور پارٹی کی تنظیم و نظریہ سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
02 دسمبر 1973ء کو عبدالصمد خان اچک زئی کی شہادت کے بعد گلستان میں ان کی نمازِ جنازہ کے تاریخی اجتماع سے عبدالرحیم مندوخیل نے ایک ولولہ انگیز اور فکری خطاب کیا، جس میں خان شہید کے قومی کردار اور تاریخی قربانیوں کو بھر پور انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
خان شہید کی شہادت کے بعد انہوں نے محمود خان اچک زئی کے ساتھ مل کر پختون خوا نیپ کو پختون محنت کش اور وطن دوست عوام کی نمائندہ قومی جماعت بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ 1975ء میں ضلع پشین کی تقسیم اور کوئٹہ میں بلوچ علاقوں کی شمولیت کے خلاف پارٹی کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو گورنر ہاؤس کوئٹہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس بلانا پڑا، جہاں عبدالرحیم مندوخیل نے مستند تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر ثابت کیا کہ شال کوئٹہ جنوبی پختون خوا کا مرکز اور تاریخی افغانستان کا جنوبی برج ہے، جس کے بعد حکومت کو متنازعہ نوٹی فکیشن واپس لینا پڑا۔
1977ء کے بعد جنرل ضیاء کی آمریت، افغان ثور انقلاب، افغان جنگ، ایم آر ڈی کی تحریک، پختون اولسی جرگے، 1991ء کے واقعات، مردم شماری کے خلاف جدوجہد، 1992ء کی تاریخی بھوک ہڑتال، پختون خوا میپ کی وحدتی سیاست، پارلیمانی جدوجہد، اٹھارویں ترمیم اور علمی و فکری تصانیف، یہ سب عبدالرحیم مندوخیل کی جدوجہد کے تسلسل کی کڑیاں ہیں، جنہوں نے انہیں پختون افغان قومی تحریک کا فکری ستون بنا دیا۔
رحیم صاحب نے ممبر صوبائی اسمبلی، ممبر سینیٹ آف پاکستان اور ممبر قومی اسمبلی کے حیثیت سے پارلیمان کے محاذ پر محکوم قوموں اور مظلوم عوام کی حق میں مؤثر آواز اٹھاتے ہوئے پختون افغان ملت، محکوم قوموں، جمہوریت اور آئینی بالادستی کے حق میں بھرپور اور مدلل کردار ادا کیا۔
قارئین، عبدالرحیم مندوخیل ان راہ نماؤں میں سے تھے جنہوں نے سیاست کو اصول، علم اور قربانی کے ساتھ جوڑا۔ انہوں نے اقتدار کے ایوانوں سے لے کر عوامی جرگوں تک ایک ہی مؤقف رکھا یعنی قومی آزادی، جمہوریت اور عوامی خود مختاری۔ وہ محض ایک سیاسی راہ نما نہیں بلکہ پختون افغان ملت کی اجتماعی یادداشت، فکری وراثت اور مزاحمتی شعور کا نام تھے۔
20 مئی 2017ء کو ان کا انتقال اگرچہ ایک جسمانی جدائی تھا، مگر ان کی فکر، جدوجہد اور نظریاتی سرمایہ آج بھی پشتون قومی سیاست کی راہ نمائی کر رہا ہے۔ ایسے راہ نما تاریخ کے صفحات پر نہیں، قوموں کے شعور میں زندہ رہتے ہیں۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: