شاعری بہ ظاہر الفاظ کا کھیل لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ وزن، آہنگ اور احساس کی ایک نازک ہم آہنگی کا نام ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خیال درست، جذبہ سچا اور لفظ مناسب ہوتے ہیں، مگر شعر پھر بھی ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب شاعر کو اندازہ ہوتا ہے کہ کمی الفاظ میں نہیں، وزن میں ہے اور یہی احساس مجھے علمِ عروض کی طرف لے آیا۔
بہ قول پروفیسر ڈاکٹر انتل ضیاء، "شاعری بہترین الفاظ کو بہترین ترتیب کے ساتھ استعمال کرنے کا نام ہے۔ شاعر شاعری کے ذریعے اپنے مشاہدات، جذبات اور تجربات کو متوازن اور مترنم انداز میں لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔”
میں نے بھی اسی فن کو سیکھنے کی کوشش کی، مگر بارہا یہ تشنگی محسوس ہوئی کہ کہیں نہ کہیں وزن اور آہنگ کی وہ گرفت حاصل نہیں ہو پا رہی جس کے بغیر شعر مکمل نہیں ہوتا۔
اسی جستجو میں میں نے علمِ عروض سیکھنے کا ارادہ کیا اور سب سے پہلے سر فصیح اللہ خان کی خدمت میں رجوع کیا۔ بلا تکلف ملاقات کی درخواست کی تو ہمیشہ کی طرح شفقت سے فرمایا، جی مدثر! آپ نمازِ جمعہ کے بعد تشریف لائیے گا۔”
نماز کے بعد میں جامعہ پشاور کے علامہ اقبال ہاسٹل یعنی ہاسٹل 09 پہنچا۔ سر فصیح پہلے ہی منتظر تھے۔ بدقسمتی سے سوئی گیس کی بندش کے باعث چائے کا اہتمام مکمل نہ ہو سکا، حالاں کہ خاطر داری کی پوری تیاری موجود تھی، مگر سر کی خوش اخلاقی، تواضع اور علمی اپنائیت نے اس کمی کو یکسر بے معنی بنا دیا۔ درس کا آغاز فانی بدایونی کے اس معروف شعر سے ہوا:
اک معما ہے، سمجھنے کا، نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے، خواب ہے دیوانے کا
سر نے نہایت سادگی سے فرمایا کہ اگر یہاں لفظ "زندگی” کی جگہ "عروض” رکھ دیا جائے، تو مصرع فوراً وزن سے خارج ہو جائے گا۔ اس ایک جملے نے علمِ عروض کے اس بنیادی نکتے کو واضح کر دیا جو کتابوں میں اکثر مشکل اور خشک محسوس ہوتا ہے۔ یوں سمجھ آیا کہ عروض محض اوزان کا حساب نہیں بلکہ شعر کی روح کی نگہبانی ہے۔
اس کے بعد آہنگ کی مکمل گردان سنائی گئی اور علمِ عروض کے بنیادی اصول اس انداز میں بیان کیے گئے کہ پیچیدہ باتیں بھی سہل محسوس ہونے لگیں۔ گفتگو میں شگفتگی تھی، مثالوں میں شعری ذوق، اور انداز میں وہ روانی جو صرف خود شاعر استاد ہی پیدا کر سکتا ہے۔ چوں کہ سر فصیح خود بھی اردو کے ایک خوش گو شاعر ہیں، اس لیے ان کی تدریس میں شاعرانہ حِس پوری طرح جھلکتی ہے، اور یہی بات سیکھنے کے عمل کو خوش گوار بنا دیتی ہے۔
سبق کے اختتام پر ہم مدینہ مارکیٹ روانہ ہوئے، جہاں ایک غیر رسمی نشست میں چائے اور گرما گرم پراٹھوں کے ساتھ شعر و سخن کا تذکرہ جاری رہا۔ یہ محفل محض ایک نشست نہیں تھی بلکہ علم، ادب اور رفاقت کا حسین امتزاج تھی، جہاں گفتگو بوجھ نہیں بلکہ خوشبو محسوس ہو رہی تھی۔
یہ تجربہ میرے لیے صرف تعلیمی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی نہایت حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ بعض اساتذہ محض علم منتقل نہیں کرتے بلکہ سوچ کا زاویہ بدل دیتے ہیں، اور بعض ملاقاتیں محض یاد نہیں بنتیں بلکہ سمت متعین کر دیتی ہیں۔ سر فصیح اللہ خان سے یہ ملاقات بھی ایسی ہی تھی۔ ایک ایسا لمحہ جو آنے والے وقتوں میں میرے لفظوں کے وزن، لہجے کے وقار اور فکر کے توازن میں کہیں نہ کہیں ضرور جھلکے گا۔
سر کی علمی مہربانی، شفقت اور تربیتی انداز پر دل سے شکر گزار ہوں۔ واقعی، کچھ لمحات زندگی بھر کے لیے یاد نہیں رہتے، زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
______________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
