عطاء اللہ جانؔ ایڈوکیٹ، فن اور شخصیت

ادب اور فن کے ہر دور میں کچھ شخصیات ایسی نظر آتی ہیں جو اپنی بصیرت، علمی وسعت اور تخلیقی مہارت کی وجہ سے نہ صرف اپنے زمانے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی راہ نمائی کا سبب بنتی ہیں۔ پشتو زبان وادب کی دنیا میں عطاء اللہ جانؔ ایڈوکیٹ بھی انہی منفرد اور معتبر شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ شاعر، نقاد، مترجم اور خوش نویس کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور ان کی خدمات پشتو ادب کے تنوع، جمالیات اور علمی معیار کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
عطاء اللہ جانؔ کے اشعار میں نہ صرف زبان کی لطافت اور جمالیاتی حسن جھلکتا ہے بلکہ وہ اصلاحی تنقید کا بھی پختہ علم رکھتے ہیں۔
پہ نخاس دی شی دا خوشی نصابونہ
د دروغو نه برجت دی کتابونہ
د جان خوخ دی د ژوند ٹول نزاکتونہ
کتابونہ، گلابونہ، ربابونہ
یہ شعر ان کی علمی بصیرت، انسانی جذبات کی نفاست اور فن پاروں کے لیے محبت کا عکاس ہے۔ ان کے ادبی کام میں قاری کو سوچنے، محسوس کرنے اور خود کو ادب کے ساتھ جوڑنے کی دعوت ملتی ہے۔
شخصی اعتبار سے عطاء اللہ جانؔ ایک منفرد اور پُر اثر شخصیت کے مالک ہیں۔ دراز قد، اکہرا بدن، سانولی رنگت، کان اور گال نہ اُبھرے ہوئے اور نہ دھنسے ہوئے، آنکھوں میں ذہانت آمیز شوخی، داڑھی چٹ، مناسب مونچھیں، مخروطی انگلیاں، اور دھیما مگر اثر انگیز لہجہ۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی اور وقار کے ساتھ ایک پُرکشش قدرتی فطرت جھلکتی ہے، جو ان کے ہر علمی اور ادبی کام میں نمایاں رہتی ہے۔ ان کی یہ تمام خصوصیات، ان کی ادبی بصیرت اور فکری وسعت کے ساتھ مل کر ایک مکمل اور پُرتاثر شخصیت پیش کرتی ہیں۔
عطاء اللہ جانؔ 28 مئی 1977ء کو وادئ سوات کے مقام سیدو شریف میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول شگئی سے حاصل کی اور 1993ء میں میٹرک مکمل کیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ جہان زیب کالج مینگورہ سے ایف ایس سی، بی ایس سی اور ایم ایس سی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ قانون میں دلچسپی کے باعث 2005ء میں یونی ورسٹی آف پشاور سے ڈگری مکمل کی، اور آج کل ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر کیسوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ ادبی خدمات کے لیے انہوں نے یونی ورسٹی آف سوات سے ایم اے پشتو کی ڈگری بھی حاصل کی۔ اس طرح موصوف نے قانونی اور ادبی میدان میں متوازی مہارت حاصل کی، جو ان کے فکری تنوع اور علمی گہرائی کا ثبوت ہے۔
ان کی علمی دلچسپی اور ادبی قابلیت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ وہ پشتو، اُردو اور انگریزی کے علاوہ کئی دیگر زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں "گل گیڈئی” کے عنوان سے ایک شعری مجموعہ مرتب کیا ہے، جس میں 61 نظموں کے تراجم شامل ہیں۔ یہ تراجم انگریزی، اُردو، عربی، فرانسیسی، بنگالی، ترکی اور دیگر زبانوں کے اعلیٰ شعرا کے ہیں۔ یہ پشتو ادب میں پہلا مجموعہ ہے جو اس قدر متنوع زبانوں کے تراجم یکجا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ کاظم خان شیداؔ کے سو مشکل اشعار کی تشریح بھی مکمل کر چکے ہیں، جو طبع ہونے کے مراحل میں ہے۔ یہ کام نہ صرف علمی خدمات کا عکاس ہے بلکہ پشتو ادب میں تحقیقی اور تنقیدی معیار کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
ان کی اصلاحی تنقید کے حوالے سے شاعر اور نقاد روح الامین نایابؔ لکھتے ہیں "وہ دبلا پتلا سا عطاء اللہ جانؔ ایڈوکیٹ، نہ جانے کہاں سے یہ گن آئی کہ وہ شاعر، ادیب، نقاد اور اب بہترین مترجم بھی بن گیا۔” جب کہ تنقید کی مہارت پر مزید رقم طراز ہیں کہ "وہ ہلاکو خان کی طرح ہیں، جو تنقید کرتے ہوئے شاعر کے فن پارے کے حصے بکھیر دیتے ہیں، تاکہ پھر اسے اکٹھا کرنا مشکل ہو جائے۔ انہیں ہیرو سے زیرو بنانے میں دیر نہیں لگتی۔”
یہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ ان کی تنقید محض تنقید نہیں بلکہ ادب کی اصلاح، معیار کی بلندی اور علمی ارتقا کے لیے کی جاتی ہے۔ وہ قاری اور شاعر دونوں کے لیے روشنی اور راہ نمائی کا سبب بنتے ہیں، اور اس بات کی دلیل ہیں کہ تنقید بہ رائے اصلاح ادب کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عطاء اللہ جانؔ نے شاعری کے مختلف اصناف یعنی غزل، نظم، ہائیکو اور قطعہ میں بھی اپنی مہارت کا لوہا منوایا ہے۔ ان کی شاعری میں وطن، محبت، امن، انسانی جذبات، اور سماجی مسائل کی عکاسی نمایاں ہے۔ وہ نہ صرف شاعر اور نقاد ہیں بلکہ خوش نویس بھی ہیں، جو مادری زبان کی خدمت قلم سے کرتے ہیں۔ ان کے کچھ اشعار قارئین کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں:
پہ رنگ او پہ رنڑا باندے مئين وومہ او يم
مطلب می دا خکلا باندے مئين وومہ او يم
واعظہ ستا مننہ چی جنت دی په ما سود شی
خو زۀ په دی دنيا باندی مئين وومہ او يم
د دی نہ می د ذوق او د معيار اندازہ لگی
پہ شعر د شيدا باندے مئين وومہ او يم
د جنگ او د وحشت توری بلا سرہ پہ جنگ يم
د امن سپين سبا باندی مئين وومہ او يم
اے جانہ د وطن مينه پيدا دہ لہ ايمانہ
پ گل گل پختون خوا باندے مئين وومہ او يم
یہ اشعار نہ صرف ان کے جذبات، ذوق اور معیار کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ پشتو ادب کی خوب صورتی اور تہذیبی گہرائی کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
عطاء اللہ جانؔ ایڈوکیٹ نہ صرف پشتو ادب کے ممتاز شاعر اور نقاد ہیں بلکہ ایک مترجم اور خوش نویس کے طور پر بھی یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی خدمات ادب کی ترقی، تراجم کی افزائش اور نئی نسل کے ادبی شعور کے لیے راہ نمائی کا باعث ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ادب اپنی ارتقائی منازل طے کرے تو اصلاحی تنقید کو قبول کرنا اور ادبی شخصیات کی خدمات کو سراہنا ہم سب کی ذمے داری ہے۔ اللہ تعالا موصوف کو علم و ادب کی خدمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع عطا فرمائے، عمر دراز کرے اور علم میں وسعت عطا فرمائے، آمین۔
_________________________
ابدالی انتظامیہ کےلیے ضروری نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو بہ راہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کیجیے۔ تحریر شائع کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔