پاکستان اور افغانستان صرف پڑوسی ممالک نہیں ہیں بلکہ یہ تاریخ، مذہب اور خون کے رشتوں میں بندھے ہوئے دو ایسے وجود ہیں جنہیں جغرافیائی لکیروں نے بانٹنے کی کوشش تو کی مگر درد دونوں کا ہمیشہ سانجھا رہا۔ لیکن آج المیہ یہ ہے کہ ان دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا ہے۔
​تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے میں بدامنی کا بیج انگریزوں نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کے تحت بویا تھا۔ ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ہو یا قبائلی علاقوں کی غیر مستحکم حیثیت یہ سب اسی نوآبادیاتی دور کے وہ زخم ہیں جو آج تک رس رہے ہیں۔
اس کے بعد امریکہ نے اس خطے کو اپنی گریٹ گیم کا میدان بنایا۔ پہلے روس کے خلاف جہاد کے نام پر یہاں اسلحہ اور شدت پسندی کا کلچر متعارف کرایا گیا اور پھر نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان کو کھنڈر بنا دیا گیا۔ اسرائیل اور اس کے ہمنواؤں کا مفاد ہمیشہ اسی میں رہا ہے کہ امتِ مسلمہ کے طاقتور مراکز آپس میں الجھے رہیں تاکہ عالمی نقشے پر ان کا کوئی حریف باقی نہ رہے۔ جس طرح عراق، شام اور لیبیا کو داخلی انتشار کے ذریعے تباہ کیا گیا وہی فارمولا اب یہاں آزمایا جا رہا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ دشمن چالیں چل رہا ہے بلکہ المیہ یہ ہے کہ خود ہمارے درمیان ایسے گروہ موجود ہیں جن کی دکانیں صرف لاشوں پر چمکتی ہیں۔
​ یہاں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جنہیں "وار اکانومی” (War Economy) راس آ چکی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سرحدیں سلگتی رہیں تاکہ ان کی اہمیت برقرار رہے۔
دوسری طرف​ کابل کے ایوانوں میں بیٹھے ہوں یا پہاڑوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی بقا صرف پاکستان دشمنی میں دیکھتے ہیں۔ وہ بیرونی اشاروں پر ناچتے ہوئے اپنے ہی ملک کو ایک بار پھر آگ میں جھونکنے کے لیے تیار ہیں۔
​ان دونوں اطراف کے مٹھی بھر لوگوں کے لیے جنگ ایک منافع بخش کاروبار ہے جبکہ امن ان کے لیے موت کا پروانہ ہے کیونکہ امن کی صورت میں ان کی بلیک میلنگ اور ناجائز مراعات ختم ہو جائیں گی۔
  اگر ہم نے ان بیرونی سازشوں کو نہ سمجھا اور اپنے اندر موجود آستین کے سانپوں کو نہ پہچانا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ وقت دست و گریباں ہونے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے ورنہ دشمن کی بچھائی ہوئی بساط پر مہرے ہم ہوں گے اور مات بھی ہماری ہی مٹی کی ہوگی۔
_______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: