افسر خان، پشتو فن کار کی بے قدری کی ایک تلخ مثال

فن کار کسی بھی معاشرے کا وہ قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو اپنے فن کے ذریعے لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرتے اور دلوں کے بوجھ ہلکے کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں فن کو تو سراہا جاتا ہے مگر فن کار کو اکثر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ پشتو ڈرامہ انڈسٹری میں افسر خان کی زندگی اسی تلخ حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے۔ ایک ایسا فن کار جس نے عمر بھر لوگوں کو ہنسایا، مگر خود زندگی کے آخری لمحوں تک دُکھ، بیماری اور محرومی کا شکار رہا۔
افسر خان کے کے والد کا نام حیات کاکاجی تھا۔ موصوف نے تقریباً پچیس برس پشتو سی ڈی ڈراموں میں گزارے۔ وہ مزاحیہ اداکاری میں خاص شہرت رکھتے تھے، مگر ساتھ ہی سنجیدہ اور جذباتی کردار بھی بڑی مہارت سے نبھاتے تھے۔ انہوں نے سیکڑوں پشتو ڈراموں میں کام کیا اور ہر کردار میں اپنی فطری اداکاری سے جان ڈال دی۔ ان کی کامیڈی محض ہنسانے تک محدود نہیں ہوتی تھی بلکہ اس میں زندگی کی تلخ حقیقتوں کی جھلک بھی شامل ہوتی تھی، جس کی وجہ سے لوگ ان کے فن سے گہرا تعلق محسوس کرتے تھے۔
قارئین، انہوں نے اپنی جوانی کے وہ قیمتی سال جو عموماً لوگ کاروبار بنانے اور مستقبل محفوظ کرنے میں لگاتے ہیں، پشتو فن اور پختون قوم کی خوشیوں کے لیے وقف کر دیے۔ مگر افسوس کہ اس محنت کا صلہ انہیں عزت اور سہارا دینے کے بہ جائے اکثر مذاق اور ذلت کی صورت میں ملا۔ یوسف جان کے پروگرام "عام اولس” میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دل گرفتہ لہجے میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنی جوانی اور کاروبار بنانے کے دن پختونوں کی خوشیوں پر قربان کیے، مگر بدلے میں انہیں محرومی ہی نصیب ہوئی۔ موصوف نے کلچر ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی حکومت سے بھی شدید شکوہ کیا تھا۔ ان کے مطابق کورونا وبا کے دوران میں بیرونِ ممالک سے فن کاروں کے لیے امدادی رقوم آئیں، جن میں سے تین لاکھ روپے ان کے حصے میں آتے تھے۔ انہوں نے دو مرتبہ تمام کاغذات جمع کروائے، مگر ہر بار کلچر ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے ان کے کاغذات ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے اور انہیں ایک روپیہ تک نہ ملا۔ یہ رویہ نہ صرف ناانصافی کی بدترین مثال ہے بلکہ فن کار طبقے کے ساتھ ہونے والے مسلسل استحصال کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح زندگی کے آخری دنوں میں افسر خان کرائے کے ایک معمولی گھر میں رہتے تھے، جس کا سات ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرنا بھی ان کے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔ وہ کئی بار بھوکے رہ کر کرائے کے پیسے جمع کرتے تاکہ چھت ان کے سر پر قائم رہ سکے۔ ان کے گھریلو حالات بھی نہایت دردناک تھے۔ ان کا ایک بیٹا فیصل پیدائشی معذور تھا، جس کے علاج کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے خود کہا تھا کہ اگر وسائل ہوتے، تو شاید ان کا بیٹا آج معذور نہ ہوتا۔ دوسرا بیٹا دل کے مرض میں مبتلا تھا اور اس کے دل میں سوراخ تھا۔ ایک ڈرامے میں انہوں نے یہی کردار نبھایا تھا۔ مگر بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ کردار انہوں نے محض اداکاری کے لیے نہیں بلکہ اپنے بیٹے کے درد کو محسوس کر کے نبھایا تھا۔
قارئین، افسر خان کے کل سات بچے تھے جن میں چار بیٹیاں اور تین بیٹے شامل تھے۔ ان کا بڑا بیٹا کرائے پر رکشہ چلاتا تھا، مگر دو ماہ سے رکشہ خراب ہونے کے باعث وہ بھی بے روزگار تھا کیوں کہ مرمت کے لیے پیسے نہیں تھے۔ یوں پورا خاندان فاقہ کشی اور مشکلات میں گھرا ہوا تھا۔ انہوں نے پشتو ڈرامہ انڈسٹری کے معروف ایکٹرز اور ڈائریکٹرز سے بھی شکوہ کیا کہ بیماری کے دنوں میں کسی نے تیمارداری تک کی زحمت نہ کی، مالی مدد تو بہت دور کی بات ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ انہوں نے برسوں کام کیا، وہ سب خاموش تماشائی بنے رہے۔ یہ رویہ اس انڈسٹری کے اندر موجود بے حسی کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔
قارئین، شوگر جیسے موذی مرض نے ان کی صحت کو شدید متاثر کیا اور ان کے پاؤں خراب ہو گئے تھے، جس سے وہ چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہے۔ حالات نے انہیں اس حد تک مجبور کر دیا کہ وہ زندگی کے آخری دنوں میں گنڈیریاں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ منظر ایک عظیم فن کار کی بے بسی کا ایسا دردناک اظہار تھا جو ہر صاحبِ دل کو رلا دینے کے لیے کافی ہے، مگر افسوس کہ بعض لوگوں نے ہمدردی کے بہ جائے اس پر مذاق اڑایا۔
قارئین، پشتو سی ڈی ڈراموں میں مزاحیہ اداکاری کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے یہ نامور اداکار افسر خان 08 جنوری 2024ء کو طویل علالت کے بعد بہ رضائے الٰہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ اسی روز بہ روزِ پیر پشاور کے علاقے باڑہ گیٹ میں حجرہ امتیاز میں ادا کی گئی، جہاں بڑی تعداد میں اہلِ علاقہ، فن کار برادری اور مداحوں نے شرکت کر کے انہیں نم آنکھوں سے الوداع کہا۔
قارئین، افسر خان کی زندگی ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم فن کار کو صرف تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں، انسان نہیں۔ ان کی کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے فن اور ثقافت سے محبت کرتے ہیں یا صرف اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں…؟ اگر ہم نے آج بھی اپنے رویّے نہ بدلے، تو آنے والے وقت میں نہ جانے کتنے افسر خان اسی طرح غربت، بیماری اور تنہائی میں دم توڑ دیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت، ادارے اور معاشرہ مل کر فن کاروں کے لیے عملی اقدامات کریں، تاکہ وہ عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
__________________________________
یہ تحریر افسر خان کی دوسری برسی کے موقع پر خصوصی طور پر ابدالی ڈاٹ کام کی جانب سے شائع کی جا رہی ہے۔ ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔