صوابی سے تعلق رکھنے والے معروف سیاست دان اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی راہ نما مختیار خان ایڈووکیٹ کی صاحب زادی پاغوندہ مختیار نے پشتو ادب اور سیاسی تاریخ کے میدان میں ایک اہم علمی کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے پشتو اکیڈمی پشاور سے "A Research Study of the Khan Abdul Ghaffar Khan’s Autobiography ‘Zama Jwand aw Jaddojehed'” کے عنوان سے اپنا پی ایچ ڈی مقالہ مکمل کیا، جو پختون سماج اور سیاسی تحریکوں کے مطالعے میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔
اس مقالے میں پاغوندہ مختیار نے باچا خان کے سیاسی نظریات، تعلیمی جدوجہد اور عوامی خدمات کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ مقالے کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تاریخی حقائق کی روشنی میں خان عبدالغفار خان کی شخصیت کا تجزیہ کیا اور ان کی اصلاحی تحریکوں کے اثرات کو معاصر پختون سماج کے تناظر میں پیش کیا۔
پاغوندہ نے یہ تحقیقی کام ڈاکٹر فرخندہ حیات کے زیرِ نگرانی تیار کیا گیا اور کامیابی سے دفاع کیا گیا، جس سے پشتو ادب اور سیاسی تاریخ میں اس موضوع پر جدید اور مستند تحقیق کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس کامیابی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوجوان محققین نہ صرف علمی میدان میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ قومی اور علاقائی تاریخ کے قیمتی موضوعات پر روشنی ڈالنے میں بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاغوندہ مختیار کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور علمی قابلیت کا مظہر ہے بلکہ اس سے پختون سماج میں تعلیمی تحقیق اور سیاسی شعور کو فروغ ملے گا۔
شیئرکریں: