میاں گل عدنان اورنگ زیب، خدمت اور شرافت کی علامت

سوات کی سرزمین صدیوں سے ایسی شخصیات کو جنم دیتی رہی ہے جنہوں نے اقتدار کو خدمت اور سیاست کو اخلاقیات کے ساتھ جوڑ کر عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انہی روشن ناموں میں ایک نام میاں گل عدنان باچا کا بھی ہے، جو ریاستِ سوات کے شاہی خاندان کے معزز فرد، تعلیم یافتہ انجینئر، باوقار سیاست دان اور عوام دوست شخصیت تھے۔ وہ محض ایک سیاسی ورثے کے وارث نہیں تھے بلکہ اپنی ذاتی صلاحیت، کردار اور خدمات کے ذریعے خود ایک پہچان بنے۔
قارئین، میاں گل عدنان باچا 11 جنوری 1960ء کو ریاستِ سوات میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق اس خاندان سے تھا جس نے ریاستِ سوات کے دور میں تعلیم، نظم و نسق اور سماجی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی۔ ان کے دادا میاں گل جہان زیب ریاستِ سوات کے آخری حکم ران تھے، جنہوں نے سوات کو جدید تعلیمی اداروں، سڑکوں اور ایک منظم نظامِ حکومت سے روشناس کرایا۔ ان کے والد میاں گل اورنگ زیب بھی پاکستان کے ممتاز سیاست دانوں میں شمار ہوتے تھے اور خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے گورنر رہ چکے تھے۔ اس خاندانی پس منظر نے عدنان باچا کی شخصیت میں وقار، ذمے داری اور عوامی خدمت کا جذبہ راسخ کر دیا۔ تعلیم کے میدان میں بھی انہوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ ابتدائی تعلیم سوات میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایچی سن کالج لاہور سے تعلیم مکمل کی اور بعد ازاں امریکہ کی ایک معروف یونی ورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم نے ان کے وژن کو وسیع کیا اور انہیں جدید سوچ سے آشنا کیا، جس کا اثر بعد میں ان کی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں نظر آیا۔
قارئین، میاں گل عدنان باچا کے بھائی بھی اپنے اپنے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب اسلام آباد ہائی کورٹ اور آج کل سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پرخدمات انجام دے رہے ہیں۔ جب کہ دوسرا بھائی ڈاکٹر میاں گل محمود اورنگ زیب خیبر میڈیکل کالج پشاور میں ڈین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یوں یہ خاندان سیاست، عدلیہ اور طب جیسے اہم شعبوں میں قومی خدمت کی علامت بن کر ابھرا۔ ازدواجی تعلق کے اعتبار سے بھی عدنان باچا ایک معروف سیاسی گھرانے سے وابستہ تھے۔ ان کے سسر گوہر ایوب خان پاکستان کے ممتاز سیاست دان اور وفاقی وزیر رہ چکے تھے، جب کہ اس رشتے کے ذریعے وہ سابق صدرِ پاکستان ایوب خان کے خاندان سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ یہ تمام رشتے محض سیاسی طاقت کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی سطح پر خدمت، وقار اور ذمہ داری کی ایک مضبوط روایت کی نمائندگی کرتے تھے جس کا اثر میاں گل عدنان باچا کی شخصیت میں بھی واضح طور پر جھلکتا تھا۔
قارئین، سیاست میں میاں گل عدنان باچا نے باقاعدہ عملی کردار 1997ء کے عام انتخابات میں ادا کیا جب وہ قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔ بطورِ رکنِ اسمبلی انہوں نے سوات کے عوام کے مسائل کو ایوان تک پہنچایا اور علاقے کی ترقی کے لیے آواز بلند کی۔ ان کی سیاست میں شور و غوغا کم اور کام زیادہ تھا۔ وہ نمائشی بیانات کے بہ جائے عملی خدمت پر یقین رکھتے تھے۔ سڑکوں، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں بہتری کے لیے ان کی کوششیں آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ لیکن میاں گل عدنان باچا کی اصل پہچان صرف سیاسی عہدہ نہیں بلکہ ان کی شخصیت کا حسن تھا۔ وہ نرم گفتار، شائستہ، عاجز اور انتہائی ملنسار انسان تھے۔ شاہی خاندان سے تعلق کے باوجود ان میں غرور کا شائبہ تک نہ تھا۔ عام آدمی سے اس طرح ملتے جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ سوات کے بزرگ ہوں یا نوجوان، سب ان کے اخلاق اور خلوص کے معترف تھے۔
سماجی اور ثقافتی میدان میں بھی ان کا کردار اہم رہا۔ وہ سوات کے تاریخی ورثے، قدیم آثار اور ثقافت کے تحفظ کے خواہاں تھے۔ بدھ مت دور کے آثار سے لے کر ریاستِ سوات کی تاریخی شناخت تک، وہ اس خطے کی تاریخ کو زندہ رکھنے میں دل چسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے مختلف تحقیقی اور ثقافتی سرگرمیوں کی سرپرستی کی اور سوات کی تہذیبی پہچان کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی۔
قارئین، موصوف 30 مئی 2022ء کو ہری پور یونی ورسٹی میں ایک تقریب سے واپس آرہے تھے کہ ایک افسوس ناک ٹریفک حادثے میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات کی خبر نے سوات ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں افسوس کی لہر دوڑا دی۔ ان کی نمازِ جنازہ میں عوام کا جمِ غفیر اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں بسنے والی شخصیت تھے۔
میاں گل عدنان باچا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت عہدے میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ انہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد کے بہ جائے عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا اور خاندانی ورثے کو محض نام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ذمے داری سمجھ کر نبھایا۔ موصوف سوات کی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جس میں شرافت، خدمت اور وقار ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی خدمات، اخلاق اور یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ سوات کے لوگوں کے دلوں میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا رہے گا اور آنے والی نسلیں انہیں ایک مثالی عوامی راہ نما کے طور پر یاد کریں گے۔
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔