اے این پی اور ریاستی تجربات تاریخ کے آئینے میں

ریاستیں جب اپنی تاریخ کے مشکل موڑ پر پہنچتی ہیں، تو محض وضاحتیں کافی نہیں رہتیں، وہاں اعتراف کی ضرورت پڑتی ہے۔ بعض اوقات ایک جملہ، ایک حوالہ یا ایک نام پوری دہائیوں پر محیط پالیسیوں کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی آج یعنی 06 جنوری 2026ء کی تقریر بھی اسی نوعیت کی تھی، جہاں ماضی کی بعض سیاسی تشکیلوں اور تجربات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک غیر محسوس سا سوال چھوڑ دیا گیا۔ کیا ہم نے واقعی درست سیاسی قوتوں کو آگے بڑھایا تھا…؟ ایسے میں اگر عوامی نیشنل پارٹی کا ذکر آتا ہے، تو یہ محض ایک جماعت کا حوالہ نہیں بلکہ اس سیاسی راستے کا اعتراف ہے جسے کبھی دانستہ طور پر نظر انداز، کم زور اور متنازع بنایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی آج کی تقریر محض ایک عسکری بریفنگ نہیں تھی بلکہ یہ اعترافِ تاریخ بھی تھی۔ جب ریاستی ترجمان ماضی کی بعض پالیسیوں، تجربات اور سیاسی کرداروں کا حوالہ دیتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تاریخ کسی موڑ پر سوال کھڑا کر چکی ہے۔ اسی تناظر میں اگر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کا ذکر آتا ہے، تو یہ محض ایک جماعت کا حوالہ نہیں بلکہ پختون سیاست کے ایک پورے عہد کی بازگشت ہے۔
یہ اب کسی راز سے کم نہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی کو کم زور کرنے کے لیے ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت اسلامائزیشن، شدت پسندی اور بعد ازاں تحریکِ انصاف جیسے مصنوعی سیاسی بیانیے کو پروان چڑھایا گیا۔ مقصد واضح تھا کہ قوم پرست، جمہوری اور آئینی سیاست کو دیوار سے لگانا۔ مگر قدرت کا انصاف دیکھیے کہ جس گٹھ جوڑ کو ناقابلِ شکست سمجھا جا رہا تھا، وہ خود باہمی اختلافات، تضادات اور بداعتمادی کا شکار ہو گیا۔
اے این پی کی غیر مقبولیت کو بدامنی سے جوڑنا ایک دانستہ غلط بیانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اے این پی کو عوام نے رد نہیں کیا بلکہ اسے ملا، ملٹری اور عمران خان کے بیانیاتی اتحاد کے ذریعے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔ ٹارگٹ کلنگ، منظم پروپیگنڈہ، اور "انقلابی نعروں” کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس میں اصل مجرموں کو نجات دہندہ اور امن کے علم برداروں کو مجرم بنا کر پیش کیا گیا۔
یہ تاریخ کا ایک ستم ظریفانہ باب ہے کہ جس وقت پختون دھرتی پر آگ لگی ہوئی تھی، جب ملا اور آمریت کے سائے میں شدت پسندی کو نظریہ بنا کر بیچا جا رہا تھا، اُس وقت عوامی نیشنل پارٹی نے امن کے نام پر الیکشن لڑنے کی جسارت کی۔ اس امن کی قیمت اے این پی نے نعروں سے نہیں بلکہ شہیدوں کے خون سے ادا کی۔ قیادت سے لے کر کارکن تک، یہ پارٹی دہشت گردی کے سامنے دیوار بن کر کھڑی رہی، یہاں تک کہ امن بحال ہوا۔
امن کے بعد اے این پی نے صرف سکون ہی نہیں دیا بلکہ تعلیمی انقلاب، اٹھارویں آئینی ترمیم، صوبائی خود مختاری اور شناخت کی بحالی جیسے تاریخی اقدامات بھی کیے۔ یہی وہ کامیابیاں تھیں جنہوں نے مقتدر حلقوں کو خوف زدہ کیا اور اسی خوف کے نتیجے میں مصنوعی نظریات اور مصنوعی قیادتوں کے ساتھ نئے اتحاد تشکیل دیے گئے۔
یہ کہنا کہ اے این پی بدامنی کی وجہ سے غیر مقبول ہوئی، ایک اجتماعی ذہن سازی کا نتیجہ ہے، حقیقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی وقتی طور پر ضرور کم زور ہوئی، مگر زوال ان کا ہوا جو کبھی یار کہلاتے تھے۔ آج وہی قوتیں آپس میں دست و گریباں ہیں، ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہیں، اور اپنے ہی پیدا کردہ بیانیے کے بوجھ تلے دب چکی ہیں۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اس دھرتی کی حقیقی آوازوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آپ وقتی طور پر مصنوعی لوگ، مصنوعی انقلاب اور مصنوعی مقبولیت پیدا کر سکتے ہیں، مگر انجام ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ خیبر پختون خوا کو مصنوعی سیاست کے ذریعے کم زور تو کیا جا سکتا ہے، مگر آخر کار یہی مصنوعی عناصر ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔
افغانستان میں اشرف غنی جیسے سیاسی حل کے بہ جائے جن وحشی عناصر کو سپورٹ کیا گیا، آج وہی عناصر آپس میں برسرِ پیکار ہیں۔ یہی انجام یہاں بھی ہوا، اور یہی آئندہ بھی ہوگا اگر تاریخ سے سبق نہ سیکھا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی آج کی تقریر دراصل مصنوعی سیاست سے دست برداری اور حقیقی جمہوری قوتوں کے ساتھ مکالمے کا ایک موقع ہے کیوں کہ تاریخ نہ نعروں سے بدلتی ہے، نہ بندوق سے، تاریخ آخر کار سچ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔