مولانا بجلی گھر، عوامی منبر کی گرج دار آواز

خیبر پختون خوا کی سرزمین نے جن قد آور شخصیات کو جنم دیا، انہوں نے نہ صرف مذہبی میدان میں بلکہ سماجی اور سیاسی شعور کی بیداری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نام مولانا محمد امیر المعروف مولانا بجلی گھر کا ہے، جن کی آواز دہائیوں تک پشاور اور گردونواح میں حق گوئی، طنز اور اصلاح کا استعارہ بنی رہی۔ وہ محض ایک خطیب نہیں تھے بلکہ عوامی دلوں کی دھڑکن اور معاشرتی برائیوں کے خلاف ایک توانا احتجاج تھے۔ ان کی گفتگو میں سادگی بھی تھی، کاٹ بھی اور اثر بھی۔ عوام انہیں صرف سنتے نہیں تھے بلکہ محسوس کرتے تھے، اسی لیے ان کا ہر بیان دلوں پر نقش ہو جاتا تھا۔
قارئین، مولانا محمد امیر بجلی گھر کی پیدائش کے حوالے سے محققین میں دو آراء ہیں۔ رضوان جلیل کے مطابق وہ 1927ء میں درہ آدم خیل کی ذیلی شاخ اخوروال کے ایک گاؤں بلاقی خیل میں خان میر (مرحوم) کے ہاں پیدا ہوئے۔ دوسری جانب گل محمد بیتابؔ اپنی کتاب "دَ دستار سڑی” میں ان کی تاریخِ پیدایش 1934ء درج کرتے ہیں۔ مولانا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور بعد میں ان کے والدین تلاشِ معاش کے سلسلے میں اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر پشاور منتقل ہو گئے۔ یہاں ان کے دادا اور والد محترم ایم ای ایس (MES) پشاور صدر بجلی گھر میں لائن مین کے طور پر بھرتی ہوئے۔ یہی وہ نسبت تھی جو بعد میں مولانا کی پہچان بنی۔ دینی تعلیم دارالعلوم سرحد پشاور سے حاصل کرنے کے بعد مولانا ایوب جان بنوری نے انہیں اپنے مدرسے میں مدرس مقرر کیا اور ساتھ ہی 26 روپے ماہانہ کے عوض بجلی گھر مسجد میں پیش امام کی ذمے داری سونپی، جہاں وہ 22 سال تک خدمات انجام دیتے رہے اور عوام میں "بجلی گھر ملا” کے طور پر مشہور ہو گئے۔
ان کی خطابت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ معاشرے کا آئینہ ہوتیں۔ وہ حکم رانوں کی ناانصافی، معاشرتی منافقت اور عوامی غفلت پر کھل کر تنقید کرتے۔ ان کا طنزیہ انداز ان کی شخصیت کا سب سے منفرد پہلو تھا۔ وہ بات کو ہنسی میں کہتے مگر نشانہ سیدھا برائی پر لگتا۔ ان کا یہ جملہ کہ "ہمارے حکم ران مسجد کی گھڑی جیسے ہیں۔ وقت سب کو بتاتی ہے مگر خود کبھی صحیح نہیں ہوتی” آج بھی مشہور ہے۔ سیاسی طور پر وہ جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ رہے اور مولانا مفتی محمود کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ 1969ء میں انہوں نے صوبائی نائب امیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
قارئین، مولانا کی سیاسی بصیرت کا ایک شاہکار واقعہ اُس وقت پیش آیا جب عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان نے کالا باغ ڈیم کے خلاف تحریک کا آغاز کیا اور ایک کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا بجلی گھر نے جب مائیک سنبھالا، تو انہوں نے اس پیچیدہ فنی مسئلے کو ایک ایسی مثال سے واضح کیا کہ ماہرین بھی دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اپنے مخصوص برجستہ انداز میں فرمایا کہ "یہ ولی خان کالا باغ ڈیم کی مفت مخالفت نہیں کر رہے۔ ہمیں تو اس منصوبے کے منفی اثرات کا پہلے کچھ خاص علم نہیں تھا، لیکن مجھے شروع ہی سے یہ خدشہ تھا کہ کہیں ہم انسان سے تبدیل ہو کر مینڈک نہ بن جائیں۔ ایک طرف ورسک ڈیم ہوگا، دوسری طرف تربیلا اور اب درمیان میں یہ کالا باغ ڈیم، سو ان سب کے بیچ رہ کر ہم شاید مینڈک ہی بن جائیں۔” اس جملے کے پیچھے وہ گہرا جغرافیائی خوف تھا کہ اگر پشاور اور نوشہرہ کی وادیوں کے گرد ڈیموں کا جال بچھ گیا اور پانی کی سطح بلند ہوئی، تو یہ پورا علاقہ ایک دلدل یا جھیل بن جائے گا جہاں انسانوں کے لیے نہیں بلکہ مینڈکوں کے لیے جگہ بچے گی۔ مجمع پہلے تو قہقہوں سے گونج اُٹھا، مگر پھر ہر شخص اس طنز کی گہرائی کو سمجھ گیا کہ بڑے ترقیاتی منصوبے اگر عوامی مفاد کے خلاف ہوں، تو وہ انسانی آبادیوں کو مسخ کر سکتے ہیں۔
قارئین، اسی طرح مولانا صاحب کی حاضر جوابی کے قصے آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ ایک بار جب کسی نے انہیں "گل پاشی” (سخت زبان) سے اجتناب کرنے کو کہا، تو انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ "پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ اجمعین جیسی ہستیاں بیٹھا کرتی تھیں جب کہ میرے سامنے آپ جیسے نمونے بیٹھتے ہیں۔” اسی طرح آرمی سٹیڈیم پشاور کے پارک میں جب ایک مسلح سپاہی نے انہیں نماز پڑھنے سے روکا اور مقتدی خوف زدہ ہو کر بھاگ گئے، تو مولانا نے کمالِ اطمینان سے چادر اُٹھائی اور سپاہی سے کہا کہ "برخوردار، جیسی قوم، ویسا ملا… چلتے ہیں۔” ایک اور موقع پر جب کسی نے طنزیہ پوچھا کہ کیا آپ کبھی جہادِ کشمیر پر گئے ہیں، تو انہوں نے پھر وہی جملہ دہرایا کہ جیسی قوم ہوتی ہے، ویسا ہی ان کا ملا ہوتا ہے۔
ان کی شخصیت کا سب سے متاثر کن اور ایمان افروز پہلو ان کا وہ جذبہِ درگزر ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ایک بار ان کے پاس ان کے آبائی گاؤں کا ایک لڑکا پڑھنے آیا۔ جب مولانا کو معلوم ہوا کہ اس لڑکے کا دادا "زین گل” وہی شخص ہے جس نے مولانا کے والد کے سینے میں پانچ گولیاں اتار کر انہیں بے دردی سے قتل کیا تھا، تو مولانا پر گویا بجلی گر پڑی۔ مگر انہوں نے کمالِ ضبط کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس لڑکے کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور مولانا حسن جان کے مدرسے میں داخل کرایا۔ مولانا حسن جان سے تاکید کی کہ اس کی تربیت میں غفلت نہ ہو کیوں کہ اس کے دادا نے میرے والد کو قتل کیا تھا۔ یہ سن کر مولانا حسن جان پکار اُٹھے کہ "آپ جیسا ایمان سب کو نصیب ہو۔”
قارئین، 30 دسمبر 2012ء کو یہ بے باک آواز خاموش ہو گئی۔ 31 دسمبر کو قیوم سٹیڈیم پشاور میں ان کا جنازہ ایک جمِ غفیر کی صورت میں ادا کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ صرف ایک عالم نہیں بلکہ عوام کے حقیقی ترجمان تھے۔ مولانا بجلی گھر نے منبر کو محض عبادت گاہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے معاشرتی اصلاح کا مرکز بنایا۔ ان کی سادگی، بے باکی اور طنزیہ حکمت نے انہیں صدیوں میں پیدا ہونے والی شخصیات کی صف میں کھڑا کر دیا۔ آج کے دور میں جب خطابت اکثر شور بن چکی ہے، مولانا بجلی گھر کی بصیرت بھری آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل طاقت سچ، اخلاص اور عوام سے جڑے ہونے میں ہے۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔