صدرالدین مروت، نظریاتی سیاست کا ایک روشن باب

سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو بڑے عہدوں یا اقتدار کے بغیر بھی اپنی نظریاتی وابستگی، اصول پسندی اور عوامی خدمت کے جذبے کی بدولت لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ خیبر پختون خوا کے ضلع لکی مروت سے تعلق رکھنے والے صدرالدین مروت بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ان سیاست دانوں میں سے تھے جنہوں نے سیاست کو محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت، جمہوری جدوجہد اور نظریاتی وابستگی کا میدان سمجھا۔ ان کی پوری زندگی پشتون قوم پرستی، جمہوریت اور باچا خان کے فلسفۂ عدمِ تشدد کے ساتھ وابستگی کی ایک مثال رہی۔
قارئین، صدرالدین مروت کا تعلق ضلع لکی مروت کے علاقے ماما خیل مروت سے تھا۔ وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں سیاسی شعور اور قومی فکر کی روایت موجود تھی۔ ان کی پیدائش تقریباً 1950ء کی دہائی کے آخر میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کی طرف رُخ کیا اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد وہ جلد ہی عوامی مسائل اور سماجی معاملات سے قریب تر ہو گئے۔ بطورِ وکیل انہوں نے معاشرے کے کم زور طبقات کی آواز بننے کی کوشش کی اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی خدمات انجام دیں۔
ان کی سیاسی زندگی کا آغاز طلبہ دور سے ہوا۔ طالبِ علمی کے زمانے میں وہ پختون طلبہ کی نمائندہ تنظیم پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) سے وابستہ ہوئے۔ یہی وہ دور تھا جب ان میں قومی سیاست کا شعور بیدار ہوا اور انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ بعد ازاں انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اپنی سیاسی زندگی کا بیشتر حصہ اسی جماعت کے ساتھ وابستہ رکھا۔ وہ پارٹی کے ایک مخلص اور نظریاتی کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔
عوامی نیشنل پارٹی میں انہوں نے مختلف تنظیمی ذمے داریاں نبھائیں۔ ضلع لکی مروت میں پارٹی کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار نمایاں تھا۔ وہ ضلع صدر سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہے اور پارٹی کے صوبائی سطح کے معاملات میں بھی سرگرم رہے۔ ان کی تنظیمی صلاحیت اور نظریاتی وابستگی کی وجہ سے انہیں پارٹی میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
صدرالدین مروت نے عملی انتخابی سیاست میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے لکی مروت کے حلقے سے متعدد مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔ اگرچہ انہیں انتخابی کامیابی نصیب نہ ہو سکی، مگر انہوں نے کبھی اپنی جدوجہد سے دستبردار ہونے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ وہ اس یقین کے ساتھ سیاست کرتے رہے کہ نظریاتی جدوجہد کی اصل کامیابی اقتدار نہیں بلکہ عوام میں شعور پیدا کرنا اور اپنے نظریات کو زندہ رکھنا ہے۔
ان کی سیاسی فکر کا بنیادی محور پشتون قوم پرستی، جمہوریت اور عدم تشدد کا فلسفہ تھا۔ وہ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے افکار سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ پختون معاشرے کی ترقی تعلیم، شعور اور پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسی لیے وہ ہمیشہ سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے اور جمہوری روایات کو فروغ دینے کے حامی رہے۔
بطورِ انسان اور سیاسی کارکن ان کی شخصیت نہایت سادہ، باوقار اور شائستہ تھی۔ وہ نرم خو، بردبار اور ملن سار طبیعت کے مالک تھے۔ سیاسی اختلاف کے باوجود وہ ذاتی تعلقات کو خراب نہیں ہونے دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے مخالفین بھی ان کی شخصیت اور کردار کا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نظریاتی سیاست، اصول پسندی اور عوامی خدمت کے اصولوں پر گزاری۔
11 مارچ 2021ء کو حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا جس سے خیبر پختون خوا کی سیاسی فضا ایک مخلص اور نظریاتی کارکن سے محروم ہو گئی۔ ان کی وفات پر سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں میں سپردِ خاک کیا گیا جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
قارئین، صدرالدین مروت کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ ایک نظریاتی جدوجہد بھی ہے۔ ایسے کارکن جو بغیر کسی ذاتی مفاد کے اپنی پوری زندگی عوامی خدمت اور قومی فکر کے لیے وقف کر دیتے ہیں، وہ تاریخ میں خاموش مگر روشن کردار کے طور پر زندہ رہتے ہیں۔ صدرالدین مروت بھی انہی لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ اصولوں پر مبنی سیاست ہی دراصل معاشرے کی حقیقی خدمت کا راستہ ہے۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔