بلبلِ سرحد، ماہ جبین قزلباش

پشتو موسیقی کی دنیا میں چند آوازیں ایسی ہیں جو زمانے کے تغیرات کے باوجود دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور ماہ جبین قزلباش انہی میں سے ایک تھیں۔ ایک ایسی گلوکارہ جنہوں نے اپنی دل نشین، منفرد اور جذباتی آواز کے ذریعے نہ صرف پشتون بلکہ پورے پاکستان کے موسیقی کے منظرنامے میں اپنی شناخت قائم کی۔ قزلباش وہ فن کارہ تھیں جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے روایتی موسیقی کو جدید دور کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور اپنے گانوں میں نسوانی احساس، درد اور محبت کی سچائی کو اس خوب صورتی سے پیش کیا کہ ہر سننے والے کا دل اُن کی آواز کے سحر میں ڈوب جاتا۔
قارئین، ماہ جبین قزلباش 1958ء میں پشاور کے مشہور علاقے کوچہ رسال دار میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا اصل نام سریا خانم تھا اور وہ تُرکو یعنی فارسی قزلباش خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جس کے آباؤ اجداد ایران سے آئے اور بعد میں افغانستان اور پھر پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کے والد کا نام امداد علی قزلباش تھا، جنہوں نے اپنی اولاد کو تعلیم اور ثقافت دونوں کے اعتبار سے مضبوط بنیاد فراہم کی، جب کہ والدہ کا تعلق پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے تھا۔ خاندان کا ماحول فن اور موسیقی کے لیے سازگار تھا جس نے ماہ جبین کے ابتدائی موسیقی کے شوق کو پروان چڑھانے میں مدد دی۔
ماہ جبین نے ابتدائی تعلیم فارورڈ سکول پشاور سے حاصل کی اور کم عمری میں ہی اُن کی آواز میں ایک خاص جادو محسوس کیا گیا۔ اُن کے اساتذہ نے اُن کی صلاحیت کو پہچانا اور انہیں ریڈیو پاکستان پشاور میں گائیکی کے مواقع فراہم کیے۔ صرف 13 سال کی عمر میں وہ اپنی آواز کے سحر کے ذریعے سامعین کے دل جیتنے لگیں۔ ریڈیو پر اُن کے گانے نہ صرف پشتو کے روایتی رنگ پیش کرتے تھے بلکہ اُن میں نسوانی احساس اور جذبات کی گہرائی بھی نمایاں تھی۔
وقت کے ساتھ ماہ جبین قزلباش نے پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) پر بھی گانے ریکارڈ کیے اور کچھ پشتو فلموں میں اپنی آواز دی۔ ریڈیو اور ٹی وی دونوں نے اُن کی شہرت میں اضافہ کیا اور پشتو موسیقی کے لیے خواتین کی نمائندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ اُن کی آواز میں ایک نرم دھن، پُراثر احساس اور جذبے کی گہرائی تھی، جو سنتے ہی دل میں جگہ بنا لیتی تھی۔ اُن کے گانوں میں پشتو لوک، کلاسیکی دھنیں اور محبت و جدائی کے جذبات یکجا تھے۔ وہ اُردو، پنجابی، ہندکو، سندھی، سرائیکی، فارسی اور ترکی زبانوں میں بھی گیت گانے کی صلاحیت رکھتی تھیں، جس سے اُن کے دائرہ اثر میں بے پناہ وسعت پیدا ہوئی۔
ماہ جبین قزلباش کے گانے آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان میں سب سے یادگار گانوں میں "سپینی سپوگمئی وایہ اشنا بہ چرتہ وینہ” اور "زہ خو ستا یمہ ما نہ مہ مراوریگہ” وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے پشتو کے مشہور شعراء جیسے امیر حمزہ خان شنواری، خوشحال خان خٹک اور سحر افریدی کی شاعری کو اپنی آواز دی اور کئی معروف گلوکاروں کے ساتھ دُوئٹ بھی کیے۔ ان کے گانے ریڈیو اور ٹی وی پر بار بار نشر ہوتے رہے اور اُن کی مقبولیت کی بدولت پشتو موسیقی میں خواتین کے لیے نئے دروازے کھلے۔
قارئین، ماہ جبین قزلباش نہ صرف اپنی آواز کے حوالے سے بے مثال تھیں بلکہ اپنی جسمانی و جمالیاتی خوب صورتی میں بھی بے مثال حسن کی مالک تھیں۔ اُن کی مسکراہٹ، انداز اور چہرے کی نرمائش ایسے تھے جو ہر کسی کا دل موہ لیتے۔ جیسے اُن کی آواز ہر دل کو چھو جاتی تھی، ویسے ہی اُن کی ظاہری کشش اور حسین انداز بھی سامعین اور مداحوں کے دلوں میں ایک خاص جگہ بنا لیتے۔ یہ حسن اور آواز کا حسین امتزاج ہی تھا جس نے ماہ جبین قزلباش کو نہ صرف پشتو موسیقی کی دنیا میں بلکہ عوام کے دلوں میں بھی ایک لازوال مقام عطا کیا۔ ان کا ہر انداز، ہر مسکراہٹ اور ہر نغمہ ایک جادو کی طرح محسوس ہوتا تھا جو سننے اور دیکھنے والے دونوں کو محظوظ کرتا تھا۔
قارئین، ماہ جبین قزلباش کی شخصیت بھی اُن کے فن کی طرح منفرد تھی۔ وہ نہ صرف ایک عظیم گلوکارہ بلکہ ایک محبت کرنے والی والدہ اور خاندان کی مضبوط رکن بھی تھیں۔ 1980ء کے عشرے میں انہوں نے معروف پشتو فلم ہیرو ایمل خان سے شادی کی اور ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں اپنے گھر اور فن کے درمیان توازن قائم رکھا۔
اُن کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی ایوارڈ "Pride of Performance” بھی دیا، جب کہ سامعین نے محبت اور عقیدت کے طور پر انہیں "بلبلِ سرحد” کا لقب دیا۔ یہ لقب اُن کی فن کارانہ مہارت اور آواز کی دل فریبی کا لازوال عکاس تھا۔
بدقسمتی سے ماہ جبین قزلباش طویل علالت کے بعد 26 فروری 2020ء کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ اُن کی عمر تقریباً 62 سال تھی۔ اُن کی وفات نے پشتو موسیقی اور ثقافتی حلقوں میں گہرے دُکھ کا سبب بنی، مگر اُن کی یاد، اُن کے گانے اور اُن کی آواز آج بھی ہر اُس شخص کے دل میں زندہ ہیں جو موسیقی میں خلوص اور احساس تلاش کرتا ہے۔
قارئین، ماہ جبین قزلباش کی زندگی اور فن ایک مکمل داستان ہے جو محبت، جدوجہد، ثقافتی ہم آہنگی اور آواز کی سچائی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اُن کی آواز نے ہر دل کو چھوا اور ہر گانے میں جذبات کی مکمل تصویر پیش کی۔ آج بھی اُن کے گانے سنتے ہوئے سامعین کو احساس ہوتا ہے کہ ماہ جبین قزلباش کی موسیقی میں وہ خلوص اور جذبات ہیں جو وقت کے ساتھ اور زیادہ قیمتی ہوتے چلے جائیں گے۔ وہ نہ صرف پشتو بلکہ پاکستان کی موسیقی کی تاریخ میں ہمیشہ ایک روشن باب کے طور پر زندہ رہیں گی۔
__________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔