پشتو زبان و ثقافت کی تاریخ میں کچھ فن کار ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک دور تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسلوں کے حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ اخباری سرخیوں کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ ہی سوشل میڈیا کی تشہیر کے، بلکہ ان کا اصل سرمایہ عوام کی مسکراہٹ اور یادداشت ہوتی ہے۔ گل بالی انہی خاموش مگر گہرے اثرات چھوڑنے والے فن کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ایسا مزاحیہ اداکار جس نے اپنی سادگی، فطری اداکاری اور بے ساختہ مکالمہ گوئی سے پشتو مزاح کو ایک الگ پہچان دی، مگر خود زندگی بھر محرومیوں، بیماری اور بے توجہی کا شکار رہا۔
قارئین، گل بالی جن کا اصل نام مراد علی تھا، 1954ء میں پشاور کے علاقے بالا مانڑئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام میر علی تھا۔ پرائمری تک کی تعلیم بالا مانڑئی کے سرکاری سکول سے حاصل کی اور پھر محنت مزدوری شروع کی۔ ان کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا جہاں فن کو ذریعۂ روزگار بنانے کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ مگر گل بالی کے اندر قدرتی طور پر مزاح رچا بسا تھا۔ ان کے چہرے کے تاثرات، گفتگو کا انداز اور جسمانی حرکات عام آدمی سے اس قدر قریب تھیں کہ ناظر انہیں کردار نہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود کوئی جانا پہچانا شخص سمجھتا تھا۔ یہی ان کی اصل طاقت تھی۔
انہوں نے ایسے وقت میں پشتو ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھا جب نہ تو باقاعدہ سٹرکچر موجود تھا، نہ مالی تحفظ، اور نہ ہی فن کاروں کے لیے کوئی فلاحی نظام۔ ان کا پہلا ڈرامہ "رنگ پہ رنگ” تھا جس میں ان کا نام گل بالی رکھا گیا، یوں وہ اصلی نام کے بجائے اس نام سے مشہور ہو گئے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے پشتو کی آٹھ فلموں میں بھی اداکاری کی، جن میں جوش، انتقام اور سلطانی گواہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے باوجود گل بالی نے چار دہائیوں پر محیط طویل فنی سفر طے کیا۔ اس دوران میں انہوں نے ٹی وی ڈراموں، سٹیج شوز، سی ڈی ڈراموں اور ٹیلی فلموں میں چار سو سے زائد کردار ادا کیے۔ ان کی موجودگی کسی بھی ڈرامے کے لیے کشش کا باعث بن جاتی تھی، کیوں کہ ناظر جانتا تھا کہ گل بالی کا مطلب خالص، فطری اور شائستہ مزاح ہے۔
گل بالی کے فن کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ غیر اخلاقی، سطحی یا بازاری مزاح سے ہمیشہ گریز کرتے تھے۔ ان کا مزاح گالی، چیخ و پکار یا مصنوعی حرکات پر مبنی نہیں ہوتا تھا بلکہ روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں، سماجی تضادات اور عام انسان کی معصوم کمزوریوں کا آئینہ دار ہوتا تھا۔ وہ اس فن کو جانتے تھے کہ کب خاموشی زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور کب ایک سادہ سا جملہ پورے منظر کو یادگار بنا دیتا ہے۔
پشتو ڈراموں میں اسماعیل شاہد کے ساتھ گل بالی کی شراکت ایک یادگار باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں فن کاروں کی جوڑی میں ایک قدرتی توازن تھا۔ اسماعیل شاہد کی برجستگی اور مکالماتی پھرتی کے مقابل گل بالی کی سادہ، معصوم اور قدرے خاموش اداکاری ناظر کو زیادہ متاثر کرتی تھی۔ ان کے مشترکہ ڈراموں میں مزاح زبردستی مسلط نہیں ہوتا تھا بلکہ منظر کی فطری روانی سے جنم لیتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی جوڑی کو پشتو مزاح کی کامیاب ترین جوڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
گل بالی کے فنی سفر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ان کے زیادہ تر مشہور کام کسی ایک باقاعدہ ٹائٹل کے بجائے موضوع، کردار اور تاثر کے حوالے سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ پختون سماج کے حجرہ کلچر پر مبنی ڈراموں میں وہ ایک ایسے خاموش مگر بامعنی کردار کے طور پر ابھرتے تھے جو کم بول کر بھی پورے منظر پر حاوی ہو جاتا تھا۔ یہی انداز ان کے اُن سی ڈی ڈراموں میں بھی نظر آتا ہے جنہیں عوام آج تک باقاعدہ نام کے بجائے "گل بالی اور اسماعیل شاہد والے ڈرامے” کہہ کر یاد کرتے ہیں، جہاں دونوں کی فطری ہم آہنگی نے دوستی، سادہ لوحی اور سماجی طنز کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح سٹیج اور محفل ٹائپ ڈراموں میں گل بالی اکثر سادہ دیہاتی، مظلوم ملازم یا چالاک کرداروں کے درمیان پسے ہوئے عام آدمی کا روپ دھارتے تھے، جن کے مکالمے کم مگر ٹائمنگ اتنی بھر پور ہوتی تھی کہ پورا منظر انہی کے نام ہو جاتا۔ محدود تعداد کے باوجود پی ٹی وی پشاور کے لیے کیے گئے ان کے مزاحیہ سکیچز بھی 1990ء کی دہائی کے ناظرین کے ذہنوں میں آج تک محفوظ ہیں، جب کہ خاندانی نوعیت کے سی ڈی ڈراموں میں ساس بہو، بھائی بند اور رشتہ داریوں جیسے موضوعات پر ان کی اداکاری اس بات کا ثبوت تھی کہ گل بالی کا فن شور نہیں مچاتا بلکہ آخر میں ایک سادہ جملے سے پورے منظر کو چرا لینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
قارئین، فن کے ساتھ ساتھ گل بالی کی ذاتی شخصیت بھی قابلِ احترام تھی۔ وہ شہرت کے باوجود نہایت سادہ مزاج، کم گو اور منکسرالمزاج انسان تھے۔ نہ محفلوں کے شوقین، نہ خود نمائی کے قائل تھے۔ وہ وقت پر سیٹ پر آتے، خاموشی سے اپنا کام کرتے اور بغیر کسی شکایت کے واپس چلے جاتے۔ فن کار برادری میں انہیں ایک شریف النفس اور بااخلاق انسان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جو اپنے فن سے مخلص تھا مگر دنیاوی چالاکیوں سے ناواقف تھے۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی روایت کے مطابق گل بالی کی اصل آزمائش ان کے بڑھاپے اور بیماری کے دنوں میں شروع ہوئی۔ وہ طویل عرصے تک ہیپاٹائٹس سی اور دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا رہے۔ علاج مہنگا تھا، آمدن محدود، اور سرکاری یا ادارہ جاتی سرپرستی نہ ہونے کے برابر تھی۔ یوں وہ فن کار جس نے زندگی بھر لوگوں کو ہنسایا، خود تکلیف میں خاموشی سے جیتا رہا۔ 28 جون 2014ء کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات پر وقتی تعزیتی بیانات تو آئے، مگر وہ سوال بدستور زندہ رہا کہ اگر یہی فن کار کسی اور معاشرے میں ہوتا، تو کیا اس کا انجام ایسا ہی ہوتا…؟
گل بالی اپنے پیچھے ایک بیوہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی کو چھوڑ گئے، اور ساتھ ہی پشتو مزاح کا ایک ایسا خلا بھی جسے پُر کرنا آسان نہیں۔ ان کا اصل المیہ یہ تھا کہ انہیں ان کی زندگی میں وہ عزت، تحفظ اور سہولت میسر نہ آ سکی جس کے وہ حق دار تھے۔ مگر اس کے باوجود، ان کا فن آج بھی سکرین پر، اسٹیج کی یادوں میں اور عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔
قارئین، گل بالی محض ایک مزاحیہ اداکار نہیں تھے بلکہ پشتو سماج کی سادہ روح، خاموش درد اور شائستہ مزاح کی علامت تھے۔ وہ قہقہوں کے سوداگر ضرور تھے، مگر ان کے قہقہوں کے پیچھے ایک ایسی زندگی تھی جو جدوجہد، محرومی اور صبر سے عبارت تھی۔ گل بالی آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کا فن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل فن کار وہ ہوتا ہے جو شور کے بغیر بھی دیرپا اثر چھوڑ جائے۔
__________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: